منموہن تلخ
غزل 34
نظم 4
اشعار 14
دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں
خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سب کے سو جانے پہ افلاک سے کیا کہتا ہے
رات کو ایک پرندے کی صدا سنتا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ثابت یہ میں کروں گا کہ ہوں یا نہیں ہوں میں
وہم و یقیں کا کوئی دوراہا نہیں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہ اب گھروں میں نہ پانی نہ دھوپ ہے نہ جگہ
زمیں نے تلخؔ یہ شہروں کو بد دعا دی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہ تلخؔ کیا کیا ہے خود سے بھی گئے تم تو
مرنا ہی کسی پر تھا تم خود پہ مرے ہوتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے