- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مولوی کریم الدین کا تعارف
شناخت: انیسویں صدی کے نامور مصنف، مؤرخ، مترجم، لغت نویس، تذکرہ نگار اور 'کریم اللغات' کے مؤلف
مولوی کریم الدین 1237ھ مطابق 1821 کو پانی پت (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سراج الدین سے پڑھیں۔
1840ء میں وہ دہلی کالج میں داخل ہوئے اور وہاں ہندسہ (جغرافیہ/جیومیٹری)، ہیئت، الجبرا اور تاریخِ ادب جیسے جدید علوم سیکھے۔ وہ اردو، عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی گہرا عبور رکھتے تھے۔
تعلیم سے فارغت کے بعد انہوں نے دہلی میں ایک مطبع (پرنٹنگ پریس) قائم کیا، جس کے ذریعے تاریخ کے موضوع پر اعلیٰ پائے کی کتابیں منظرِ عام پر لائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 'کریم الاخبار' اور 'گلِ رعنا' کے نام سے دو مایہ ناز ماہنامے بھی جاری کیے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران جب دہلی پر تباہی اور غارت گری کا طوفان آیا، تو وہ وہاں سے نکل کر آگرہ پہنچ گئے، جہاں وہ آگرہ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں، 1863ء میں وہ پنجاب منتقل ہو گئے اور حلقہ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر تعلیمات کے عہدے پر ایک طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔
لاہور آمد کے بعد ان کا تخلیقی اور تحقیقی سفر عروج پر پہنچا، جہاں انہوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کیں۔ ان کی سب سے مشہور تالیف لغتِ اردو کی تاریخی کتاب ’’کریم اللغات‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’’طبقات شعرائے ہند‘‘ (1848ء)، ’’گلدستۂ نازنیناں‘‘ (1845ء)، ’’تاریخِ ہندوستان المعروف واقعاتِ ہند‘‘ (1870ء)، اردو زبان کی صرف و نحو پر مبنی ’’قواعد المبتدی‘‘ (1858ء)، اور اردو ادب کے ابتدائی دور کا ناول ’’خطِ تقدیر‘‘ (1862ء) شامل ہیں۔ انہوں نے ’’تاریخ ابو الفداء‘‘ کا ترجمہ بھی کیا اور ’’تاریخ شعرائے عرب‘‘ و ’’مکتوبِ محمدی‘‘ جیسی کتابیں بھی لکھیں۔
وفات: مولوی کریم الدین کا انتقال 1879ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
