- کتاب فہرست 180433
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3265طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6515افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ایم۔ اسلم کا تعارف
ایم اسلم 6 اگست، 1885ء کو لاہور کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام میاں محمد اسلم تھا۔ ان کے والد میاں نظام الدین ایک بزرگ اور نیک خصلت انسان تھے جنھوں نے قوم کی اصلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ایم اسلم نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبال اس وقت فلسفہ کے پروفیسر تھے، وہ ایم اسلم کو عزیز رکھتے تھے۔ ان کے ادبی ذوق کی تربیت میں اقبال کا اہم کردار تھا۔ اقبال نے ہی ایم اسلم کو نثرنگاری کی جانب توجہ دلائی۔ ایم اسلم نے ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شعر و شاعری سے ہوا لیکن انہوں نے تنقیدی مضامین اور افسانے لکھے، ناول میں تو ان کی ایک خاص شناخت بن گئی۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں رومان، تصور، تخیل، حقیقت، حزن و طرب نمایاں ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندوستان کے دیہات اور شہروں کی زندگی کے علاوہ یورپ، مصر، روس، ترکستان، عرب، چین اور جاپان کے رسم و رواج اور باشندوں کے طور طریقے خاص طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے 200 سے زائد ناول تحریر کیے۔ ان کے مشہور ناولوں فاطمہ کی آپ بیتی، عروس غربت، معرکۂ بدر، فتح مکہ، صبح احد، معاصرۂ یثرب، ابو جہل، جوئے خون، پاسبان حرم، شمشیر ستم، بنتِ حرم، غزالہ صحرا، فتنۂ تاتار، خون شہیداں، رقص ابلیس، مرزا جی، گناہ کی راتیں، رقص زندگی اور افسانوی مجموعوں میں صدا بصحرا، نغمہ حیات اور گنہگار سرِ فہرست ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے انگریزی سے ترجمے بھی کیے۔ پھر انہوں نے وارث شاہ کی شاہکار تخلیق ہیر رانجھا کا پنجابی زبان سے نہایت بہترین اردو ترجمہ بھی کیا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
-
