- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد حسن کا تعارف
شناخت: ترقی پسند نقاد، شاعر، ڈرامہ نگار، ناول نگار، ایڈیٹر اور استاد
پروفیسر محمد حسن یکم جولائی 1926ء کو مراد آباد کے ایک معزز اور دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسے میں حاصل کی اور 1939ء میں ہیوٹ مسلم ہائی اسکول مراد آباد سے میٹرک کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں ادب کے ساتھ سیاست، تہذیب اور فنون لطیفہ سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔ 1946ء میں ایم اے اردو اور 1956ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ابتدا میں اسی جامعہ کے شعبۂ اردو میں لکچرر رہے، پھر 1954ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، 1963ء میں دہلی یونیورسٹی میں ریڈر مقرر ہوئے، 1971ء میں کشمیر یونیورسٹی میں پروفیسر بنے اور 1973ء سے 1991ء تک جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اردو صحافت، فلم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے باقاعدہ پوسٹ ڈپلوما کورس شروع کیا۔ ان کی 78 سے زائد کتابیں شائع ہوئیں اور 1973ء میں انہیں جواہر لعل نہرو فیلوشپ جیسا بڑا تحقیقی اعزاز ملا۔
ان کی ذہنی تشکیل ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ہوئی جس فضا میں سجاد ظہیر، سردار جعفری، احتشام حسین اور رشید جہاں جیسے اہل قلم سرگرم تھے۔ مگر انہوں نے ترقی پسندی کو محض نعرہ نہیں بلکہ سائنٹیفک اور ہمہ گیر تصورِ حیات قرار دیا اور ہمیشہ معروضی تنقیدی رویہ اختیار کیا۔ جدید رجحانات کے شاعر میراجی کے بارے میں ان کی کشادہ ذہنی ترقی پسند تنقید میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
ترقی پسند فکر کی اشاعت کے لیے انہوں نے 1976ء میں سہ ماہی جریدہ “عصری ادب” جاری کیا جو بیس برس سے زیادہ عرصے تک ادب اور سماجی و سیاسی مباحث کا اہم پلیٹ فارم بنا رہا۔ ان کے نزدیک اعلیٰ ادب فوری حل پیش کرنے کے بجائے انسان کے خواب اور آرزوئیں بدلتا ہے اور مستقبل کے انسان کی تعمیر کرتا ہے۔
فکشن میں ان کا نمایاں کارنامہ ناول “غم دل وحشتِ دل” ہے جو شاعر مجاز لکھنوی کی زندگی پر مبنی سوانحی ناول ہے۔ شاعری کے مجموعے: زنجیرِ نغمہ، خواب نگر۔ ان کی نظموں، افسانوں اور ڈراموں میں جبر و استحصال، آمریت اور سماجی ناانصافی کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے، ایمرجنسی کے دور میں لکھا گیا ڈرامہ “ضحاک” اسی مزاحمتی رویے کی مثال ہے۔ مسلم معاشرے کی قدامت پرستی اور عورت کی مظلومیت پر بھی انہوں نے سخت تنقیدی موقف اختیار کیا۔
وہ زندگی بھر انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے اور جدیدیت اور ترقی پسندی کے درمیان ایک فکری پل کی حیثیت اختیار کی۔ ان کے نزدیک ترقی پسندی فارمولا نہیں بلکہ ایک بنیادی رویہ ہے جو زندگی کے ہر چھوٹے بڑے تجربے کو دیکھنے کا زاویہ عطا کرتا ہے۔ وہ ادیبوں اور دانشوروں کو سماج سے جڑے رہنے، حق گوئی اور بے باکی کی تلقین کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ادب نعروں سے زیادہ دیرپا انسانی قدروں کی تعمیر کا عمل ہے۔
پروفیسر محمد حسن بیک وقت نقاد، مورخ، شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نگار اور صحافی تھے۔ ترقی پسند تحریک کے زوال کے بعد بھی آخری دم تک اسی فکر کے وفادار اور سرگرم نمائندہ رہے اور ظلم، استحصال اور نابرابری کے خلاف فکر و قلم کی جدوجہد جاری رکھی۔
وفات: 25 اپریل 2010ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
