- کتاب فہرست 182454
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1390 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3285طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4307 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6612افسانہ2685 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1205
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد انصار اللہ کا تعارف
شناخت: ممتاز محقق، اردو زبان کے مورخ، ماہرِ لسانیات، مدوّن، نقاد اور اردو زبان کے قدیم سرمائے کے سنجیدہ اسکالر
ڈاکٹر محمد انصار اللہ 4 جنوری 1936ء کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ اردو زبان و ادب، خصوصاً قدیم متون، لسانیات اور تاریخِ زبان کے میدان میں ان کی خدمات بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا پہلا تحقیقی مضمون 1955ء میں نیاز فتحپوری کے معروف رسالے 'نگار' میں شائع ہوا۔ تحقیق کے اصول و آداب انھوں نے قاضی عبدالودود سے سیکھے، جس کا اثر ان کی علمی و تحقیقی زندگی پر نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے تقریباً چار سو تحقیقی مضامین اور ڈیڑھ درجن سے زائد تحقیقی کتابیں تصنیف و تدوین کیں۔ 1967ء سے 1996ء تک شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لکچرر، ریڈر اور پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدوین، تاریخ و تنقید، لسانیات، ترجمہ اور لغت نویسی کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنائے رکھا۔
محمد انصار اللہ کی پہلی اہم کتاب 'اردو کے حروفِ تہجی' 1972ء میں شائع ہوئی جس میں اردو رسم الخط، حروف کی ساخت، نئی آوازوں کے لیے نئے حروف کی تشکیل اور املا کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اردو رسم الخط کے ارتقا کو تاریخی اور لسانی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اسی سال ان کی ایک اور اہم تصنیف 'پدماوت کی مختصر فرہنگ' منظرِ عام پر آئی جس میں ملک محمد جائسی کی 'پدماوت' کی فرہنگ مرتب کی گئی۔ اس کے مقدمے میں انھوں نے جائسی، اودھی زبان اور اس دور کی لسانی صورتِ حال پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔
انصار اللہ نے 'قاعدۂ ہندیِ ریختہ'، 'تلخیصِ معلی'، 'رسالہ زبانِ ریختہ'، ’’قطعہ منتخبہ'، 'برہن کی کہانی' اور ملا داؤد کی 'چنداین' جیسی اہم کتابوں کی تدوین بھی کی۔ ان متون پر ان کے مقدمے اور حواشی ان کے وسیع مطالعے، تحقیقی بصیرت اور قدیم ادب سے گہری واقفیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ خصوصاً 'چنداین' کی تدوین میں انھوں نے متن کی تصحیح، الحاقی اشعار کی نشاندہی، ترجمہ اور توضیحی حواشی کے ذریعے ایک اہم علمی خدمت انجام دی۔
اس کے علاوہ 'جامع التذکرہ' (تین جلدوں میں) 'غالب ببلیوگرافی'، 'سنسکرت اردو لغت'، تاریخ اقلیم ادب'، 'تاریخ زبان و ادب اردو'، 'اردو میں تدوین'، 'اردو صرف'، اردو نحو'، 'اردو پر تمل کے اثرات' وغیرہ اہم کتابیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد انصار اللہ نے اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے سلسلے میں ایک مخصوص نظریہ پیش کیا۔ ان کے نزدیک اودھی کو اردو زبان کے ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے دہلی کو اردو کا واحد مولد تسلیم کرنے کے بجائے ہندوستان کی سیاسی و تمدنی تاریخ اور مختلف بولیوں کے اثرات کو بنیاد بنا کر اپنے نظریات مرتب کیے۔ اگرچہ ان کے بعض نظریات کو اہلِ علم کی مکمل تائید حاصل نہ ہو سکی اور ان پر اعتراضات بھی کیے گئے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انھوں نے اردو لسانیات کے کئی اہم مباحث کو نئے زاویے سے دیکھنے کی راہ ہموار کی اور مزید تحقیق کے لیے قابلِ قدر مواد فراہم کیا۔
ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں آل انڈیا میر اکیڈمی، لکھنؤ نے انھیں 'امتیازِ میر' سے نوازا، جب کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی، کلکتہ نے ان کی کتاب 'معتمد الدولہ آغا میر' پر پہلا انعام عطا کیا۔
وفات: ڈاکٹر محمد انصار اللہ کا انتقال 2017ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ncpulblog.blogspot.com/2026/01/blog-post_60.html
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
