- کتاب فہرست 179970
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1586 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح608 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4298 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد اسلم کا تعارف
شناخت: مورخ، محقق اور وفیات نگار
پروفیسر محمد اسلم 28 نومبر 1932ء کو تحصیل پھلور، ضلع جالندھر (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام طفیل محمد تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے تک کی تمام تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 1958ء میں انگلستان گئے، جہاں انہوں نے ڈرہم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)، جامعہ مانچسٹر سے ایم اے (فارسی) اور جامعہ کیمبرج سے ایم لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔
1967ء میں وطن واپس آکر جامعہ پنجاب کے شعبۂ تاریخ میں بطور لیکچرار مقرر ہوئے۔ تدریس، تحقیق اور علمی خدمات کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ بنے، اور 27 نومبر 1992ء کو اسی منصب سے سبکدوش ہوئے۔ کچھ عرصہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے سیکریٹری بھی رہے۔
پروفیسر محمد اسلم کا شمار پاکستان کے مورخین، محققین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ انہیں بالخصوص وفیات نگاری کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی اکابرین کے حالاتِ زندگی اور مدفون شخصیات پر مستند تحقیقی کام کیا، جس نے اس میدان میں ایک نئی روایت قائم کی۔
ان کی نمایاں تصانیف میں 'وفیات مشاہیرِ پاکستان'، 'خفتگانِ کراچی'، 'خفتگانِ خاکِ لاہور'، 'وفیات اعیانِ پاکستان'، 'دینِ الٰہی اور اس کا پس منظ'ر، 'تاریخی مقالات'، 'سرمایۂ عمر'، 'سلاطینِ دہلی اور شاہانِ مغلیہ کا ذوقِ موسیقی'، 'سفرنامۂ ہن'د، 'ملفوظاتی ادب کی تاریخی اہمیت'، 'محمد بن قاسم اور اس کے جانشین' اور 'مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات' (ترتیب) شامل ہیں۔ انہوں نے فارسی کتاب 'سلوک الملوک' کا انگریزی ترجمہ Muslim Conduct of State کے عنوان سے بھی کیا۔
وفات: پروفیسر محمد اسلم کا انتقال 6 اکتوبر 1998ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
