- کتاب فہرست 179598
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
کوثر نقوی کا تعارف
آپ کا نام سیدعلی کوثرنقوی اور تخلّص کوثرؔ نقوی ہے. آپ کا خاندان و اسلاف علوم و فنون کا گلستانِ صدرنگ تھا. آپ کا آبائی تعلّق امروہہ اترپردیش سے ہے. آپ کے والد قاضی سید سخی حسن نقوی المعروف عارف امروہوی قادر الکلام شاعر اور دادا علی حسن نقوی المعروف عاجز امروہوی بھی کہنہ مشق شاعر اور کمال کے خوش نویس تھے. آج بھی امروہہ کی امام بارگاہ میں شیشے پر عاجز امروہوی کی خطاطی کے نمونے آویزاں ہیں. عاجز امروہوی کے بڑے بھائی ولی امروہوی بھی ایک قادرالکلام شاعر تھے. اس ماحول میں کوثرنقوی کی پرورش ہوئی جہاں ادب شناسی اور لسانیات کو بہت اہمیت دی جاتی تھی. کوثر نقوی کے نانا مولانا سید یوسف حسین تقوی مجتہد المعروف یوسفِ ملّت نجف سے فارغ التحصیل تھے. جن کی خدمات اُن کے دارِ عُقبیٰ کے سفر کے بعد بھی قابلِ ذکر ہیں. کوثرنقوی کےچچا جلی امروہوی جوکہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ، ایک انتہائی قادرالکلام اور صاحب دیوان شاعر تھے۔
کوثرنقوی نے ابتدائی تعلیم کراچی کے علاقے کورنگی کے سرکاری اسکول سے حاصل کی. بعداز اسکول نوکری کےساتھ ساتھ گریجویشن کی سند کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی. آپ ۲۷سال مُسلم کمرشل بینک سے وابستہ رہے بعدازاں انہوں نے گولڈن ہینڈشیک لینے کر سرسید یونیورسٹی سے منسلک ہونے کو ترجیح دی اورتاحال اس سے وابستہ ہیںآپ نے شاعری کی ابتداء ولائی شاعری سے کی. آپ اپنے والد اور چچا کے ساتھ مسلسل غزل کی نشستوں میں بھی پیش پیش رہے. آپ نے رثائی ادب میں بھی مرثیہ گوئی کی اور اس صنف میں کئی نمایاں تخلیقی کام کیا۔جو پاکستان ٹیلی ویژن اور کئی پرائیویٹ چینلز پر کئی سال نشر ہوتارہا۔ کوثر نقوی کو مصرعہء تاریخ کہنے میں کمال حاصل ہے۔ سیکٹروں قطہائے تاریخ تخلیق کیے جو کتابی شکل میں بھی محفوظ ہیں. آپ صحافتی قطعہ نگاری میں بھی کرتے رہے اور رئیس امروہوی کے بعد امروہہ میں آپ کا نام نمایاں ہے. آپ کی شاعرانہ تخلیقات میں اب تک آٹھ مجموعے ہیں جس میں سے تین مطبوعہ اور باقی غیر مطبوعہ ہیں جو انشاءاللہ بہت جلد قارئین کی نذر کی جائینگی.
کوثر نقوی کو کئی اعلٰی و عرفہ شعراء نے سراہا، جس میں منیر نیازی ، قتیل شفائی ، احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر بشیر بدر ، امجد اسلام امجد جیسے پُختہ کار شعراء شامل ہیں.
کوثر نقوی کو کئی ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا جس میں سرِفہرست انجمن تسکینِ ذوق پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہے جو ۲۰۲۱ میں ادبی خدمات کے عوض نوازا گیا.
کوثر نقوی اس وقت اپنی عمر کی ستّر بہاریں دیکھ چکے ہیں اور الحمداللہ صحت و سلامتی کے ساتھ ادب کی خدمت کررہے ہیں . اللہ اُن کا سایہ ہم پر قائم رکھے اور ایسے ہی ہم اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے رہیں .
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
