- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1712 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4331 سیاسی355 مذہبیات4773 تحقیق و تنقید6628افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4261خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت587
- نظم1213
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد حمید شاہد کا تعارف
پیدائش : 23 Mar 1957
محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک(پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد غلام محمداپنے علاقے میں علم دوست سماجی سیاسی شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ انہوں نے گھر میں کتب خانہ بنا رکھا تھا جس نے محمد حمید شاہد کو مطالعےکی طرف راغب کیا ۔ آپ نسبی طور پر اعوان اجمال ہیں اورآپ کے دادا حافظ غلام نبی نے 1947 میں اپنے گاؤں چکی کو خیر باد کہہ کر پنڈی گھیب میں سکونت اختیار کی تھی۔
محمد حمیدشاہد نے ابتدائی تعلیم پنڈی گھیب سے پائی جبکہ میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) چلے گئے جہاں ایف ایس سی کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجوئیشن کی۔ ہارٹیکلچرل میں فاضل ہونے کے بعد، آپ نے اپنی تعلیمی ترجیحات کو بدلنا چاہا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لے لیا مگر والد صاحب کی شدید علالت اور ازاں بعد وفات سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور ایک بنکار کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز ہوا۔
ایک بنکار کے طور پر بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے ۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔آپ بنک کے سٹاف کالج میں مستقل طور پر کریڈٹ، ریکوری، اکاونٹنگ ، رسک مینیجمنٹ اور آن لائن بینکنگ جیسے موضوعات پر لیکچرز دیتے رہے ۔ان موضوعات پر دوسرے بینکوں، مالیاتی اداروں اور یونیورسٹیوں میں بھی خصوصی لیکچرز دیے ۔
محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔
پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں ۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا ۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔
فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن:نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب"سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔
حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" کا اعلان پاکستان کے قومی دن 14 اگست 2016 کو کیا ، جو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے23 مارچ 2017 کو ایوان صدر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں دیا۔علاوہ ازیں ان کی کتاب "دہشت میں محبت" پر لٹریچر ایکسی لینس ایوارڈ بھی مل چکا ہے ۔ محمد حمید شاہد اکادمی ادبیات پاکستان کے جریدے "ادبیات" کے علاوہ ملک اور بیرون ملک سے شائع ہونے والے متعدد ادبی جرائد کی مجالس مشاورت کا حصہ ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
-
