- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
لطف اللہ خان کا تعارف
شیخ سعدیؒ کے ایک مصرعے کا مطلب یہ ہے کہ خالق نے ہر کسی کو کسی خاص کام کے لیے تخلیق کیا ہے(ہر کسے کا بہرِکارے ساختند) ایک ایسی ہی مخصوص، مختلف اور منفرد شخصیت لطف اللہ خان صاحب کی تھی۔ وہ ایک اشتہار ساز ادارے کے بانی و سربراہ تھے۔ مدراس جس کا نام اب چنئی ہے، ان کی جائے پیدائش تھی۔ لطف اللہ خان صاحب کو ادب، فنون لطیفہ، موسیقی، شاعری اور شخصیات کے مطالعے کا گہرا شغف تھا۔ وہ اشتہار سازی کے سلسلے میں جب ٹیپ ریکارڈر سے پہلی بار متعارف ہوئے توانھیں اپنی والدہ محترمہ کی گفتگو کو محفوظ کرنے کا خیال ہوا۔ اس کے بعد وہ کلاسیکی موسیقی مشاعرے، تقاریر، شخصیات کے انٹرویو وغیرہ کی ریکارڈنگ کی طرف متوجہ ہوئے۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا بے مثال خزانہ فراہم ہوگیا جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ خدا نے انھیں ایک طویل عمر دی اور وہ ساری زندگی نہایت مستقل مزاجی سے کسی صلے کی پرواہ کیے بغیر آنے والی نسلوں کے لیے یہ بے مثل آواز خزانہ جمع کرتے رہے۔ وہ اس فن میں ذاتی محنت، جاں کاہی اور تکمیلیت کا اعلیٰ معیار قائم رکھتے تھے۔ لطف اللہ خان صاحب نے کتابیں بھی تصنیف کی ہیں جن میں موسیقی، یادداشتیں، سفرنامے اور بعض اہم شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔
لطف اللہ خاں کا یہ آواز خزانہ اس قدر منفرد اور غیر معمولی ہے کہ وقتاً فوقتاً افراد اور ادارے اس فکر میں رہے اور اب بھی ہیں کہ یہ ذخیرہ کسی طرح ان کی تحویل میں آجائے تاہم خان صاحب کی اہلیہ محترمہ ‘‘بیگم زاہدہ لطف اللہ’’ جو ہمہ وقت ان کے اس کارنامے میں ان کی شریک رہی ہیں۔اس خزانے کو اس طرح جدا کرنا نہیں چاہتیں۔ تاہم انہیں اس کا بھی احساس تھاکہ اس کا کوئی مصرف سامنے نہیں آرہا ہے۔
اب ‘‘مردے از غیب بدوں آید وکارے بکند’’ ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ کو اس خزانے سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب غیر معمولی صفات کے حامل ہیں اور آغا خاں یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں ایک ذمے دار عہدے پر فائز ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کتب بینی، تہذیب شناسی اور جدید و قدیم دانش کے سرچشموں سے سیرابی کا بھی غیر معمولی شغف ہے۔ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی سے غائت درجے کی دلچسپی رکھتے ہیں۔
پڑھنے کا بہت شوق ہے لکھنے کا بہت ہی کم، کیوں ان کا خیال یہ ہے کہ ‘‘سبھی لکھنے لگے تو پڑھے گا کون۔’’ کتابوں کی فراہمی اور مطالعے کی ایک منفرد مثال ہیں۔ ایسی شخصیت عموماً یک رخی ہوجاتی ہے لیکن ڈاکٹر خورشید عبداللہ زندہ دلی، بزلہ سنجی اور دوست نوازی میں بھی اپنا جواب نہیں رکھتے۔
قصہ مختصر کہ ڈاکٹر خورشید عبداللہ کو لطف اللہ خاں صاحب کے خزانے تک رسائی حاصل ہو گئی اور بیگم زاہدہ لطف اللہ کا مکمل اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔ ڈاکٹر خورشید گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس خزانے کو اہل ذوق حضرات تک جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پہنچا رہے ہیں ، ایک طرف یوٹیوب پر یہ نادر آوازیں محفوظ ہو رہی ہیں تو دوسری طرف فیس بک پر ان کی ‘‘دیوار’’ اہلِ ذوق کے لیے ایک نعمت بن چکی ہے۔ اگرچہ خورشید صاحب کو یہ شکایت ہے کہ نئی نسل اس سے اتنا استفادہ نہیں کر رہی ہے جتنا اسے کرنا چاہیے۔ پھر بھی وہ معتبر خواتین و حضرات جو سخن فہم ہیں پوری اردو دنیا سے خورشید صاحب کے اس بے لوث کارنامے کو سراہتے ہیں۔
یہ بات شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ آواز خزانہ ‘‘سپول ٹیپس’’ کی شکل میں موجود ہے اور انھیں جدید شکل میں محفوظ کرنے اور اہل ذوق تک پہنچانے کے لیے انہیں جو محنت اور مشقت کرنی پڑتی ہے اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کئی کئی گھنٹے غیر مساعد ماحول میں ان آوازوں کی بازیابی کے لیے مصروف رہتے ہیں ۔ دامے، درمے، سخنے، قدمے۔ وہ طبی پیشے کے لحاظ سے تو مسیحا ہی ہیں لیکن ان نوادر کو شائقین فنون لطیفہ تک پہنچانا بھی مسیحائی سے کم نہیں۔
ہماری دعا ہے کہ ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ صحت و سلامتی کے ساتھ اس معاشرے میں خیر وبرکت کے چراغ اسی طرح روشن کرتے رہیں۔از ۔ سحر انصاریموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
