Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

میر ولی الدین

1903 - 1975 | حیدر آباد, انڈیا

فلسفی، ماہرِ تصوف اور مترجم

فلسفی، ماہرِ تصوف اور مترجم

میر ولی الدین کا تعارف

تخلص : 'میر ولی الدین'

اصلی نام : ولی الدین

پیدائش :حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 01 Dec 1975 | حیدر آباد, تلنگانہ

شناخت: فلسفی، ماہرِ تصوف اور مترجم

ڈاکٹر میر ولی الدین 1903ء میں حیدرآباد دکن کے تاریخی محلے فتح دروازہ میں ایک معزز علمی و اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریاستِ حیدرآباد کے باوقار اہلِ علم و شرفا میں شمار ہوتے تھے، جبکہ والدہ ایک ممتاز نوابی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ 'مفید الانام' اور گھر پر حاصل کی۔ 1922ء میں پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کی تعلیم کے لیے لاہور گئے، جہاں علامہ محمد اقبال سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ بعد ازاں جامعہ عثمانیہ سے 1924ء میں بی اے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1926ء میں ایم اے کیا۔ حکومتِ حیدرآباد کی اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے، جہاں 1928ء میں لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور مڈل ٹیمپل سے بیرسٹری کی سند حاصل کی۔

1929ء میں جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ فلسفہ میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1946ء میں اسی شعبے کے پروفیسر اور صدر بنے۔ اس کے علاوہ 'دائرۃ المعارف العثمانیہ' کے ناظم بھی رہے۔ 1958ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تین سال تک ریسرچ پروفیسر کی حیثیت سے علمی خدمات انجام دیتے رہے۔

ڈاکٹر میر ولی الدین کا شمار اردو میں فلسفہ، تصوف اور اسلامی فکر کے ممتاز مصنفین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے فلسفے کی پیچیدہ اصطلاحات اور مباحث کو آسان اور سلیس اردو میں پیش کیا اور جدید فلسفیانہ لٹریچر کو اردو میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تصوف، اخلاق، اسلامی فکر، نفسیات اور کردار سازی پر ان کی تحریریں اہم مراجع سمجھی جاتی ہیں۔ وہ معروف تحقیقی رسائل، خصوصاً "معارف" کے مستقل قلم کار رہے، جبکہ ندوۃ المصنفین، دہلی سے بھی ان کا گہرا علمی تعلق تھا اور ان کی متعدد کتابیں وہیں سے شائع ہوئیں۔

ان کی نمایاں تصانیف میں "قرآن اور تصوف"، "فلسفہ کیا ہے"، "فلسفہ کی پہلی کتاب"، "بنیادی مسائلِ فلسفہ"، "ابطالِ مادیت"، "بیماری اور اس کا روحانی علاج"، "علاجِ خوف و حزن"، "قرآن اور سیرت سازی"، "قرآن اور تعمیرِ سیرت"، "رموزِ عشق"، "خواجہ بندہ نواز کا تصوف اور سلوک"، "اقبال اور حدیثِ جبر و قدر"، "اگر میں طبیب ہوتا" اور "رہنمائے قرآن" شامل ہیں۔ انہوں نے فلسفہ، اسلامیات اور اخلاقیات کی متعدد اہم انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے اردو تراجم بھی کیے، جن میں "مقدمۂ فلسفۂ حاضرہ"، "مقدمۂ مابعد الطبیعیات"، "تاریخِ فلاسفۂ اسلام"، "تاریخِ مسائلِ فلسفہ"، "تہافۃ الفلاسفہ"، "مکارم الاخلاق" اور "مابعد الطبیعیات" نمایاں ہیں۔

وفات: یکم دسمبر 1975ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے