- کتاب فہرست 178116
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مرزا عصمت اللہ خاں بیگ کا تعارف
اصلی نام : مرزا عصمت اللہ خاں بیگ
پیدائش : 30 Mar 1896 | دلی
وفات : 28 Mar 1954 | حیدر آباد, تلنگانہ
رشتہ داروں : مرزا فرحت اللہ بیگ (رشتے کا بھائی)
بحیثیت مزاح نگار، ادیب و شاعر ادبی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ اردو کے ممتاز مزاح نگار مرزا فرحت اللہ بیگ کے چچا زاد بھائی تھے۔ مزاح نگاری اور طنزیہ شاعری مرزا عصمت کا نمایاں وصف رہا۔ سنجیدہ مضامین کو مزاح کے پیرایہ میں اس خوبی سے ادا کیا کہ لطافت اور شگفتگی کے پہلو میں کوئی فرق محسوس نہ کیا جا سکا۔ ان کی شخصیت اور فکر و فن میں شمال اور دکن کا خوشگوار امتزاج تھا۔ وہ عہدِ عثمانی کے منتخب باکمال قادرالکلام ادیب، شاعر، معلم انسانیت، طنز و مزاح کے شگفتہ کار مصنف اور فکاہیہ نگار تھے۔ ان کی تصانیف میں رفیق اردوداں ہمارا ہندوستان، زریں حکایات، حکایاتِ جامی و سعدی، فاقہ کیوں؟، آسمان کے بھید اور کاک ٹیل کافی مقبول ہیں۔ بعد از وفات 1955ء میں مرزا عصمت اللہ بیگ کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت کے بطور جب ایک عظیم الشان یادگاری جلسہ منعقد ہوا تو اسی وقت ایک یادگاری کمیٹی "عصمت میموریل پبلیکیشنز کمیٹی" کی تشکیل بھی عمل میں آئی جس کے تحت مرزا صاحب کی کتابیں انوارِ تبسم، انوارِ ظرافت، ہمارا پنچ سالہ منصوبہ، گنجینۂ جوہر اور متاعِ ظرافت شائع کی گئیں۔
مرزا عصمت اللہ بیگ دہلی کے ایک شریف خاندان میں پیدا ہوئے مگر ان کی تعلیم و تربیت اور ملازمت کا زمانہ حیدرآباد ہی میں گزرا۔ مرزا صاحب خلیق، سنجیدہ اور شگفتہ مزاج تھے جس کی وجہ سے حیدرآباد کے علمی و ادبی طبقے میں ہردلعزیز اور مقبولِ خاص و عام رہے۔ جس محفل میں جاتے وہاں رونقِ محفل بن جاتے۔ طنز و مزاح آپ کی فطرت میں داخل تھا۔ ان کا مزاحیہ کلام ہو کہ مزاحیہ مضمون، جہاں دلچسپی کا سامان پیدا کرتا ہے وہیں طنز کی ہلکی ہلکی چٹکیاں بھی لیتا ہے۔
مزاح نگاری اور طنزیہ شاعری مرزا صاحب کا نمایاں وصف رہا ہے۔ مرزا صاحب کی مزاح نگاری کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی ظرافت اخلاقی معیار سے کبھی گرنے نہیں پاتی اور پختہ تعمیری اور اصلاحی مقصد آپ کے پیش نظر رہا۔ مرزا صاحب کے ادبی کارنامے ہندوستان اور حیدرآباد کی ادبی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ آپ کو بحیثیت مزاح نگار، شاعر، مدیر اور ڈراما نویس امتیازی شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے بیشمار مضامین اور ان گنت نظمیں اور غزلیں لکھی ہیں جن سے آپ کی ذہانت، مہارت اور کمالِ فن کا اظہار ہوتا ہے۔
مرزا صاحب حیدرآباد کے ان ادیبوں میں سے تھے جو ریڈیو، رسالوں، اخباروں اور ادبی جلسوں میں طنز و مزاح کی چاشنی سے بھرپور اپنے مضامین کے باعث عوام کے محبوب ادیب بنے اور حیدرآباد کی ادبی محفلوں کے روح رواں رہے۔ وہ اپنے ادبی کارناموں کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
