- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد انصار اللہ کا تعارف
شناخت: ممتاز محقق، اردو زبان کے مورخ، ماہرِ لسانیات، مدوّن، نقاد اور اردو زبان کے قدیم سرمائے کے سنجیدہ اسکالر
ڈاکٹر محمد انصار اللہ 4 جنوری 1936ء کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ اردو زبان و ادب، خصوصاً قدیم متون، لسانیات اور تاریخِ زبان کے میدان میں ان کی خدمات بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا پہلا تحقیقی مضمون 1955ء میں نیاز فتحپوری کے معروف رسالے 'نگار' میں شائع ہوا۔ تحقیق کے اصول و آداب انھوں نے قاضی عبدالودود سے سیکھے، جس کا اثر ان کی علمی و تحقیقی زندگی پر نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے تقریباً چار سو تحقیقی مضامین اور ڈیڑھ درجن سے زائد تحقیقی کتابیں تصنیف و تدوین کیں۔ 1967ء سے 1996ء تک شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لکچرر، ریڈر اور پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدوین، تاریخ و تنقید، لسانیات، ترجمہ اور لغت نویسی کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنائے رکھا۔
محمد انصار اللہ کی پہلی اہم کتاب 'اردو کے حروفِ تہجی' 1972ء میں شائع ہوئی جس میں اردو رسم الخط، حروف کی ساخت، نئی آوازوں کے لیے نئے حروف کی تشکیل اور املا کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اردو رسم الخط کے ارتقا کو تاریخی اور لسانی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اسی سال ان کی ایک اور اہم تصنیف 'پدماوت کی مختصر فرہنگ' منظرِ عام پر آئی جس میں ملک محمد جائسی کی 'پدماوت' کی فرہنگ مرتب کی گئی۔ اس کے مقدمے میں انھوں نے جائسی، اودھی زبان اور اس دور کی لسانی صورتِ حال پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔
انصار اللہ نے 'قاعدۂ ہندیِ ریختہ'، 'تلخیصِ معلی'، 'رسالہ زبانِ ریختہ'، ’’قطعہ منتخبہ'، 'برہن کی کہانی' اور ملا داؤد کی 'چنداین' جیسی اہم کتابوں کی تدوین بھی کی۔ ان متون پر ان کے مقدمے اور حواشی ان کے وسیع مطالعے، تحقیقی بصیرت اور قدیم ادب سے گہری واقفیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ خصوصاً 'چنداین' کی تدوین میں انھوں نے متن کی تصحیح، الحاقی اشعار کی نشاندہی، ترجمہ اور توضیحی حواشی کے ذریعے ایک اہم علمی خدمت انجام دی۔
اس کے علاوہ 'جامع التذکرہ' (تین جلدوں میں) 'غالب ببلیوگرافی'، 'سنسکرت اردو لغت'، تاریخ اقلیم ادب'، 'تاریخ زبان و ادب اردو'، 'اردو میں تدوین'، 'اردو صرف'، اردو نحو'، 'اردو پر تمل کے اثرات' وغیرہ اہم کتابیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد انصار اللہ نے اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے سلسلے میں ایک مخصوص نظریہ پیش کیا۔ ان کے نزدیک اودھی کو اردو زبان کے ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے دہلی کو اردو کا واحد مولد تسلیم کرنے کے بجائے ہندوستان کی سیاسی و تمدنی تاریخ اور مختلف بولیوں کے اثرات کو بنیاد بنا کر اپنے نظریات مرتب کیے۔ اگرچہ ان کے بعض نظریات کو اہلِ علم کی مکمل تائید حاصل نہ ہو سکی اور ان پر اعتراضات بھی کیے گئے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انھوں نے اردو لسانیات کے کئی اہم مباحث کو نئے زاویے سے دیکھنے کی راہ ہموار کی اور مزید تحقیق کے لیے قابلِ قدر مواد فراہم کیا۔
ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں آل انڈیا میر اکیڈمی، لکھنؤ نے انھیں 'امتیازِ میر' سے نوازا، جب کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی، کلکتہ نے ان کی کتاب 'معتمد الدولہ آغا میر' پر پہلا انعام عطا کیا۔
وفات: ڈاکٹر محمد انصار اللہ کا انتقال 2017ء میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ncpulblog.blogspot.com/2026/01/blog-post_60.html
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
