- کتاب فہرست 177518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6591افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5837-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد کیف فرشوری کا تعارف
ڈاکٹر محمد کیف فرشوری ایک نو جوان مصنف اور قلم کار ہیں۔ ان کا تعلق صوبۂ اتر پردیس کے مردم خیز خطے بدایوں کے ایک علمی خانوادے ’’فرشوری خاندان‘‘ سے ہے۔ سر سید تحریک اور سر سید کے مشن کو فروغ دینے اور اس کو تقویت پہنچانے میں یہ خانوادہ پیش پیش رہا ہے۔ مولوی ابوالحسن صدیقی، ایم۔ اے۔ او۔ کالج کے پہلے ہندوستانی پرنسپل اور سر سید کے سکریٹری، اسی خانوادے کے پروردہ تھے۔ حافظ مولوی محمد فضلِ اکرم فرشوری نے مسلم یونیورسٹی تحریک کے وفد کا بدایوں میں نہ صرف استقبال کیا، بلکہ عوام و خواص سے اور خود اپنی جانب سے بھی چندے کی معقول رقم فراہم کی، آپ کے چھوٹے بھائی مولوی حضور الحسنین نے ۱۸۹۹ء میں ایم۔ او۔ کالج سے بی۔ اے۔ کیا۔ اردو کے ممتاز محقق پروفیسر آلِ احمد سرور اسی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔
ڈاکٹر کیف کے والد رفعت العین محمد جلیل فرشوری، دانش گاہِ علی گڑھ کے فرخندہ و سرخرو طالبِ علم رہے ہیں۔ آپ اے۔ ایم۔ یو۔ اسٹوڈنٹس یونین سے بھی وابستہ رہے۔ ڈاکٹر کیف نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور یہاں سے ایم۔ اے۔، ایم۔فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کی اسناد حاصل کیں۔ ایم۔ فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کے مقالوں کے ارقام میں پروفیسر سید محمد امین نے ان کی سرپرستی و راہ نمائی کی۔ ڈاکٹر کیف دسمبر ۲۰۱۱ء کے یو۔جی۔سی۔ نیٹ اینڈ جے آر ایف (UGC NET & JRF) امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر کیف فی الحال شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور درس و تدریس میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب تک ان کی تین کتابیں ’’شکیل بدایونی: شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ (مصنف)، تذکرہ ’’بہارِ بوستانِ شعرا‘‘ (مرتب و مدون) اور ’’کنز التاریخ‘‘ (مرتب و مدون) منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن کی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی ہے اور ان کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔ یہ تینوں کتابیں ’’قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی‘‘ کی اسکیم ’’مالی تعاون برائے اشاعتِ مسودات‘‘ کے تحت شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر کیف کی دو اور کتابیں ’’مغنی تبسم‘‘ اور ’’آثارِ بدایوں‘‘، تصنیف و ترتیب کے مرحلے میں ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے درجن بھر سے زائد مضامین و مقالات ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ انھوںنے متعدد قومی و بین الاقوامی سمیناروں، ویبی ناروں اور کانفرنسوں میں بھی شرکت کر تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اتر پردیش اردو اکادمی نے اُنھیں ’’کنزالتاریخ‘‘ (۲۰۱۹ئ) کے لیے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ادارہ ان کے نیک اور روشن مستقبل کی دعا کرتا ہے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
