- کتاب فہرست 188192
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
ڈرامہ1025 تعلیم377 مضامين و خاكه1521 قصہ / داستان1722 صحت107 تاریخ3568طنز و مزاح747 صحافت215 زبان و ادب1974 خطوط816
طرز زندگی24 طب1031 تحریکات300 ناول5020 سیاسی371 مذہبیات4884 تحقیق و تنقید7326افسانہ3047 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل118 تصوف2279نصابی کتاب567 ترجمہ4571خواتین کی تحریریں6353-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1494
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح209
- گیت65
- غزل1328
- ہائیکو12
- حمد53
- مزاحیہ37
- انتخاب1655
- کہہ مکرنی7
- کلیات716
- ماہیہ21
- مجموعہ5338
- مرثیہ400
- مثنوی882
- مسدس60
- نعت600
- نظم1317
- دیگر78
- پہیلی16
- قصیدہ201
- قوالی18
- قطعہ72
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
محمود ظفر اقبال ہاشمی کے افسانے
ایک دانا کی خودنوشت
کوئی چراغ لے کر بھی نکلے تو روئے ارض پر مجھ جیسا دانا نہیں ڈھونڈ سکتا۔ میری ساری زندگی دانائی کی کھلی کتاب ہے اور آج میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں اپنی اس خداداد صلاحیت سے جڑی کچھ امثال آپ سب کے ساتھ بانٹوں تاکہ آپ سب بھی مجھ سے دانائی کے کچھ گر سیکھ سکیں۔
رونے کے لیے چاہییے کاندھا میرے دوست
شام کا زہر مٹیالی ٹہنیوں میں اتر چکا تھا۔ تھکے ہارے طیّوراپنے اپنے آشیانے میں بیٹھے اپنے نوزائیدہ بچوں کو دن بھر کی روداد سنا رہے تھے اور فضا میں ان کی اس گفتگو کا شور پھیلتے ہوئے مضمحل اندھیرے کا بیک گراؤنڈ میوزک محسوس ہوتا تھا۔ گرلز ہاسٹل کے سامنے
گھپ اندھیرے میں کالی بلی کی تلاش
جب سفر کا آغاز ہوا تو وہ مجھ سے کم از کم ایک فرلانگ آگے تھی۔ ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی، دشوار مسافتوں کو اپنے برق رفتار پیروں سے لپیٹے وہ کسی گردباد کی طرح کبھی ادھر ایستادہ ہوتی تو کبھی ادھر۔ اتنی ہی متحرک اور پرجوش جس طرح سیماب یا پھر کوئی خیال۔ بالکل
اک گھر ایسا بنانا چاہیے
’’سر آپ اس ملک کے مایہ ناز بلڈر اور Real Estate Tycoon ہیں۔ آپ نے اس ملک میں شہر کے شہر بسائے ہیں۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ آپ دوکمروں کے چھوٹے اور سادہ سے گھر میں رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے کوئی فلاسفی ہے، سادہ مزاجی یا پھر آپ کے ماضی سے جڑی کوئی کہانی؟‘‘ ٹی
نور
’’وہ کسی سخن ور نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔کنج میں بیٹھے ہیں چپ چاپ طیور۔۔۔برف پگھلے گی تو پَر کھولیں گے!‘‘ میں شہر کے اس پارک میں بینچ پر تنہا بیٹھا نجانے سوچ کی کس بند گلی میں بھٹک رہا تھا کہ اچانک ایک اجنبی آواز اورحیران کن طرزِ تخاطب نے مجھے چونکا دیا۔
ہم
’’میں کافی دیر سے نوٹ کر رہا ہوں۔ آپ اس کاغذ پر ایک سطر لکھ کر جس طرح اس اے سی سلیپر کی چھت کی طرف دیکھ کر سوچنے لگتے ہیں، لگتا ہے یا توآپ کوئی معمہ حل کر رہے ہیں۔ یا پھر آپ شاعری لکھ رہے ہیں!‘‘ کوٹری جنکشن سے جب ٹرین ایک بار پھر رینگنے لگی تو بالآخر
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
-
