- کتاب فہرست 189012
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
محمد شمیم الزماں کا تعارف
لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں مگر شمیم الزماں آج بھی وقت کو تھام کر دوستوں کے انتظار میں ایک سرور آمیز سی لذت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بھی انتظار کی لذت کو اسی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نظموں اور غزلوں میں جو ایک بات قدرے مشترک ہے وہ ان کا بیانیہ ہے، جیسے وہ مخاطب سے محو گفتگو ہوں۔ ساحر اور فیض کی سی شعری ترکیبات کے استعمال سے وہ بہت مانوس نظر آتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کی نظمیں ہوں یا غزلیں، نغمگیت سے بھرپور نظر آتی ہے۔ شمیم ا لزماں کی پیدائش 1968میں صوبہ بہار کے مدھوبنی ضلع واقع برداہا گاؤں میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ دربھنگہ شہر کی درسگاہ اسلامی سے شروع ہوا۔ پھر کشن گنج کے انسان اسکول سے سکنڈری کرنے کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوئے اور ایم اے سیاسیات کے امتحانوں میں اپنی کلاس میں اول آنے کے ساتھ یونیورسٹی میڈل حاصل کیا۔ سخت جاں فشانی کے بعد باضابطہ طور پر ملازمت کا سلسلہ علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی کے دفتر رابطہ عامہ میں نائب افسر رابطہ عامہ کی حیثیت سے شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ محمد شیم الزماں کا ادبی اور شعری سفر باضابطہ 1988 میں شروع ہوا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی طالب علمی کے دوران انہوں نے کثرت سے نظمیں اور غزلیں کہیں۔ 1990میں ایم اے کی تعلیم امتیازی نمبروں سے مکمل کرنے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ان کی شعری سرگرمیاں قدرے کم ہو گئیں اور زندگی کی سختیوں سے نبرد آزما ہونا گویا ان کی ادبی مصروفیات کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ تاہم مشق سخن معمول نہ سہی، ایک حادثاتی شغف کے بطور اب بھی جاری ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
