- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1977
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1566 صحت104 تاریخ3267طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1684 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6492افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب427 ترجمہ4210خواتین کی تحریریں5761-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1252
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1573
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مہدی نظمی کا تعارف
تخلص : 'نظمی'
اصلی نام : سید ابن الحسین
پیدائش : 23 Apr 1923 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 30 May 1987 | غازی آباد, اتر پردیش
شناخت: ممتاز شاعر، ادیب، صحافی اور مبصر
اردو ادب اور صحافت میں مہدی نظمی ایک ایسی معتبر اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف فکری رفعت کا ثبوت دیا بلکہ اخلاقی اقدار کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، مبصر اور ایک نڈر صحافی تھے۔
مہدی نظمی کی پیدائش 23 اپریل 1923ء کو لکھنؤ کے ایک معزز مگر سادہ اور مالی طور پر کمزور گھرانے (جوہری محلہ) میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا سید فرزند حسین اور والد سید اولاد حسین صاحبِ ذوق شاعر تھے، جبکہ ان کی والدہ رضیہ بیگم معروف تصنیف تذکرۃ الصالحات کی مصنفہ تھیں۔ ان کی پرورش نواب سید رضا علی خاں رام پوری کی سرپرستی میں ہوئی، جس نے ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم ریاست رام پور میں حاصل کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1944ء سے 1946ء کے دوران وہ لاہور میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے مختلف فنون میں مہارت حاصل کی اور اپنے ادبی ذوق کو مزید نکھارا۔
صحافتی میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رام پور کے روزنامہ ناظم، دہلی کے جمہور، ہفت روزہ ہمت، مشیرِ پنجاب اور روزنامہ نئی دنیا سے وابستہ رہ کر صحافت کو ایک سنجیدہ اور باوقار رخ دیا۔ ماہنامہ آستانہ سے ان کی وابستگی ان کی عملی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔
مہدی نظمی کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ شاعری میں انہوں نے مسدس، طویل نظم، مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ جیسی اصناف میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ نثر کے میدان میں ادبی و تاریخی مضامین، ناول، ریڈیو تقاریر اور فیچرز تحریر کیے، جن میں فکری گہرائی اور اسلوب کی پختگی نمایاں ہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں ہندوستان، بھارت درشن، ہندوستان ارمِ بے نظیر، نذرِ نانک، صحیفۂ عقیدت، نذرِ اہلِ بیت (مظلومِ کربلا)، نقشِ فریاد، ساز و آواز، حرفِ دانش، ریگِ سرخ، نہج البلاغہ کے ہزار سال، غزل غزل، منظر پس منظر اور شمع فروزاں شامل ہیں۔
تاریخ و سیاست کے موضوعات پر بھی انہوں نے اہم کام کیا، جن میں خالد بن ولید، دوست و دشمن: اندرا گاندھی اور اقدام و نظریہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی ناول بھی تحریر کیے، جن میں دھوپ چاندنی، گرم خون، امِ عامر اور زلف و زنجیر خاص طور پر معروف ہیں۔
وفات: مہدی نظمی کا انتقال 30 مئی 1987ء کو ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1977
-
