- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ایم شکیل کا تعارف
مجاہد آزادی، مزدور رہنما، اور سابق ایم ایل اے، محمد شکیل (قلمی نام ایم شکیل) 21 جولائی 1927 کو جھنوائی ٹولہ کے مشہور حکیمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ تکمل الطب کالج کے بانی حکیم عبدالعزیز کے پوتے اور حکیم عبدالولی کے نواسے تھے۔ حکیم عبدالعلیم اور عصمت آرا بیگم کے بیٹے ایم شکیل نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انقلابی کمیونسٹ پارٹی سے کیا۔
وہ 1941 میں پہلی بار 14 سال کی عمر میں برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر جیل گئے۔ انہوں نے 21 دن لکھنؤ ضلع جیل میں گزارے۔ اس کے بعد وہ شیو ورما کے ساتھ تحریک آزادی میں جیل گئے اور ڈاکٹر رشید جہاں کے ساتھ جیل میں رہے۔ وہ کل 14 بار جیل گئے۔
انہوں نے مجاہدین آزادی کو ملنے والی سہولیات کو اسلئے ٹھکرا دیا کیونکہ انہیں سرکار کو اپنے انقلابی ہونے کا ثبوت دینا گوارہ نہیں تھا۔
انہوں نے گنگا پرساد میموریل ہال لکھنؤ میں، انڈین پیپلز تھیٹر کی بنیاد ڈالنے والے ناٹک پریم چند کے 'کفن' میں، ڈاکٹر رشید جہاں کے مقابل شرابی 'گھیسو' کا کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے نے لکھنؤ میں 'انڈین پیپلز تھیٹر' کی بنیاد رکھی۔
شکیل صاحب نے ہمیشہ محنت کشوں کے مفادات کی جنگ لڑی۔ وہ رکشہ، تانگہ ڈرائیوروں، میڈیکل کالج کے وارڈ بوائز، باغبانوں وغیرہ مزدوروں کی تنظیمیں بنا کر قیادت کرتے رہے۔
سال 1960 میں وہ لکھنؤ میونسپلٹی کے پہلے ہاؤس کے کونسلر اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن رہے۔ اس الیکشن میں وہ 'پرجا سوشلسٹ پارٹی' کے امیدوار تھے۔
1974 میں، ایم شکیل کانگریس کے ٹکٹ پر مغربی اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ ایک ایم ایل اے کے طور پر ان کی شراکت کو اس علاقے کے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ اس الیکشن میں انہوں نے بی جے پی کے مشہور لیڈر لال جی ٹنڈن کو شکست دی تھی۔
شروعاتی دور میں ان کا تعلق انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس سے تھا۔ 1975 سے انہوں نے مزدوروں کے حقوق کے حصول کے لیے ان کے مقدمات بھی لڑنا شروع کر دیے۔ شکیل صاحب فوڈ کارپوریشن آف انڈیا لیبر یونین کے صدر بھی تھے اور زندگی کے آخر تک اس سے وابستہ رہے۔ 1976 میں انہوں نے لکھنؤ، آگرہ، وارانسی، کانپور اور الہ آباد میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا میں مزدوروں کو ٹھیکے پر رکھنے کے نظام کو ختم کر دیا اور مزدوروں کو محکمانہ ملازمتیں فراہم کرائیں۔
انہوں نے سینٹرل سب ہارٹی کلچر انسٹی ٹیوٹ، مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، رحمان کھیڑا کے مزدوروں کے حقوق اور انصاف کے لیے لڑنے کے لیے کرشی کرمچاری سبھا بنائی اور وہاں کام کرنے والے 120 مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑ کر انہیں محکمانہ نوکریاں دلائیں۔ اس لڑائی میں کوئی کام بند نہیں ہوا، نہ ہڑتال ہوئی اور نہ ہی کام میں کسی قسم کی رکاوٹ آئی۔
16 جولائی کو میئر ڈاکٹر دنیش شرما نے لکھنؤ مغربی اسمبلی حلقہ کے سابق ایم ایل اے ایم شکیل کی یاد میں یہاں پرانا نخاس میں واقع چاول والی گلی کا نام ایم شکیل مارگ رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی لڑائی کے علاوہ آنجہانی شکیل نے لکھنؤ میونسپلٹی کے پہلے گھر کے کونسلر کی حیثیت سے پرانے لکھنؤ کی ترقی میں بھی زبردست تعاون کیا تھا۔ ان کی شخصیت اور کام ان کے نام سے بہت بڑا ہے۔
بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ اردو کے مشہور ناول نگار تھے۔ انہوں نے اعتبار، آشنائی، گرتی دیواریں، جھنک باج اٹھی زنجیر اور کرن پھوٹتی ہے کے نام سے پانچ ناول لکھے، جنہیں 'کتابی دنیا' نے شائع کیا۔ پروفیسر احتشام حسین نے ان کے افسانوی مجموعے پر تعارف لکھا جس سے ان کی ادبی حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
