- کتاب فہرست 182702
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1220
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد کیف فرشوری کا تعارف
ڈاکٹر محمد کیف فرشوری ایک نو جوان مصنف اور قلم کار ہیں۔ ان کا تعلق صوبۂ اتر پردیس کے مردم خیز خطے بدایوں کے ایک علمی خانوادے ’’فرشوری خاندان‘‘ سے ہے۔ سر سید تحریک اور سر سید کے مشن کو فروغ دینے اور اس کو تقویت پہنچانے میں یہ خانوادہ پیش پیش رہا ہے۔ مولوی ابوالحسن صدیقی، ایم۔ اے۔ او۔ کالج کے پہلے ہندوستانی پرنسپل اور سر سید کے سکریٹری، اسی خانوادے کے پروردہ تھے۔ حافظ مولوی محمد فضلِ اکرم فرشوری نے مسلم یونیورسٹی تحریک کے وفد کا بدایوں میں نہ صرف استقبال کیا، بلکہ عوام و خواص سے اور خود اپنی جانب سے بھی چندے کی معقول رقم فراہم کی، آپ کے چھوٹے بھائی مولوی حضور الحسنین نے ۱۸۹۹ء میں ایم۔ او۔ کالج سے بی۔ اے۔ کیا۔ اردو کے ممتاز محقق پروفیسر آلِ احمد سرور اسی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔
ڈاکٹر کیف کے والد رفعت العین محمد جلیل فرشوری، دانش گاہِ علی گڑھ کے فرخندہ و سرخرو طالبِ علم رہے ہیں۔ آپ اے۔ ایم۔ یو۔ اسٹوڈنٹس یونین سے بھی وابستہ رہے۔ ڈاکٹر کیف نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور یہاں سے ایم۔ اے۔، ایم۔فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کی اسناد حاصل کیں۔ ایم۔ فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کے مقالوں کے ارقام میں پروفیسر سید محمد امین نے ان کی سرپرستی و راہ نمائی کی۔ ڈاکٹر کیف دسمبر ۲۰۱۱ء کے یو۔جی۔سی۔ نیٹ اینڈ جے آر ایف (UGC NET & JRF) امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر کیف فی الحال شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور درس و تدریس میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب تک ان کی تین کتابیں ’’شکیل بدایونی: شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ (مصنف)، تذکرہ ’’بہارِ بوستانِ شعرا‘‘ (مرتب و مدون) اور ’’کنز التاریخ‘‘ (مرتب و مدون) منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن کی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی ہے اور ان کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔ یہ تینوں کتابیں ’’قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی‘‘ کی اسکیم ’’مالی تعاون برائے اشاعتِ مسودات‘‘ کے تحت شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر کیف کی دو اور کتابیں ’’مغنی تبسم‘‘ اور ’’آثارِ بدایوں‘‘، تصنیف و ترتیب کے مرحلے میں ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے درجن بھر سے زائد مضامین و مقالات ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ انھوںنے متعدد قومی و بین الاقوامی سمیناروں، ویبی ناروں اور کانفرنسوں میں بھی شرکت کر تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اتر پردیش اردو اکادمی نے اُنھیں ’’کنزالتاریخ‘‘ (۲۰۱۹ئ) کے لیے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ادارہ ان کے نیک اور روشن مستقبل کی دعا کرتا ہے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
