- کتاب فہرست 180745
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1373 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3351طنز و مزاح601 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط724 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4783 تحقیق و تنقید6710افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4885
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محمد اسلم کا تعارف
شناخت: مورخ، محقق اور وفیات نگار
پروفیسر محمد اسلم 28 نومبر 1932ء کو تحصیل پھلور، ضلع جالندھر (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام طفیل محمد تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے تک کی تمام تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 1958ء میں انگلستان گئے، جہاں انہوں نے ڈرہم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)، جامعہ مانچسٹر سے ایم اے (فارسی) اور جامعہ کیمبرج سے ایم لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔
1967ء میں وطن واپس آکر جامعہ پنجاب کے شعبۂ تاریخ میں بطور لیکچرار مقرر ہوئے۔ تدریس، تحقیق اور علمی خدمات کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ بنے، اور 27 نومبر 1992ء کو اسی منصب سے سبکدوش ہوئے۔ کچھ عرصہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے سیکریٹری بھی رہے۔
پروفیسر محمد اسلم کا شمار پاکستان کے مورخین، محققین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ انہیں بالخصوص وفیات نگاری کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی اکابرین کے حالاتِ زندگی اور مدفون شخصیات پر مستند تحقیقی کام کیا، جس نے اس میدان میں ایک نئی روایت قائم کی۔
ان کی نمایاں تصانیف میں 'وفیات مشاہیرِ پاکستان'، 'خفتگانِ کراچی'، 'خفتگانِ خاکِ لاہور'، 'وفیات اعیانِ پاکستان'، 'دینِ الٰہی اور اس کا پس منظ'ر، 'تاریخی مقالات'، 'سرمایۂ عمر'، 'سلاطینِ دہلی اور شاہانِ مغلیہ کا ذوقِ موسیقی'، 'سفرنامۂ ہن'د، 'ملفوظاتی ادب کی تاریخی اہمیت'، 'محمد بن قاسم اور اس کے جانشین' اور 'مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات' (ترتیب) شامل ہیں۔ انہوں نے فارسی کتاب 'سلوک الملوک' کا انگریزی ترجمہ Muslim Conduct of State کے عنوان سے بھی کیا۔
وفات: پروفیسر محمد اسلم کا انتقال 6 اکتوبر 1998ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
