- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4224خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1208
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ماسٹر رام چندر کا تعارف
رام چندر 1821ء کو دہلی کے کائیستھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رائے سندر لال ماتھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے محکمہ مالیات میں ملازم تھے۔ بارہ برس کی عمر میں انگریزی مدرے میں داخل ہوئے۔ فکر معاش نے مجبور کیا تو محرر ہو گئے، لیکن طبیعت حصولِ علم کے لیے بے چین تھی۔ اس لیے دہلی کالج میں داخل ہو گئے اور وہاں اپنی قابلیت کی وجہ سے اعلیٰ وظیفہ پایا۔ تین سال کی تعلیم کے بعد اسی کالج میں مدرس ہو گئے۔ ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم ہوئی تو اس کے لیے اردو میں الجبرا اور علمِ مثلث پر کتابیں لکھیں۔ 1854ء میں انہوں نے ہندو مذہب کو ترک کیا اور عیسائی مذہب قبول کیا، جس پر ان کے خلاف بہت لے دے ہوئی اور اعزہ و اقارب اور برادری نے مقاطعہ کر دیا۔ ان کی دو کتابوں کی شہرت انگلستان تک پہنچی اور ایک کتاب کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی کورٹ آف ڈائریکٹرز نے ایک خلعت پنج پارچہ اور دو ہزار روپیہ نقد عطا کیا۔ وہ ہندوستان کے مایہ ناز صحافی تھے۔ 1845ء میں انہوں نے ایک پندرہ روزہ علمی اخبار فوائد الناظرین اور 1847ء میں ایک علمی اور ادبی ماہنامہ محب ہند جاری کیا۔ غدر کے دوران میں چھپ چھپا کر زندگی بسر کی۔ غدر کے بعد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔
رام چندر 31 دسمبر 1957ء کو دہلی کالج کی ملازمت سے باقاعدہ طور پر الگ ہو گئے اور روڑکی چلے گئے، وہاں انہیں 1858ء میں ڈھائی سو روپے ماہوار پر تھامسن انجنیئرنگ کالج (موجودہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کا نیٹیو ہیڈ ماسٹر (Native Head Master) مقرر کیا گیا۔ روڑکی میں چند ماہ رہنے کے بعد وہ پھر دہلی واپس آئے اور ستمبر 1858ء میں دہلی ڈسٹرکٹ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ 1866ء میں 22 برس تک ایک فاضل، مقبول اور مشہور معلم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے کے بعد 45 برس کی عمر میں خرابی صحت کی بنا پر سبکدوش ہو گئے اور ایک سو پچاس روپے ماہوار پنشن مقرر ہوئی۔
ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد 186ء میں انہیں راجا مہندر سنگھ کے اتالیق کی حیثیت سے ریاست پٹیالہ کے دربار میں ملازمت مل گئی۔ یہاں انہوں نے بڑی قابلِ خدمات اجام دیں جنہوں حکومتِ پٹیالہ اور حکومتِ ہند دونوں نے بے حد سراہا۔ جولائی 1868ء میں جب مہاراجا مہندر سنگھ تخت نشیں ہوئے تو انہیں ایک ہزار روپے کی جاگیر اور خلعت عطا کی گئی۔ 13 جون 1870ء کو جب ریاست پٹیالہ میں سر رشتہ تعلیم کا قیام عمل میں آیا تو رام چند ر اس کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ان کے دورِ ملازمت میں پٹیالہ میں تعلیم کو بہت فروغ ہوا۔ ان کی زیرِ نگرانی ایک مختصر مدت میں 38 نئے اسکول قائم ہو گئے۔ چنانچہ27 فروری 1871ء میں کلکتہ کا دربار منعقد ہوا تھا، گورنر جنرل ہند نے مہاراجا پٹیالہ کو ستارہ ہند (Star of India) کا خطاب دیتے ہوئے ریاست میں تعلیم کی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا اور رام چندر کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے زیرِ نگرانی ریاست پٹیالہ میں تعلیم کو مزید ترقی ہوگی۔
خرابی صحت اور وفات:
رام چندر کی صحت کبھی اچھی نہ تھی۔ 1862ء میں جب وہ چالیس برس کے تھے انہیں خرابی صحت کی بنا پر پنشن کی درخواست بھی دینی پڑی تھی۔ اس کے بعد صحت رفتہ رفتہ گرتی ہی گئی اور بالآخر 11 اگست، 1880ء کو 59 کی عمر میں انتقال کیا۔
تصانیف:
A Treatise on Problems of Maxima and Minima Solved by Algebra، 1850 (مسائل کلیات و جزئیات)
تذکرۃ الکاملین
عجائبات روزگار
بھوت نہنگ
اعجاز قران
اصول علم ہیئت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
