- کتاب فہرست 180736
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3285طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1694 خطوط734
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6517افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4219خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1256
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد حمید اللہ کا تعارف
اصلی نام : محمد حمید اللہ
پیدائش : 19 Feb 1908 | حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 17 Dec 2002 | ریاستہائے متحدہ امریکہ
شناخت: محدث، محقق، بین الاقوامی قانون کے ماہر اور بیسویں صدی کے ممتاز اسلامی اسکالر
ڈاکٹر محمد حمید اللہ 19 فروری 1908ء کو حیدرآباد دکن کے ایک علمی و دینی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مفتی ابو محمد خلیل اللہ ممتاز فقیہ، ماہرِ قانون اور ریاستِ حیدرآباد کے اعلیٰ عہدے دار تھے۔ ان کے آباء و اجداد میں کئی جید علما اور مفسرین گزرے جنہوں نے قرآن و حدیث کے علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
محمد حمید اللہ نے مدرسہ نظامیہ سے مولوی کامل کی سند امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ عثمانیہ سے بی اے، ایل ایل بی اور بین الاقوامی قانون میں ایم اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گئے اور 1932ء میں بون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے دوسری ڈاکٹریٹ (D.Litt) مکمل کی۔ 1936ء سے 1946ء تک جامعہ عثمانیہ میں بین الاقوامی قانون کے استاد رہے۔
1948ء میں نظامِ حیدرآباد نے انہیں اقوامِ متحدہ میں ریاستِ حیدرآباد کا نمائندہ مقرر کیا۔ ریاستِ حیدرآباد کے انضمام کے بعد وہ فرانس میں مقیم ہو گئے۔ فرانسیسی حکومت نے انہیں حیدرآباد کے مہاجر کی حیثیت سے پناہ دی۔ 1954ء سے 1978ء تک وہ فرانس کے قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق (CNRS) سے وابستہ رہے۔ اس دوران ترکی کی مختلف جامعات میں بھی تدریسی و علمی خدمات انجام دیتے رہے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا شمار بیسویں صدی کے عظیم اسلامی محققین میں ہوتا ہے۔ حدیث، سیرت، اسلامی تاریخ، اسلامی قانون اور تہذیب و ثقافت پر ان کی درجنوں کتابیں اور سیکڑوں تحقیقی مقالات شائع ہوئے۔ انہوں نے قرآنِ مجید کے تراجم متعدد زبانوں میں کیے اور سیرتِ نبوی پر ان کی تصنیف کو عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ’’خطباتِ بہاولپور‘‘، ’’رسولِ اکرم کی سیاسی زندگی‘‘، ’’مسلم طرزِ حکومت‘‘ اور ’’عہدِ نبوی کے عہدنامے‘‘ ان کی نمایاں تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔
اسلامی علوم کے فروغ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1985ء میں انہیں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا، جس کی رقم انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کو عطیہ کر دی۔
وفات: ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا انتقال 17 دسمبر 2002ء کو امریکہ میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Hamidullah
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
