- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
خالد فتح محمد کے افسانے
خود فریبی
پل پار کرنے کے بعد گلیانہ کو جانے والی سڑک پر واقع نصیرہ میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک لمبی اور تنگ گلی ہے جس کے دونوں کناروں پر ’’آؤٹ آف باؤنڈ‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عملداری کے لیے دو بجے کے بعد ملٹری پولیس کا ایک ایک سپاہی دونوں سروں پر کھڑا
ہم وہاں ہیں ،جہاں۔۔۔
وہ میرے سامنے کھڑی تھی، اس سائے کی طرح جسے ایک وجود کی ضرورت ہوتی ہے یااس موسم کی طرح جو اگلے موسم کے انتظار میں خود کوبے بس کر دیتا ہے! میں دل کا حملہ ہونے تک معمول کی زندگی جی رہا تھا، اگر سماجی معاملات کو نظر میں رکھا جائے تو وہ ایک کامیاب زندگی
موت کا نیا رنگ
رات بہت ٹھنڈی اور تاریک تھی۔ تاریک شاید اسے لیے تھی کہ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اور ٹھنڈی اس لیے کہ اسے اگلے ہی موڑ پر اپنی موت نظر آرہی تھی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بیمار تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچا کرتا کہ بیماری کا روگ لگنے کے بجائے وہ مر جائے تو بہتر
کریدتے ہوجواب۔۔۔
عمریں بتانا ضروری نہیں! جب ہم ملے تھے تو وہ ایک نیم کھلے پھول کی طرح تھا؛ اس کے گال سرخ اور آنکھوں میں مستی بھری شرارت تھی۔ اس کی چال میں وقار بھرا ٹھہراؤ تھا جو عموماً اس عمر میں نہیں ہوا کرتا۔وہ عمر تو ایک باڑھ کی طرح پرشور اور ہنگاموں سے بھری ہوتی
دھنک
کہا جاتا ہے کہ سانپ کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ میں اپنا گھربار چھوڑکر ایسی منزلوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا جن سے میری شناسائی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ میں بستیوں میں گیا، دریاؤں کو عبور کیا، ویرانوں میں بستیوں کو تلاشا، پہاڑوں میں سکون کو مس کرنا چاہا
سول لائنز کا بھوت بنگلہ
انگریز راج میں فوج اور سیولین رہائشی علاقے علیحدہ علیحدہ بنائے گئے اور سیولین علاقے کو سول لائن کا نام دیا گیا۔ ہر سول لائن اپنے دور کا ایک پوش رہائشی علاقہ ہوتا تھا جہاں اس دور کی اشرافیہ رہتی تھی۔ ان لوگوں میں انگریز افسر،متمول ہندو اور سکھ خاندان
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
