- کتاب فہرست 182454
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1985
ڈرامہ924 تعلیم343 مضامين و خاكه1390 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3285طنز و مزاح608 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4304 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6610افسانہ2685 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1205
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
میر ولی الدین کا تعارف
تخلص : 'میر ولی الدین'
اصلی نام : ولی الدین
پیدائش :حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 01 Dec 1975 | حیدر آباد, تلنگانہ
شناخت: فلسفی، ماہرِ تصوف اور مترجم
ڈاکٹر میر ولی الدین 1903ء میں حیدرآباد دکن کے تاریخی محلے فتح دروازہ میں ایک معزز علمی و اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریاستِ حیدرآباد کے باوقار اہلِ علم و شرفا میں شمار ہوتے تھے، جبکہ والدہ ایک ممتاز نوابی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ 'مفید الانام' اور گھر پر حاصل کی۔ 1922ء میں پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کی تعلیم کے لیے لاہور گئے، جہاں علامہ محمد اقبال سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ بعد ازاں جامعہ عثمانیہ سے 1924ء میں بی اے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1926ء میں ایم اے کیا۔ حکومتِ حیدرآباد کی اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے، جہاں 1928ء میں لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور مڈل ٹیمپل سے بیرسٹری کی سند حاصل کی۔
1929ء میں جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ فلسفہ میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1946ء میں اسی شعبے کے پروفیسر اور صدر بنے۔ اس کے علاوہ 'دائرۃ المعارف العثمانیہ' کے ناظم بھی رہے۔ 1958ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تین سال تک ریسرچ پروفیسر کی حیثیت سے علمی خدمات انجام دیتے رہے۔
ڈاکٹر میر ولی الدین کا شمار اردو میں فلسفہ، تصوف اور اسلامی فکر کے ممتاز مصنفین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے فلسفے کی پیچیدہ اصطلاحات اور مباحث کو آسان اور سلیس اردو میں پیش کیا اور جدید فلسفیانہ لٹریچر کو اردو میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تصوف، اخلاق، اسلامی فکر، نفسیات اور کردار سازی پر ان کی تحریریں اہم مراجع سمجھی جاتی ہیں۔ وہ معروف تحقیقی رسائل، خصوصاً "معارف" کے مستقل قلم کار رہے، جبکہ ندوۃ المصنفین، دہلی سے بھی ان کا گہرا علمی تعلق تھا اور ان کی متعدد کتابیں وہیں سے شائع ہوئیں۔
ان کی نمایاں تصانیف میں "قرآن اور تصوف"، "فلسفہ کیا ہے"، "فلسفہ کی پہلی کتاب"، "بنیادی مسائلِ فلسفہ"، "ابطالِ مادیت"، "بیماری اور اس کا روحانی علاج"، "علاجِ خوف و حزن"، "قرآن اور سیرت سازی"، "قرآن اور تعمیرِ سیرت"، "رموزِ عشق"، "خواجہ بندہ نواز کا تصوف اور سلوک"، "اقبال اور حدیثِ جبر و قدر"، "اگر میں طبیب ہوتا" اور "رہنمائے قرآن" شامل ہیں۔ انہوں نے فلسفہ، اسلامیات اور اخلاقیات کی متعدد اہم انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے اردو تراجم بھی کیے، جن میں "مقدمۂ فلسفۂ حاضرہ"، "مقدمۂ مابعد الطبیعیات"، "تاریخِ فلاسفۂ اسلام"، "تاریخِ مسائلِ فلسفہ"، "تہافۃ الفلاسفہ"، "مکارم الاخلاق" اور "مابعد الطبیعیات" نمایاں ہیں۔
وفات: یکم دسمبر 1975ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1985
-
