- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محفوظ الرحمٰن نامی کا تعارف
مجاہد آزادی حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒبانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ اور آزاد انٹر کالج بہرائچ۔ یو۔پی گورنمنٹ کی وزارت تعلیم میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰنؒ صاحب گنج مرادآبادی کے خلیفہ مجاز حضرت حاجی عبد الرحیم ؒصاحب سے بیعت اور خلافت حاصل تھی۔آپ کی ولادت۴؍جمادی الثانی۱۳۲۹ھ مطابق ۳؍ جون ۱۹۱۱ء میں ہوئی تھی۔آپ نے جنگ آزاد ی میں اہم کردار ادا کیا۔۱۹۳۱ءمیں آپ نے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کی بنیاد رکھی اور کچھ عرصہ میں ہی نورالعلوم مجاہدین آزادی کااہم مرکز بن گیا۔۱۹۴۶ءمیں ہوئے انتخابات میں کانگریس اور جمعیتہ العلماء کے مشترکہ ٹکٹ پر بہرائچ سے فتح یاب ہوئے اور حکومت میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔پرونشیل حج کمیٹی اتر پردیش کے صدر رہے۔ ’’معلم القرآن‘‘اور’’ مفتاح القرآن‘‘ وغیرہ متعدد کتب کےمصنف تھے۔ آپ کی تصنیف ’’مفتاح القرآن‘‘ کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر مقبول ہو چکا ہے ۔ہفتہ وار اخبار انصاربہرائچ کے بانی جس کے مدیران میں مورخٔ اسلام قاضی اطہر ؔ مبارک پوریؒ(متوفی۱۹۹۶ء)اورصاحب مصباح اللغات مولاناابوالفضل عبدالحفیظ بلیاویؒ(متوفی۱۹۷۱ء)شامل تھے۔آپ نے ایک“ہلال باغ”کے نام سے ایکمنصوبہ بھی بنایا تھا جس کی تائید ملک کے ممتاز ملی اور قومی رہنماؤں نے بھی کی تھی لیکن افسوس وہ منصوبہ پورا نہ کر سکے۔نورالعلوم لیدر ورکنگ اسکول کے نام سے مدرسہ میں ہی صنعتی ادارہ بھی قائم کیاتھا جس کی تائید اور ستائش پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی کی تھی ۔ہلال باغ نام سے ایک اہم منصوبہ بنایا تھا جو آپ کی وفات ہو جانے کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔۱۹۴۸ءمیں آزادانٹرکالج بہرائچ کی بنیاد ڈالی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبر رہے۔آپ کی وفات۱۷؍نومبر ۱۹۶۳ءکوہوئی۔تدفین احاطہ حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ،مولوی باغ میں ہوئی۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85155156
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
