- کتاب فہرست 180580
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مولوی محمد انواراللہ فاروقی کا تعارف
شناخت: نامور عالمِ دین، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدرآباد، مصلحِ قوم، عظیم صوفی اور سابق وزیرِ مذہبی امور (ریاست حیدرآباد)۔
محمد انوار اللہ فاروقی (لقب: فضیلت جنگ) برصغیر کی ان عبقری شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے علم و معرفت اور ریاست کی خدمت کو یکجا کر دیا۔ آپ نے حیدرآباد دکن میں علومِ اسلامیہ کی ترویج کے لیے وہ تاریخی بنیادیں رکھیں جن کا فیض آج بھی جاری ہے۔
آپ 4 ربیع الثانی 1264ھ (مطابق مارچ 1848ء) کو ناندیڑ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے معزز خاندان سے ہے۔ آپ کے دادا فرخ شاہ کابلی افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ بابا فرید الدین گنج شکرؒ اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ بھی اسی مبارک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
11 سال کی عمر میں حافظ امجد علی صاحب سے قرآن مجید مکمل حفظ کیا۔ فقہ اور منطق کی تعلیم مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی جیسے اکابرین سے حاصل کی۔ شیخ عبد اللہ یمنی سے تفسیرِ قرآن اور سندِ حدیث حاصل کی۔
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ 19 ذوالحجہ 1292ھ کو جامعہ نظامیہ کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ ادارہ اس وقت قائم کیا گیا جب مسلمانوں کو علومِ دینیہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک مرکزی یونیورسٹی کی اشد ضرورت تھی۔ آپ کی دور اندیشی نے اسے ایشیا کی بڑی درسگاہوں میں شامل کر دیا۔
آپ چھٹے نظام نواب میر محبوب علی خان اور ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خان کے استاد (اطالیق) مقرر ہوئے۔ ساتویں نظام کے دور میں آپ کو ریاست دکن کا صدر الصدور اور بعد ازاں وزیرِ مذہبی امور مقرر کیا گیا۔ اپنی ملازمت کے ابتدائی دور میں ایک غلط اندراج پر احتجاجاً استعفیٰ دے کر آپ نے دیانت اور تقویٰ کی مثال قائم کی۔
آپ نے تین مرتبہ حرمین شریفین کا سفر کیا۔ قیامِ مدینہ کے دوران آپ نے بیش قیمت علمی خزانے، جیسے "کنز العمال" (9 جلدیں)، "جامع مسند امام اعظم" اور "سننِ بیہقی" کی نقول اپنے ذاتی خرچ پر تیار کروائیں تاکہ علم کا ورثہ محفوظ رہ سکے۔
آپ نے کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں جو علمِ کلام، فقہ اور سیرت پر سند مانی جاتی ہیں: مقاصد الاسلام (11 جلدیں): آپ کی شہرہ آفاق تصنیف۔ انوارِ احمدی: مقامِ مصطفیٰ پر لاجواب کتاب۔ افادۃ الافہام: عقائد کی وضاحت پر مشتمل ضخیم کام۔ حقیقت الفقہ: فقہ کے اسرار و رموز پر مبنی۔
آپ روحانیت میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نے تمام سلاسل (قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ) میں اجازت و خلافت حاصل کی۔ آپ کی مجلس میں "فتوحاتِ مکیہ" (ابنِ عربیؒ) کا درس ہوتا تھا، جو آپ کے بلند روحانی مقام کی دلیل ہے۔
وفات: آپ نے 29 جمادی الاول 1336ھ (مطابق 1918ء) کو وفات پائی۔ آپ کا مزار مبارک جامعہ نظامیہ (حیدرآباد، انڈیا) کے احاطے میں مرجعِ خلائق ہے۔ ہر سال 29 جمادی الاول کو آپ کا عرس منعقد ہوتا ہے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Anwarullah_Farooqui
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
