- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
خالد فتح محمد کے افسانے
خود فریبی
پل پار کرنے کے بعد گلیانہ کو جانے والی سڑک پر واقع نصیرہ میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک لمبی اور تنگ گلی ہے جس کے دونوں کناروں پر ’’آؤٹ آف باؤنڈ‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عملداری کے لیے دو بجے کے بعد ملٹری پولیس کا ایک ایک سپاہی دونوں سروں پر کھڑا
ہم وہاں ہیں ،جہاں۔۔۔
وہ میرے سامنے کھڑی تھی، اس سائے کی طرح جسے ایک وجود کی ضرورت ہوتی ہے یااس موسم کی طرح جو اگلے موسم کے انتظار میں خود کوبے بس کر دیتا ہے! میں دل کا حملہ ہونے تک معمول کی زندگی جی رہا تھا، اگر سماجی معاملات کو نظر میں رکھا جائے تو وہ ایک کامیاب زندگی
موت کا نیا رنگ
رات بہت ٹھنڈی اور تاریک تھی۔ تاریک شاید اسے لیے تھی کہ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اور ٹھنڈی اس لیے کہ اسے اگلے ہی موڑ پر اپنی موت نظر آرہی تھی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بیمار تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچا کرتا کہ بیماری کا روگ لگنے کے بجائے وہ مر جائے تو بہتر
کریدتے ہوجواب۔۔۔
عمریں بتانا ضروری نہیں! جب ہم ملے تھے تو وہ ایک نیم کھلے پھول کی طرح تھا؛ اس کے گال سرخ اور آنکھوں میں مستی بھری شرارت تھی۔ اس کی چال میں وقار بھرا ٹھہراؤ تھا جو عموماً اس عمر میں نہیں ہوا کرتا۔وہ عمر تو ایک باڑھ کی طرح پرشور اور ہنگاموں سے بھری ہوتی
دھنک
کہا جاتا ہے کہ سانپ کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ میں اپنا گھربار چھوڑکر ایسی منزلوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا جن سے میری شناسائی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ میں بستیوں میں گیا، دریاؤں کو عبور کیا، ویرانوں میں بستیوں کو تلاشا، پہاڑوں میں سکون کو مس کرنا چاہا
سول لائنز کا بھوت بنگلہ
انگریز راج میں فوج اور سیولین رہائشی علاقے علیحدہ علیحدہ بنائے گئے اور سیولین علاقے کو سول لائن کا نام دیا گیا۔ ہر سول لائن اپنے دور کا ایک پوش رہائشی علاقہ ہوتا تھا جہاں اس دور کی اشرافیہ رہتی تھی۔ ان لوگوں میں انگریز افسر،متمول ہندو اور سکھ خاندان
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
