- کتاب فہرست 177139
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1708 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2683 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4250خواتین کی تحریریں5835-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
خورشید حیات کے افسانے
آدم خور
کہانی تو ہم سب کے اندر سمندر کی لہروں کی طرح ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے۔ سمندر میں میں ہوں/مجھ میں سمندر/بارش کی بوندیں سمندر میں/اور سمندر بارش کی بوندوں میں/مجھے قریب سے دیکھو/پہچانو/ابھرتی ڈوبتی لہریں تم سے کیا کہہ رہی ہیں؟ آدمی، سانپ سے بھی زہریلا
پہاڑ، ندی، عورت
سامنے والی برتھ پر بیٹھی وہ، اپنی انگلیوں میں پھنسے برش سے، کینوس پر اتر آئے الگ الگ رنگوں میں بہت پیچھے کی طرف چھوٹتی ہوئی زندگی کے ان گلیاروں کو ڈھونڈ رہی تھی جہاں اٹکن چٹکن دہی چٹاکن کا کھیل تو تھا مگر لکیریں نہیں تھیں۔ بےچینی کے عالم میں اس نے HA-1
پانچ انگلیاں
میری بیٹیاں بغل میں لیٹی ہیں، خوبصورت سی، پیاری پیاری۔ نرم ہتھیلیاں، چھوٹی بڑی انگلیاں۔ بیٹیاں گھروں میں چڑیوں کی طرح چہکتی ہیں۔ ان کی دلکش آوازیں گاؤں میں ندیوں کی طرح بہتی ہیں۔ انھیں دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ رحمن ان ہاتھوں کوڈاکٹر کے ہاتھ
تتلی سہیلی حویلی
روح کی انگنائی میں/حنائی رنگ ساعتوں میں/نرم انگلیوں کے پوروں پر/پھول– خوشبو منظر لکھ/ پھر سے اڑ گئی تتلی۔ پہلی بار جب اس نے اسے دیکھا تھا تو ایک خواب نے پرندوں کی طرح اپنے پر پھیلائے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ اب وہ زندگی کی راہ کے آخری چھْور تک صرف اسی کا
آنگن میرے گھر کا
نام تو اس کا جمیلہ تھا مگر محلّے کی ساری عورتیں اسے پیار سے جمالو پکارا کرتی تھیں۔ وہ آج بہت تھکی تھکی سی تھی، دفتر سے آتے ہی اس نے اپنی بھیگی بھیگی سی تھکن کو باہر الگنی پر ٹانگ دیا اور ریشمی بستر کو چھوڑ، فرش پر پسر گئی۔ گھر میں پھیلے سناٹا نے جب اسے
خبر ہونے تک
میں نے جب کبھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہا ہے تو خود کو اپاہج محسوس کیا ہے۔ انسان، کتنا بے بس ہے، وقت کے ہاتھوں کا کھلونا، اس پر یہ تیور کہ میں انقلاب لا سکتا ہوں۔ زندگی تیز رفتار سے چلتی رہتی ہے اور انسان خواب اور حقیقت کے دو راہے سے گذرتا رہتا ہے۔ کبھی
چھالیا
۔۔۔۔ خورشید حیات ۔۔۔۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک کے دھواں دھواں منظر کو دیکھ جب وہ مضطرب ہو جاتی اور رات ایک انجانے خوف سے سہمے ہوئے گزر جاتی۔ تب ہوتا یہ تھا کہ اس کی بوجھل آنکھوں میں صبح کی سپیدی اتر آتی تھی اور شام اْداس اداس سی سیاہ رنگت لئے رات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
