- کتاب فہرست 179298
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6658افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2066نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
ایم۔ اسلم کا تعارف
ایم اسلم 6 اگست، 1885ء کو لاہور کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام میاں محمد اسلم تھا۔ ان کے والد میاں نظام الدین ایک بزرگ اور نیک خصلت انسان تھے جنھوں نے قوم کی اصلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ایم اسلم نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبال اس وقت فلسفہ کے پروفیسر تھے، وہ ایم اسلم کو عزیز رکھتے تھے۔ ان کے ادبی ذوق کی تربیت میں اقبال کا اہم کردار تھا۔ اقبال نے ہی ایم اسلم کو نثرنگاری کی جانب توجہ دلائی۔ ایم اسلم نے ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شعر و شاعری سے ہوا لیکن انہوں نے تنقیدی مضامین اور افسانے لکھے، ناول میں تو ان کی ایک خاص شناخت بن گئی۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں رومان، تصور، تخیل، حقیقت، حزن و طرب نمایاں ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندوستان کے دیہات اور شہروں کی زندگی کے علاوہ یورپ، مصر، روس، ترکستان، عرب، چین اور جاپان کے رسم و رواج اور باشندوں کے طور طریقے خاص طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے 200 سے زائد ناول تحریر کیے۔ ان کے مشہور ناولوں فاطمہ کی آپ بیتی، عروس غربت، معرکۂ بدر، فتح مکہ، صبح احد، معاصرۂ یثرب، ابو جہل، جوئے خون، پاسبان حرم، شمشیر ستم، بنتِ حرم، غزالہ صحرا، فتنۂ تاتار، خون شہیداں، رقص ابلیس، مرزا جی، گناہ کی راتیں، رقص زندگی اور افسانوی مجموعوں میں صدا بصحرا، نغمہ حیات اور گنہگار سرِ فہرست ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے انگریزی سے ترجمے بھی کیے۔ پھر انہوں نے وارث شاہ کی شاہکار تخلیق ہیر رانجھا کا پنجابی زبان سے نہایت بہترین اردو ترجمہ بھی کیا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
