Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Maxim Gorky's Photo'

میکسم گورکی

1868 - 1936 | روس

روسی انقلابی ادیب، فکشن نگار اور اشتراکی حقیقت نگاری کے نمائندہ قلم کار

روسی انقلابی ادیب، فکشن نگار اور اشتراکی حقیقت نگاری کے نمائندہ قلم کار

میکسم گورکی کا تعارف

تخلص : 'میکسم گورکی'

اصلی نام : الیکسی میکسیمووچ پیشکوف

پیدائش : 28 Mar 1868

وفات : 18 Jun 1936

شناخت: روسی انقلابی ادیب، ناول نگار، ڈراما نویس اور سوشلسٹ حقیقت نگاری کے علمبردار

میکسم گورکی (اصل نام: الیکسی میکسیمووچ پیشکوف) 28 مارچ 1868ء کو روسی سلطنت کے شہر نیزنی نوگورود میں پیدا ہوئے۔ وہ روسی اور عالمی ادب کے اُن عظیم ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقوں کی زندگی کو آواز دی۔ ’’گورکی‘‘ روسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’تلخ‘‘ کے ہیں، اور یہ قلمی نام انہوں نے روسی سماج کی تلخ حقیقتوں کی ترجمانی کے لیے اختیار کیا۔

گورکی کی ابتدائی زندگی شدید غربت، محرومی اور مسلسل جدوجہد میں گزری۔ کم عمری ہی میں والد کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ان کی پرورش نانا کے گھر میں ہوئی۔ نانا کی تنگ دستی اور سخت مزاجی نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا، تاہم نانی کی شفقت اور کہانیوں نے ان کے اندر تخیل اور انسان دوستی کی بنیاد رکھی۔ والدہ نے دوسری شادی کی مگر جلد ہی دق کے مرض سے انتقال کرگئیں، جس کے بعد گورکی کو کم عمری میں ہی روزگار کی تلاش میں مختلف مشقت آمیز کام کرنا پڑے۔ انہوں نے جوتے کی دکان، جہاز کے باورچی خانے اور مختلف مزدوریوں میں کام کیا۔ انہی تلخ تجربات نے بعد میں ان کی تحریروں کو حقیقت نگاری، عوامی شعور اور انسان دوستی عطا کی۔

تعلیم کے مواقع محدود تھے، لیکن مطالعے کا شوق مسلسل بڑھتا رہا۔ باورچی خانے میں کام کرنے والے ایک شخص نے انہیں پڑھنے لکھنے کی ترغیب دی، اور بعد میں ادبی ماحول سے وابستگی نے ان کے اندر ادب سے گہری دلچسپی پیدا کی۔ نوجوانی میں انہوں نے روس کے مختلف علاقوں میں آوارہ گردی کی، مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں کی زندگی کو قریب سے دیکھا، اور یہی تجربات ان کی ابتدائی کہانیوں اور افسانوں کا سرمایہ بنے۔

1892ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’مکار چودرا‘‘ شائع ہوا، جس کے بعد ادبی حلقوں میں ان کا نام تیزی سے ابھرنے لگا۔ 1898ء میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے نے انہیں روس بھر میں غیر معمولی شہرت دلائی۔ ان کے ابتدائی افسانوں میں روس کے غریب، مزدور اور بے گھر طبقات کی زندگی نہایت مؤثر انداز میں پیش کی گئی۔ ’’چلکاش‘‘، ’’ہم سفر‘‘ اور ’’مالوا‘‘ جیسی کہانیاں اسی دور کی نمائندہ تخلیقات ہیں۔

گورکی کی ادبی شہرت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی وابستگیاں بھی مضبوط ہوتی گئیں۔ وہ کارل مارکس کے افکار اور سوشلسٹ تحریک سے متاثر ہوئے اور روس کے انقلابی حلقوں سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ انقلابی سرگرمیوں اور اشتراکی نظریات کی اشاعت میں صرف ہونے لگا۔ 1902ء میں انہیں شاہی اکادمی کا رکن منتخب کیا گیا، مگر زار حکومت نے ان کا انتخاب منسوخ کردیا، جس کے احتجاج میں انتون چیخوف نے بھی اکادمی سے استعفا دے دیا۔

1905ء کے روسی انقلاب کے دوران گورکی کو گرفتار کیا گیا، مگر یورپ بھر میں ہونے والے احتجاج کے باعث حکومت کو انہیں رہا کرنا پڑا۔ انقلاب کی ناکامی کے بعد وہ فن لینڈ کے راستے امریکا چلے گئے۔ امریکا میں ابتدا میں ان کا شاندار استقبال ہوا، لیکن ذاتی زندگی سے متعلق تنازع کے بعد وہاں کے سماجی رویّوں سے بددل ہوگئے۔ بعد ازاں وہ اٹلی کے جزیرے کیپری میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے کئی اہم تصانیف لکھیں۔

1917ء کے روسی انقلاب کے دوران گورکی نے انقلابی تحریک کی حمایت کی، تاہم وہ بالشویک حکومت کی بعض سخت گیر پالیسیوں، سنسرشپ اور سیاسی جبر پر تنقید بھی کرتے رہے۔ ان کی حیثیت ایک ایسے دانشور کی تھی جو انقلاب سے ہمدردی رکھتے ہوئے بھی فکری آزادی اور انسانی اقدار پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

گورکی نہ صرف ناول نگار بلکہ ایک عظیم ڈراما نویس اور صحافی بھی تھے۔ ان کا شہرۂ آفاق ڈراما ’’دی لوئر ڈیپتھس‘‘ (The Lower Depths) روسی سماج کے نچلے طبقے کی بے بسی اور انسانی عظمت کی مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کا معروف ناول ’’ماں‘‘ (1906ء) انقلابی ادب کی کلاسیکی تخلیق سمجھا جاتا ہے، جس نے دنیا بھر کی ترقی پسند تحریکوں پر گہرا اثر ڈالا۔

ان کی خودنوشت سوانحی تصانیف ’’بچپن‘‘، ’’زندگی کی شاہراہ پر‘‘ اور ’’منزل کی تلاش‘‘ روسی ادب کی اہم ترین سوانحی تحریروں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے اپنی محرومیوں، فکری ارتقا اور روسی سماج کی حقیقی تصویر پیش کی۔

1934ء میں میکسم گورکی سوویت ادیبوں کی انجمن کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ سوویت حکومت نے انہیں ’’سوشلسٹ حقیقت نگاری‘‘ (Socialist Realism) کا نمائندہ ادیب قرار دیا، اگرچہ ان کے تعلقات حکومت کے ساتھ ہمیشہ پیچیدہ رہے۔

میکسم گورکی کی نمایاں تصانیف میں ’’ماں‘‘، ’’بچپن‘‘، ’’زندگی کی شاہراہ پر‘‘، ’’منزل کی تلاش‘‘، ’’انسان کی پیدائش‘‘، ’’اطالوی کہانیاں‘‘ اور ’’تین راہی‘‘ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں نے دنیا بھر میں انقلابی فکر، مزدور تحریکوں اور انسانی آزادی کے تصورات کو نئی قوت عطا کی۔

وفات: میکسم گورکی کا انتقال 18 جون 1936ء کو ماسکو کے قریب ہوا۔ ان کی وفات پر دنیا بھر کے ادبی اور انقلابی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

Recitation

بولیے