- کتاب فہرست 180580
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب970 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد اسلم کا تعارف
شناخت: مورخ، محقق اور وفیات نگار
پروفیسر محمد اسلم 28 نومبر 1932ء کو تحصیل پھلور، ضلع جالندھر (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام طفیل محمد تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے تک کی تمام تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 1958ء میں انگلستان گئے، جہاں انہوں نے ڈرہم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)، جامعہ مانچسٹر سے ایم اے (فارسی) اور جامعہ کیمبرج سے ایم لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔
1967ء میں وطن واپس آکر جامعہ پنجاب کے شعبۂ تاریخ میں بطور لیکچرار مقرر ہوئے۔ تدریس، تحقیق اور علمی خدمات کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ بنے، اور 27 نومبر 1992ء کو اسی منصب سے سبکدوش ہوئے۔ کچھ عرصہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے سیکریٹری بھی رہے۔
پروفیسر محمد اسلم کا شمار پاکستان کے مورخین، محققین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ انہیں بالخصوص وفیات نگاری کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی اکابرین کے حالاتِ زندگی اور مدفون شخصیات پر مستند تحقیقی کام کیا، جس نے اس میدان میں ایک نئی روایت قائم کی۔
ان کی نمایاں تصانیف میں 'وفیات مشاہیرِ پاکستان'، 'خفتگانِ کراچی'، 'خفتگانِ خاکِ لاہور'، 'وفیات اعیانِ پاکستان'، 'دینِ الٰہی اور اس کا پس منظ'ر، 'تاریخی مقالات'، 'سرمایۂ عمر'، 'سلاطینِ دہلی اور شاہانِ مغلیہ کا ذوقِ موسیقی'، 'سفرنامۂ ہن'د، 'ملفوظاتی ادب کی تاریخی اہمیت'، 'محمد بن قاسم اور اس کے جانشین' اور 'مولانا عبید اللہ سندھی کے سیاسی مکتوبات' (ترتیب) شامل ہیں۔ انہوں نے فارسی کتاب 'سلوک الملوک' کا انگریزی ترجمہ Muslim Conduct of State کے عنوان سے بھی کیا۔
وفات: پروفیسر محمد اسلم کا انتقال 6 اکتوبر 1998ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
