- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1599 صحت105 تاریخ3289طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4316 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4878
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1208
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ایم۔ علی کا تعارف
اصلی نام : محمد علی
پیدائش : 04 Oct 1949 | کولکاتا, مغربی بنگال
وفات : 18 Oct 2016 | کولکاتا, مغربی بنگال
ایم علی کا اصلی نام محمد علی ہے۔ ان کے والد کا نام عبدلرزاق ہے۔ ایم علی کی ولادت 04 اکتوبر 1949ء کو بیل گچھیا روڈ، کولکاتا، مغربی بنگال میں ہوئی۔ انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے اردو اور انگریزی میں ایم ے کی سند حاصل کی۔ نفسیات اور منیجمنٹ میں بھی انھوں نے مختصر میعادی کورسیز کیے۔ وہ مغربی بنگال سول سروسز کا امتحان پاس کر کے فوڈ اینڈ سپلائی میں افسر مقرر ہوگئے۔
تنقید کی طرف ان کا رجحان زیادہ رہا۔ ان کا سب سے پہلا مضمون علامہ اقبال پر تھا جو ماہنامہ ”شہود“ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد متواتر ان کے مضامین ملک اور بیرونِ ملک کے رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ ترجمہ نگاری سے بھی انھیں شغف تھا۔ ان کی کتابیں اس طرح ہیں۔ (1)شریک کار ورکشاپ برائے ”نربا چیتو کوبیتا“ غالب کی غزلوں کا بنگلہ میں ترجمہ زیرِ اہتمام ساہتیہ اکاڈمی، (2)بدلتے زاویے (تنقیدی مضامین کا مجموعہ)، (3)انتخاب مختار مشرقی (تالیف)، (4)ترجمہ آئینۂ فردا میں، (5)گورا (ناول) رابندر ناتھ ٹیگور (ترجمہ:ایم علی)۔
ایم-علی کی کتاب ”بدلتے زوایے“ پر ممتاز پاکستانی نقاد، محقق، شاعر اور کالم نویس ڈاکٹر انور سدید اس طرح اظہارِ خیال فرماتے ہیں۔
”بدلتے زاویے“ کے مصنف ایم۔ علی کا شمار ہندوستان کے نئے نقادوں میں ہوتا ہے اور خوبی یہ کہ وہ بسیار نویسی سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان و پاکستان کے رسائل میں کم کم نظر آتے ہیں۔ ان کی زیر نظر کتاب بھی مربوط فکری نظام کی آئینہ دار ہونے کے بجائے لخت لخت موضوعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم ادب میں ان کی دلچسپی معمولی نہیں بلکہ غیرمعمولی ہے اور موضوعات پر سرسری نظر ڈالنے کے بجائے انھوں نے گہرائی سے اترنے کی کوشش کی ہے اور اپنے سنجیدہ مطالعہ سے نتائج کے وہ نوادرات بازیافت کیے جو خالصتاً ان کی ذاتی فکر کے آئینہ دار ہیں۔“
ایم- علی 18 اکتوبر 2016 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
