- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4779 تحقیق و تنقید6708افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
ایم۔ علی کا تعارف
اصلی نام : محمد علی
پیدائش : 04 Oct 1949 | کولکاتا, مغربی بنگال
وفات : 18 Oct 2016 | کولکاتا, مغربی بنگال
ایم علی کا اصلی نام محمد علی ہے۔ ان کے والد کا نام عبدلرزاق ہے۔ ایم علی کی ولادت 04 اکتوبر 1949ء کو بیل گچھیا روڈ، کولکاتا، مغربی بنگال میں ہوئی۔ انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے اردو اور انگریزی میں ایم ے کی سند حاصل کی۔ نفسیات اور منیجمنٹ میں بھی انھوں نے مختصر میعادی کورسیز کیے۔ وہ مغربی بنگال سول سروسز کا امتحان پاس کر کے فوڈ اینڈ سپلائی میں افسر مقرر ہوگئے۔
تنقید کی طرف ان کا رجحان زیادہ رہا۔ ان کا سب سے پہلا مضمون علامہ اقبال پر تھا جو ماہنامہ ”شہود“ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد متواتر ان کے مضامین ملک اور بیرونِ ملک کے رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ ترجمہ نگاری سے بھی انھیں شغف تھا۔ ان کی کتابیں اس طرح ہیں۔ (1)شریک کار ورکشاپ برائے ”نربا چیتو کوبیتا“ غالب کی غزلوں کا بنگلہ میں ترجمہ زیرِ اہتمام ساہتیہ اکاڈمی، (2)بدلتے زاویے (تنقیدی مضامین کا مجموعہ)، (3)انتخاب مختار مشرقی (تالیف)، (4)ترجمہ آئینۂ فردا میں، (5)گورا (ناول) رابندر ناتھ ٹیگور (ترجمہ:ایم علی)۔
ایم-علی کی کتاب ”بدلتے زوایے“ پر ممتاز پاکستانی نقاد، محقق، شاعر اور کالم نویس ڈاکٹر انور سدید اس طرح اظہارِ خیال فرماتے ہیں۔
”بدلتے زاویے“ کے مصنف ایم۔ علی کا شمار ہندوستان کے نئے نقادوں میں ہوتا ہے اور خوبی یہ کہ وہ بسیار نویسی سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان و پاکستان کے رسائل میں کم کم نظر آتے ہیں۔ ان کی زیر نظر کتاب بھی مربوط فکری نظام کی آئینہ دار ہونے کے بجائے لخت لخت موضوعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم ادب میں ان کی دلچسپی معمولی نہیں بلکہ غیرمعمولی ہے اور موضوعات پر سرسری نظر ڈالنے کے بجائے انھوں نے گہرائی سے اترنے کی کوشش کی ہے اور اپنے سنجیدہ مطالعہ سے نتائج کے وہ نوادرات بازیافت کیے جو خالصتاً ان کی ذاتی فکر کے آئینہ دار ہیں۔“
ایم- علی 18 اکتوبر 2016 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
