- کتاب فہرست 182695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1605 صحت105 تاریخ3306طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1717 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4778 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4263خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1267
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1607
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4888
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت588
- نظم1217
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
کوثر نقوی کا تعارف
آپ کا نام سیدعلی کوثرنقوی اور تخلّص کوثرؔ نقوی ہے. آپ کا خاندان و اسلاف علوم و فنون کا گلستانِ صدرنگ تھا. آپ کا آبائی تعلّق امروہہ اترپردیش سے ہے. آپ کے والد قاضی سید سخی حسن نقوی المعروف عارف امروہوی قادر الکلام شاعر اور دادا علی حسن نقوی المعروف عاجز امروہوی بھی کہنہ مشق شاعر اور کمال کے خوش نویس تھے. آج بھی امروہہ کی امام بارگاہ میں شیشے پر عاجز امروہوی کی خطاطی کے نمونے آویزاں ہیں. عاجز امروہوی کے بڑے بھائی ولی امروہوی بھی ایک قادرالکلام شاعر تھے. اس ماحول میں کوثرنقوی کی پرورش ہوئی جہاں ادب شناسی اور لسانیات کو بہت اہمیت دی جاتی تھی. کوثر نقوی کے نانا مولانا سید یوسف حسین تقوی مجتہد المعروف یوسفِ ملّت نجف سے فارغ التحصیل تھے. جن کی خدمات اُن کے دارِ عُقبیٰ کے سفر کے بعد بھی قابلِ ذکر ہیں. کوثرنقوی کےچچا جلی امروہوی جوکہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ، ایک انتہائی قادرالکلام اور صاحب دیوان شاعر تھے۔
کوثرنقوی نے ابتدائی تعلیم کراچی کے علاقے کورنگی کے سرکاری اسکول سے حاصل کی. بعداز اسکول نوکری کےساتھ ساتھ گریجویشن کی سند کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی. آپ ۲۷سال مُسلم کمرشل بینک سے وابستہ رہے بعدازاں انہوں نے گولڈن ہینڈشیک لینے کر سرسید یونیورسٹی سے منسلک ہونے کو ترجیح دی اورتاحال اس سے وابستہ ہیںآپ نے شاعری کی ابتداء ولائی شاعری سے کی. آپ اپنے والد اور چچا کے ساتھ مسلسل غزل کی نشستوں میں بھی پیش پیش رہے. آپ نے رثائی ادب میں بھی مرثیہ گوئی کی اور اس صنف میں کئی نمایاں تخلیقی کام کیا۔جو پاکستان ٹیلی ویژن اور کئی پرائیویٹ چینلز پر کئی سال نشر ہوتارہا۔ کوثر نقوی کو مصرعہء تاریخ کہنے میں کمال حاصل ہے۔ سیکٹروں قطہائے تاریخ تخلیق کیے جو کتابی شکل میں بھی محفوظ ہیں. آپ صحافتی قطعہ نگاری میں بھی کرتے رہے اور رئیس امروہوی کے بعد امروہہ میں آپ کا نام نمایاں ہے. آپ کی شاعرانہ تخلیقات میں اب تک آٹھ مجموعے ہیں جس میں سے تین مطبوعہ اور باقی غیر مطبوعہ ہیں جو انشاءاللہ بہت جلد قارئین کی نذر کی جائینگی.
کوثر نقوی کو کئی اعلٰی و عرفہ شعراء نے سراہا، جس میں منیر نیازی ، قتیل شفائی ، احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر بشیر بدر ، امجد اسلام امجد جیسے پُختہ کار شعراء شامل ہیں.
کوثر نقوی کو کئی ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا جس میں سرِفہرست انجمن تسکینِ ذوق پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہے جو ۲۰۲۱ میں ادبی خدمات کے عوض نوازا گیا.
کوثر نقوی اس وقت اپنی عمر کی ستّر بہاریں دیکھ چکے ہیں اور الحمداللہ صحت و سلامتی کے ساتھ ادب کی خدمت کررہے ہیں . اللہ اُن کا سایہ ہم پر قائم رکھے اور ایسے ہی ہم اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے رہیں .
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
-
