- کتاب فہرست 180580
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مولوی کریم الدین کا تعارف
شناخت: انیسویں صدی کے نامور مصنف، مؤرخ، مترجم، لغت نویس، تذکرہ نگار اور 'کریم اللغات' کے مؤلف
مولوی کریم الدین 1237ھ مطابق 1821 کو پانی پت (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سراج الدین سے پڑھیں۔
1840ء میں وہ دہلی کالج میں داخل ہوئے اور وہاں ہندسہ (جغرافیہ/جیومیٹری)، ہیئت، الجبرا اور تاریخِ ادب جیسے جدید علوم سیکھے۔ وہ اردو، عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی گہرا عبور رکھتے تھے۔
تعلیم سے فارغت کے بعد انہوں نے دہلی میں ایک مطبع (پرنٹنگ پریس) قائم کیا، جس کے ذریعے تاریخ کے موضوع پر اعلیٰ پائے کی کتابیں منظرِ عام پر لائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 'کریم الاخبار' اور 'گلِ رعنا' کے نام سے دو مایہ ناز ماہنامے بھی جاری کیے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران جب دہلی پر تباہی اور غارت گری کا طوفان آیا، تو وہ وہاں سے نکل کر آگرہ پہنچ گئے، جہاں وہ آگرہ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں، 1863ء میں وہ پنجاب منتقل ہو گئے اور حلقہ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر تعلیمات کے عہدے پر ایک طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔
لاہور آمد کے بعد ان کا تخلیقی اور تحقیقی سفر عروج پر پہنچا، جہاں انہوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کیں۔ ان کی سب سے مشہور تالیف لغتِ اردو کی تاریخی کتاب ’’کریم اللغات‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’’طبقات شعرائے ہند‘‘ (1848ء)، ’’گلدستۂ نازنیناں‘‘ (1845ء)، ’’تاریخِ ہندوستان المعروف واقعاتِ ہند‘‘ (1870ء)، اردو زبان کی صرف و نحو پر مبنی ’’قواعد المبتدی‘‘ (1858ء)، اور اردو ادب کے ابتدائی دور کا ناول ’’خطِ تقدیر‘‘ (1862ء) شامل ہیں۔ انہوں نے ’’تاریخ ابو الفداء‘‘ کا ترجمہ بھی کیا اور ’’تاریخ شعرائے عرب‘‘ و ’’مکتوبِ محمدی‘‘ جیسی کتابیں بھی لکھیں۔
وفات: مولوی کریم الدین کا انتقال 1879ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
