- کتاب فہرست 179741
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4296 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5829-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
خاقان ساجد کے افسانے
صحبت بہ اہل دل
میں بہت رنجیدہ تھا۔ باس سے دفتری معاملہ پر معمولی سی تکرار ہوئی تھی جس کی پاداش میں اس نے میرا تبادلہ مری سے ملتان کر دیا تھا۔ میری کیفیت اس شخص کی سی تھی جسے جنت سے دیس نکالا دے کر جہنم میں جھونکا جا رہا ہو۔ میں گذشتہ پانچ سال سے مری میں تعینات
شیدو
وہ کہنے لگا: ’’بھیرہ انکلیو تو ایک پرچھائیں ہے اس سندر شہر کی۔ رہی روپاتو اس حقیقت کے باوجود کہ وہ شادی سے پہلے ’’مس کلکتہ‘‘ کا ٹائٹل جیت چکی تھی، میرے خیالوں کے ایرینا میں منعقد ہونے والے ہر مقابلۂ حسن میں وہ ہمیشہ رنر اپ ہی رہی۔ ملکۂ حسن کا تاج شیدو
بھوبل
رات بوڑھی ہو چکی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ درخت جھاڑیاں مکان سیاہ عفریوں کی طرح پیچھے کو بھاگ رہے تھے۔ اندھیرا جیسے اونگھ رہا تھا۔ مجھے تھکن سی محسوس ہونے لگی۔ گاڑی اسی بے ڈھنگی رفتار سے پٹڑیاں بدل رہی تھی۔ میں نے ثریا کی طرف دیکھا وہ بے سُدھ
سوزدروں
اسے توقع تو تھی مگریقین سے کچھ کہنا مشکل تھا۔ کمپی ٹیشن ہی بہت تھا۔آخری وقت تک امیدوبیم کی سولی پر لٹکا رہا۔ دفترسے اس نے دو روز کی رخصت لے لی تھی۔ اچھی یا بری خبر وہ اپنے گھر پر ہی سننا چاہتا تھا۔ دوپہر دو بجے کے قریب ایک سینیئر نے فون پر خوش
مس چودھری
میں اس قدر ذہنی تناؤ کا شکار تھی کہ لگتا تھا میرا برین ہیمبرج ہو جائےگا۔ رو رو کر دعائیں مانگتی کہ میرا تبادلہ کہیں اور ہو جائے۔ یا کوئی ایسا بندہ قصبے میں وارد ہو جو بدمعاش مچھل کو نکیل ڈال سکے۔ اس نے ہمارا جینا حرام کر رکھا تھا۔ میں، مس نائلہ
زرخرید
سیانوں نے سچ کہا ہے، ’’بڈھے کی مرے نہ جو رو بالے کی مرے نہ ماں۔‘‘ دونوں کے لئے زندگی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بالک سے زیادہ بالی کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر بوڑھے کے لئے بیوی کی جدائی سہنا دشوار ہوتا ہے تو جوان مرد کے
ڈالی
نیا سال بھی دبے پاؤں گزرتا جا رہا تھا مگر سردار کی یورپ یاترا سے واپسی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس کی عدیم الفرصتی کے سبب قبیلے کی بیسیوں کنواریاں، بیاہ کے انتظار میں بابل کی دہلیز پر بیٹھی ‘ لو کی ماری امبیوں کی طرح پیلی پڑ رہی تھیں۔ سبھی چپکے چپکے
تہ سنگ
اسکول یونیفارم میں ملبوس مغموم اور اداس پپو خاصی دیر سے سیڑھیوں والے پل پر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں اور ناک سے پانی بہہ رہا تھا۔ بائیں رخسار پر تھپڑ کا نشان تھا جسے وہ بار بار سہلاتا۔ گاہے دائیں ہاتھ کی پشت سے اپنی ناک رگڑتا اور
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
