- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مینا ناز کا تعارف
شناخت: عوامی اور مقبولِ عام اردو ناول نگار، جنہوں نے گھریلو زندگی اور عورت کی نفسیات کو ناول کا مرکزی موضوع بنایا۔
مینا ناز کا اصل نام امین نواز تھا، جو ابتدا میں پیشے کے اعتبار سے ایک درزی تھے۔ خواتین کے ملبوسات کی سلائی کے باعث انہیں گھریلو زندگی، عورتوں کے باہمی تعلقات اور ان کے جذباتی و نفسیاتی مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہی مشاہدہ بعد میں ان کی تحریروں کی بنیاد بنا۔
1963ء میں انہوں نے اپنا پہلا ناول “پربت” لکھا۔ اس دور میں خواتین ناول نگار زیادہ مقبول تھیں، اس لیے پبلشر نے مرد کے نام سے ناول شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ بچپن کے پیار کے نام “مینا” کو بنیاد بنا کر انہوں نے قلمی نام “مینا ناز” اختیار کیا اور اسی نام سے ناول شائع ہوا، جسے بے حد پذیرائی ملی۔
1965ء میں وہ قسمت آزمائی کے لیے کراچی گئے جہاں ان کے ناول ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور وہ ناول نگاری کی دنیا کا معتبر نام بن گئے۔ سو سے زائد ناول لکھنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ پبلشر زیادہ منافع خود رکھتے ہیں، چنانچہ 1978ء میں وہ واپس لاہور آئے اور گنپت روڈ پر اپنا ادارہ “بک پیلس” قائم کر کے خود اشاعت شروع کر دی۔
ان کی کہانیوں کے پلاٹ اکثر حقیقی خطوط اور واقعات پر مبنی ہوتے تھے جو خواتین قارئین انہیں خطوں میں بھیجتی تھیں۔ دلچسپ امر یہ رہا کہ بہت سے مرد قارئین انہیں حقیقی خاتون سمجھتے ہوئے محبت نامے اور تحائف بھی بھیجتے رہے، مگر انہوں نے کبھی اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کی۔
1980ء کی دہائی ان کا سنہرا دور تھا جب ان کے ناول ہر بک اسٹال پر نظر آتے تھے۔ 1990ء کے بعد مہنگائی اور بدلتے حالات نے اشاعتی کاروبار کو متاثر کیا۔ 2005ء میں عمر اور ذاتی صدمات (خصوصاً بڑے بیٹے کی وفات) کے باعث انہوں نے بک پیلس بند کر دیا۔
مینا ناز اردو کے ان منفرد اور زرخیز قلمکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پاکستانی عورت کی نفسیات، گھریلو کشمکش اور جذباتی دنیا کو براہِ راست عوامی ادب کا حصہ بنایا۔
وفات: 1 جنوری 2025 لاہور میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
