- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4784 تحقیق و تنقید6711افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محمد فرحان دیوان کا تعارف
محمد فرحان دیوان 8 نومبر 1990 کو اتر پردیش کے مردم خیز شہر کالپی (ضلع جالون) میں عبدالناظر دیوان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کالپی کے معزز اور علمی ذوق کے حامل ’’دیوان خاندان‘‘ سے ہے، جو اپنے سماجی وقار اور تہذیبی شناخت کے سبب شہر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
ان کی ابتدائی تعلیم کالپی ہی کے معروف تعلیمی اداروں ’لٹل اینجل پبلک اسکول‘ اور ’سرسوتی ودیا مندر‘ میں ہوئی، جہاں سے علم و آگہی کا پہلا چراغ روشن ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی آرزو نے انہیں علی گڑھ کی علمی فضا کی طرف متوجہ کیا اور یوں انہوں نے 2008 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔
جامعہ کی ہمہ گیر فضا میں محمد فرحان نے نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ کھیل کود اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ کھیل اور سیروتفریح سے فطری شغف کے باعث وہ این سی سی اور این ایس ایس جیسے منظم اداروں سے وابستہ ہوئے، نیز لان ٹینس اور ہائکنگ اینڈ ماؤنٹینئیرنگ کلب میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ آفتاب ہال میں قیام کے دوران وہ لان ٹینس کلب کے کپتان منتخب ہوئے اور ہال کی میگزین کی مجلسِ ادارت سے بھی وابستہ رہے، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ادبی ذوق کا بین ثبوت ہے۔
2012 میں ایم اے کی سند حاصل کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے یو جی سی کے نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی، جو ان کی علمی سنجیدگی اور تحقیقی استعداد کا مظہر ہے۔ بعد ازاں 2014 میں پی جی ڈپلوما اِن ماس کمیونیکیشن مکمل کیا اور اسی سال پی ایچ ڈی میں داخل ہو کر باقاعدہ تحقیقی سفر کا آغاز کیا۔
تعلیم و تحقیق کے اس مسلسل سفر نے محمد فرحان دیوان کو تنقیدی بصیرت اور فکری بالیدگی عطا کی۔ دورانِ تحقیق ان کے علمی، ادبی، تہذیبی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی موضوعات پر مبنی مضامین ملک کے مختلف معتبر رسائل میں شائع ہوئے، جن سے ان کی سنجیدہ فکر اور وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔
پی ایچ ڈی کی سند 2018 میں عطا ہونے سے قبل ہی ان کی دو اہم کتابیں ’’مضامین انوار انصاری‘‘ (2017) اور ’’مطالعۂ ادب کی جہتیں‘‘ (2018) منظر عام پر آچکی تھیں، جو ان کی تنقیدی بصیرت اور تحقیقی مزاج کی آئینہ دار ہیں۔ 2020 میں انہوں نے ہندی ناول ’’چھن مول‘‘ کا اردو ترجمہ ’’بحران‘‘ کے عنوان سے پیش کیا، جس سے ان کی لسانی مہارت اور ترجمہ نگاری کی صلاحیت نمایاں ہوئی۔ مزید برآں 2025 میں ان کی تازہ تصنیف ’’شان الحق حقی: شخصیت اور فن‘‘ شائع ہوئی، جو اردو ادب کی ایک اہم شخصیت پر ان کی گہری تحقیق اور فکری وابستگی کا ثبوت ہے۔
مختصراً، محمد فرحان دیوان عصرِ حاضر کے ان نوجوان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمی وقار، ادبی سنجیدگی اور تحقیقی ژرف نگاہی کو اپنی شناخت بنایا ہے، اور جن کا تخلیقی و تنقیدی سفر مسلسل ارتقا کی جانب گامزن ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
