- کتاب فہرست 180800
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ919 تعلیم343 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1588 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6592افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب449 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مہدی نظمی کا تعارف
تخلص : 'نظمی'
اصلی نام : سید ابن الحسین
پیدائش : 23 Apr 1923 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 30 May 1987 | غازی آباد, اتر پردیش
شناخت: ممتاز شاعر، ادیب، صحافی اور مبصر
اردو ادب اور صحافت میں مہدی نظمی ایک ایسی معتبر اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف فکری رفعت کا ثبوت دیا بلکہ اخلاقی اقدار کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، مبصر اور ایک نڈر صحافی تھے۔
مہدی نظمی کی پیدائش 23 اپریل 1923ء کو لکھنؤ کے ایک معزز مگر سادہ اور مالی طور پر کمزور گھرانے (جوہری محلہ) میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا سید فرزند حسین اور والد سید اولاد حسین صاحبِ ذوق شاعر تھے، جبکہ ان کی والدہ رضیہ بیگم معروف تصنیف تذکرۃ الصالحات کی مصنفہ تھیں۔ ان کی پرورش نواب سید رضا علی خاں رام پوری کی سرپرستی میں ہوئی، جس نے ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم ریاست رام پور میں حاصل کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1944ء سے 1946ء کے دوران وہ لاہور میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے مختلف فنون میں مہارت حاصل کی اور اپنے ادبی ذوق کو مزید نکھارا۔
صحافتی میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رام پور کے روزنامہ ناظم، دہلی کے جمہور، ہفت روزہ ہمت، مشیرِ پنجاب اور روزنامہ نئی دنیا سے وابستہ رہ کر صحافت کو ایک سنجیدہ اور باوقار رخ دیا۔ ماہنامہ آستانہ سے ان کی وابستگی ان کی عملی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔
مہدی نظمی کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ شاعری میں انہوں نے مسدس، طویل نظم، مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ جیسی اصناف میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ نثر کے میدان میں ادبی و تاریخی مضامین، ناول، ریڈیو تقاریر اور فیچرز تحریر کیے، جن میں فکری گہرائی اور اسلوب کی پختگی نمایاں ہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں ہندوستان، بھارت درشن، ہندوستان ارمِ بے نظیر، نذرِ نانک، صحیفۂ عقیدت، نذرِ اہلِ بیت (مظلومِ کربلا)، نقشِ فریاد، ساز و آواز، حرفِ دانش، ریگِ سرخ، نہج البلاغہ کے ہزار سال، غزل غزل، منظر پس منظر اور شمع فروزاں شامل ہیں۔
تاریخ و سیاست کے موضوعات پر بھی انہوں نے اہم کام کیا، جن میں خالد بن ولید، دوست و دشمن: اندرا گاندھی اور اقدام و نظریہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی ناول بھی تحریر کیے، جن میں دھوپ چاندنی، گرم خون، امِ عامر اور زلف و زنجیر خاص طور پر معروف ہیں۔
وفات: مہدی نظمی کا انتقال 30 مئی 1987ء کو ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
