- کتاب فہرست 179600
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مولانا محمد اسلم جیراجپوری کا تعارف
شناخت: ممتاز اسلامی مفکر، مؤرخ، ماہرِ قرآن و حدیث اور تحریکِ تجدیدِ دین کے علمبردار
اسلم جیراجپوری 27 جنوری 1882ء کو جیراجپور (اعظم گڑھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا سلامت اللہ جیراجپوری خود ایک جید عالمِ دین تھے۔ اسلم جیراجپوری نے خالص علمی و دینی ماحول میں پرورش پائی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز لاہور کے روزنامہ 'پیسہ' سے کیا، لیکن جلد ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، مولانا محمد علی جوہر کے اصرار پر وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اسلامی تاریخ اور تفسیرِ قرآن کے پروفیسر کی حیثیت سے نام پیدا کیا۔
علامہ اسلم جیراجپوری ایک زود نویس اور کثیر التصانیف ادیب تھے۔ ان کی شاہکار تصنیف 'تاریخ الامت' (آٹھ جلدیں) ہے، جس میں انہوں نے صرف ٹھوس تاریخی شواہد اور عقلی دلائل پر تکیہ کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں 'تاریخ القرآن'، 'تعلیماتِ قرآن'، 'نوادرات' اور 'فاتح مصر' شامل ہیں۔ وہ قرآن کو قرآن ہی کی مدد سے سمجھنے کے قائل تھے، جس کی وجہ سے انہیں مفکرین کے ایک طبقے نے 'منکرِ حدیث' کے زمرے میں ڈالا، حالانکہ وہ اسوہ حسنہ اور سنتِ متواترہ کو یقینی مانتے تھے مگر احادیث کی تاریخی حیثیت پر اپنا ایک الگ تحقیقی مؤقف رکھتے تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو علامہ اقبال سے علمی قربت تھی۔ وہ اقبال کی فکر سے متاثر تھے اور اقبال بھی ان کے تبحرِ علمی کا احترام کرتے تھے۔ جب اقبال نے اپنی مثنوی 'اسرارِ خودی' میں حافظ شیرازی کی شاعری پر تنقید کی تو علمی حلقوں میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اسلم جیراجپوری نے اس معاملے پر نہایت بے لاگ اور متوازن تبصرہ کیا اور اقبال کو مشورہ دیا کہ حافظ کے متعلق وہ اشعار نہ لکھتے تو بہتر ہوتا، کیونکہ اس سے اصل مسئلہ بحثوں میں دب گیا تھا۔ اقبال نے ان کے اس تبصرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے 'جاوید نامہ' کی معنویت کو فارسی کی چار بڑی کتابوں پر فوقیت دی۔ علامہ اسلم جیراجپوری نے دین فہمی اور اقبال فہمی میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔
وفات: علامہ اسلم جیراجپوری کا انتقال 28 دسمبر 1955ء کو دہلی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Aslam_Jairajpuri
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
