Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khan Mahboob Tarzi's Photo'

خان محبوب طرزی

1910 - 1960 | لکھنؤ, انڈیا

مقبول عام ناول نگار

مقبول عام ناول نگار

خان محبوب طرزی کا تعارف

اصلی نام : محبوب

پیدائش :لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 25 Jun 1960 | لکھنؤ, اتر پردیش

شناخت: مقبولِ عام ناول نگار، اور زود نویس ادیب

خان محبوب طرزی اردو کے اُن ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ان کا تعلق افغانستان کے تاتارزئی قبیلے سے تھا اور اسی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ ’’طرزی‘‘ لکھتے تھے۔ ان کے آبا و اجداد ہجرت کر کے لکھنؤ آ بسے تھے۔

خان محبوب طرزی 1910ء میں لکھنؤ کے محلہ حسین گنج میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ویسلی مشن اسکول میں حاصل کی اور بعد ازاں امیر الدولہ اسلامیہ کالج سے ہائی اسکول پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گئے جہاں سے بی۔ایس۔سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا اور ان کے افسانے اس زمانے کے ممتاز ادبی رسائل، جیسے زمانہ، نیرنگِ خیال، عالمگیر اور ماہنامہ ساقی میں شائع ہوتے رہے۔

خان محبوب طرزی کی عملی زندگی نہایت متنوع تجربات سے عبارت ہے۔ تعلیم کے بعد کچھ عرصہ علی گڑھ میں قفل سازی کے ایک کارخانے میں سپروائزر رہے، پھر فوج میں اسٹور کیپر مقرر ہوئے۔ فلمی دنیا میں بھی قسمت آزمائی کی، کلکتہ کی کاردار کمپنی میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کیا اور آر۔پی۔بھارگو کے ساتھ رقص و موسیقی کا پروگرام ’’پرستان‘‘ پیش کیا۔ کچھ مدت لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ رہے، بعد ازاں دہلی منتقل ہو گئے۔ 1941ء میں اس ملازمت کو چھوڑ کر دوبارہ فوج میں شامل ہوئے اور 1944ء میں یوپی ٹورنگ ڈرامہ کمپنی سے وابستہ ہو گئے جو فوجیوں کی تفریح کے لیے قائم تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سنی ٹون فلم کمپنی میں بھی کام کیا، مگر یہ تجربہ بھی دیرپا ثابت نہ ہوا۔ 1948ء میں ’’گاندھی کلا کیندر‘‘ کے نام سے اپنی فلم کمپنی قائم کی، لیکن یہاں بھی کامیابی نہ مل سکی۔

طرزی کی ادبی دل چسپیوں میں ترجمہ نگاری اور صحافت بھی شامل تھی۔ انھوں نے روزنامہ اودھ، اردو اور دیگر اخبارات میں کام کیا، لیکن بالآخر صحافت کو خیر باد کہہ کر خود کو مکمل طور پر ناول نگاری کے لیے وقف کر دیا۔ نسیم انہونوی کے ساتھ ان کی طویل وابستگی رہی اور نسیم بک ڈپو سے ان کے سب سے زیادہ ناول شائع ہوئے۔ 1933ء سے 1957ء تک ان کا تعلق نسیم بک ڈپو سے رہا، اگرچہ درمیان میں چند وقتی اختلافات بھی پیش آئے۔

لکھنؤ کے ادبی ماحول میں اس زمانے میں مائل ملیح آبادی، سلامت علی مہدی، نادم سیتاپوری، وحشت محمودآبادی، شوکت تھانوی اور مجاہد لکھنوی جیسے ناول نگار سرگرم تھے، اور نسیم بک ڈپو، مکتبہ کلیاں، ادارۂ فروغ اردو، پرواز بک ڈپو، ناول گھر اور علمستان جیسے اشاعتی ادارے فعال تھے۔ خان محبوب طرزی کی فن کاری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ناول نہ صرف متعدد اداروں سے شائع ہوئے بلکہ ان کی مقبولیت کے سبب کئی نئے اشاعتی ادارے بھی وجود میں آئے۔ 1957ء میں طرزی نے نسیم بک ڈپو چھوڑ کر ادارۂ فروغ اردو سے وابستگی اختیار کی۔

طرزی اپنی غیر معمولی زود نویسی کے لیے مشہور تھے۔ ان کے ناولوں کی مجموعی تعداد ہمیشہ اختلاف کا موضوع رہی ہے۔ کسی نے دو سو، کسی نے ڈھائی سو اور کسی نے اس سے بھی زیادہ تعداد بیان کی ہے۔

خان محبوب طرزی اردو کے اُن مقبولِ عام ناول نگاروں میں شامل ہیں جنھیں اگرچہ سنجیدہ ادبی تنقید میں محدود توجہ ملی، لیکن عوامی سطح پر ان کے ناول بے حد پڑھے گئے، بار بار شائع ہوئے اور اردو فکشن کی اشاعتی تاریخ میں ایک مستقل باب بن گئے۔

وفات: خان محبوب طرزی 1960ء میں وفات پا گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے