- کتاب فہرست 177159
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2683 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5835-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4851
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ماسٹر رام چندر کا تعارف
رام چندر 1821ء کو دہلی کے کائیستھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رائے سندر لال ماتھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے محکمہ مالیات میں ملازم تھے۔ بارہ برس کی عمر میں انگریزی مدرے میں داخل ہوئے۔ فکر معاش نے مجبور کیا تو محرر ہو گئے، لیکن طبیعت حصولِ علم کے لیے بے چین تھی۔ اس لیے دہلی کالج میں داخل ہو گئے اور وہاں اپنی قابلیت کی وجہ سے اعلیٰ وظیفہ پایا۔ تین سال کی تعلیم کے بعد اسی کالج میں مدرس ہو گئے۔ ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم ہوئی تو اس کے لیے اردو میں الجبرا اور علمِ مثلث پر کتابیں لکھیں۔ 1854ء میں انہوں نے ہندو مذہب کو ترک کیا اور عیسائی مذہب قبول کیا، جس پر ان کے خلاف بہت لے دے ہوئی اور اعزہ و اقارب اور برادری نے مقاطعہ کر دیا۔ ان کی دو کتابوں کی شہرت انگلستان تک پہنچی اور ایک کتاب کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی کورٹ آف ڈائریکٹرز نے ایک خلعت پنج پارچہ اور دو ہزار روپیہ نقد عطا کیا۔ وہ ہندوستان کے مایہ ناز صحافی تھے۔ 1845ء میں انہوں نے ایک پندرہ روزہ علمی اخبار فوائد الناظرین اور 1847ء میں ایک علمی اور ادبی ماہنامہ محب ہند جاری کیا۔ غدر کے دوران میں چھپ چھپا کر زندگی بسر کی۔ غدر کے بعد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔
رام چندر 31 دسمبر 1957ء کو دہلی کالج کی ملازمت سے باقاعدہ طور پر الگ ہو گئے اور روڑکی چلے گئے، وہاں انہیں 1858ء میں ڈھائی سو روپے ماہوار پر تھامسن انجنیئرنگ کالج (موجودہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کا نیٹیو ہیڈ ماسٹر (Native Head Master) مقرر کیا گیا۔ روڑکی میں چند ماہ رہنے کے بعد وہ پھر دہلی واپس آئے اور ستمبر 1858ء میں دہلی ڈسٹرکٹ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ 1866ء میں 22 برس تک ایک فاضل، مقبول اور مشہور معلم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے کے بعد 45 برس کی عمر میں خرابی صحت کی بنا پر سبکدوش ہو گئے اور ایک سو پچاس روپے ماہوار پنشن مقرر ہوئی۔
ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد 186ء میں انہیں راجا مہندر سنگھ کے اتالیق کی حیثیت سے ریاست پٹیالہ کے دربار میں ملازمت مل گئی۔ یہاں انہوں نے بڑی قابلِ خدمات اجام دیں جنہوں حکومتِ پٹیالہ اور حکومتِ ہند دونوں نے بے حد سراہا۔ جولائی 1868ء میں جب مہاراجا مہندر سنگھ تخت نشیں ہوئے تو انہیں ایک ہزار روپے کی جاگیر اور خلعت عطا کی گئی۔ 13 جون 1870ء کو جب ریاست پٹیالہ میں سر رشتہ تعلیم کا قیام عمل میں آیا تو رام چند ر اس کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ان کے دورِ ملازمت میں پٹیالہ میں تعلیم کو بہت فروغ ہوا۔ ان کی زیرِ نگرانی ایک مختصر مدت میں 38 نئے اسکول قائم ہو گئے۔ چنانچہ27 فروری 1871ء میں کلکتہ کا دربار منعقد ہوا تھا، گورنر جنرل ہند نے مہاراجا پٹیالہ کو ستارہ ہند (Star of India) کا خطاب دیتے ہوئے ریاست میں تعلیم کی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا اور رام چندر کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے زیرِ نگرانی ریاست پٹیالہ میں تعلیم کو مزید ترقی ہوگی۔
خرابی صحت اور وفات:
رام چندر کی صحت کبھی اچھی نہ تھی۔ 1862ء میں جب وہ چالیس برس کے تھے انہیں خرابی صحت کی بنا پر پنشن کی درخواست بھی دینی پڑی تھی۔ اس کے بعد صحت رفتہ رفتہ گرتی ہی گئی اور بالآخر 11 اگست، 1880ء کو 59 کی عمر میں انتقال کیا۔
تصانیف:
A Treatise on Problems of Maxima and Minima Solved by Algebra، 1850 (مسائل کلیات و جزئیات)
تذکرۃ الکاملین
عجائبات روزگار
بھوت نہنگ
اعجاز قران
اصول علم ہیئت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
