Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

محمد اسلم

1932 - 1998 | لاہور, پاکستان

مورخ، محقق اور وفیات نگار

مورخ، محقق اور وفیات نگار

محمد اسلم کا تعارف

پیدائش : 28 Nov 1932 | جالندھر, پنجاب

وفات : 06 Oct 1998 | لاہور, پنجاب

شناخت: مورخ، محقق اور وفیات نگار

پروفیسر محمد اسلم 28 نومبر 1932ء کو تحصیل پھلور، ضلع جالندھر (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام طفیل محمد تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے تک کی تمام تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 1958ء میں انگلستان گئے، جہاں انہوں نے ڈرہم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)، جامعہ مانچسٹر سے ایم اے (فارسی) اور جامعہ کیمبرج سے ایم لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔

1967ء میں وطن واپس آکر جامعہ پنجاب کے شعبۂ تاریخ میں بطور لیکچرار مقرر ہوئے۔ تدریس، تحقیق اور علمی خدمات کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ بنے، اور 27 نومبر 1992ء کو اسی منصب سے سبکدوش ہوئے۔ کچھ عرصہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے سیکریٹری بھی رہے۔

پروفیسر محمد اسلم کا شمار پاکستان کے مورخین، محققین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ انہیں بالخصوص وفیات نگاری کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی اکابرین کے حالاتِ زندگی اور مدفون شخصیات پر مستند تحقیقی کام کیا، جس نے اس میدان میں ایک نئی روایت قائم کی۔

ان کی نمایاں تصانیف میں 'وفیات مشاہیرِ پاکستان'، 'خفتگانِ کراچی'، 'خفتگانِ خاکِ لاہور'، 'وفیات اعیانِ پاکستان'، 'دینِ الٰہی اور اس کا پس منظ'ر، 'تاریخی مقالات'، 'سرمایۂ عمر'، 'سلاطینِ دہلی اور شاہانِ مغلیہ کا ذوقِ موسیقی'، 'سفرنامۂ ہن'د، 'ملفوظاتی ادب کی تاریخی اہمیت'، 'محمد بن قاسم اور اس کے جانشین' اور 'مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات' (ترتیب) شامل ہیں۔ انہوں نے فارسی کتاب 'سلوک الملوک' کا انگریزی ترجمہ Muslim Conduct of State کے عنوان سے بھی کیا۔

وفات: پروفیسر محمد اسلم کا انتقال 6 اکتوبر 1998ء کو لاہور میں ہوا۔

Recitation

بولیے