- کتاب فہرست 178620
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
خواجہ احمد عباس کا تعارف
شناخت: بین الاقوامی شہرت یافتہ بھارتی فلم ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر، ناول نگار، مایہ ناز صحافی اور اردو، ہندی و انگریزی کے ترقی پسند ادیب
برصغیر کی ادبی، صحافتی اور فلمی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے ہمہ جہت کارناموں کے ذریعے تاریخ میں ایک مستقل اور روشن مقام حاصل کیا۔ خواجہ احمد عباس انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ایک ہیں، جن کی شخصیت بیک وقت ادب، صحافت اور سنیما کے میدانوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک باکمال افسانہ نگار اور ناول نگار تھے بلکہ ایک بلند پایہ صحافی، فلم ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر اور ترقی پسند مفکر بھی تھے۔ اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں پر یکساں عبور نے ان کی شخصیت کو مزید وسعت عطا کی۔
خواجہ احمد عباس 7 جون 1914ء کو پانی پت میں ایک علمی و ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی علمی روایت نہایت مضبوط تھی۔ ان کے پرنانا مولانا الطاف حسین حالی اردو ادب کے عظیم شاعر اور نقاد تھے۔ آپ کے دادا خواجہ غلام عباس جنگِ آزادی 1857ء کے پہلے شہید تھے۔ خواجہ احمد عباس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 'نیشنل کال' سے کیا اور جلد ہی The Bombay Chronicle سے وابستہ ہو گئے، جہاں انہوں نے بطور نامہ نگار اور فلم نقاد خدمات انجام دیں۔ ان کا مشہور کالم “Last Page” صحافت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو کئی دہائیوں تک جاری رہا اور بعد میں Blitz میں بھی شائع ہوتا رہا۔ اس کالم نے انہیں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت عطا کی۔ انہوں نے دنیا کی کئی عظیم شخصیات، جیسے فرینکلن ڈی روزویلٹ اور نکیتا خروشیف کے انٹرویوز بھی کیے، جو ان کی صحافتی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی میں 74 کتابیں، 90 افسانے اور 3000 سے زائد اخباری مضامین تحریر کیے۔ آپ کا ناول 'انقلاب' ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
فلمی دنیا میں خواجہ صاحب ایک مصلح اور حقیقت نگار کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے 1946ء میں قحطِ بنگال پر مبنی فلم 'دھرتی کے لال' بنائی جو بھارتی سنیما کی پہلی سماجی حقیقت پسندانہ فلم مانی جاتی ہے اور جس نے روسی مارکیٹ کے دروازے بھارتی فلموں کے لیے کھولے۔ انہوں نے 'نیچا نگر' جیسی فلم لکھی جسے کانز فلم فیسٹیول میں 'پالم ڈی اور' (Palme d'Or) ایوارڈ ملا۔ وہ راج کپور کی شاہکار فلموں 'آوارہ'، 'شری 420'، 'میرا نام جوکر' اور 'بوبی' کے اسکرین رائٹر بھی تھے۔ فلم 'سات ہندوستانی' کے ذریعے انہوں نے امیتابھ بچن کو پہلی بار پردہ سیمیں پر متعارف کرایا۔ ان کی فلموں 'شہر اور سپنا' اور 'دو بوند پانی' نے قومی یکجہتی پر بہترین فیچر فلم کے نیشنل ایوارڈز جیتے۔ ان کو حکومتِ ہند کی جانب سے 1969ء میں 'پدم شری' سے بھی نوازا گیا۔
وہ ایک سچے قوم پرست اور ترقی پسند مفکر تھے جنہوں نے فلمی سنسر شپ کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں ایک تاریخی آئینی جنگ بھی لڑی۔ ان کی خودنوشت "I Am Not an Island" ان کی زندگی اور جدوجہد کی مکمل داستان ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں دل کے دورے اور فالج کے حملے کے باوجود انہوں نے قلم سے رشتہ برقرار رکھا اور آخری وقت تک تخلیقی کاموں میں مصروف رہے۔
وفات: یکم جون 1987ء کو 72 برس کی عمر میں بمبئی (ممبئی) میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Khwaja_Ahmad_Abbas
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n50041750
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
