- کتاب فہرست 180718
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6695افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4880
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1211
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محمد شمیم الزماں کا تعارف
لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں مگر شمیم الزماں آج بھی وقت کو تھام کر دوستوں کے انتظار میں ایک سرور آمیز سی لذت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بھی انتظار کی لذت کو اسی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نظموں اور غزلوں میں جو ایک بات قدرے مشترک ہے وہ ان کا بیانیہ ہے، جیسے وہ مخاطب سے محو گفتگو ہوں۔ ساحر اور فیض کی سی شعری ترکیبات کے استعمال سے وہ بہت مانوس نظر آتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کی نظمیں ہوں یا غزلیں، نغمگیت سے بھرپور نظر آتی ہے۔ شمیم ا لزماں کی پیدائش 1968میں صوبہ بہار کے مدھوبنی ضلع واقع برداہا گاؤں میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ دربھنگہ شہر کی درسگاہ اسلامی سے شروع ہوا۔ پھر کشن گنج کے انسان اسکول سے سکنڈری کرنے کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوئے اور ایم اے سیاسیات کے امتحانوں میں اپنی کلاس میں اول آنے کے ساتھ یونیورسٹی میڈل حاصل کیا۔ سخت جاں فشانی کے بعد باضابطہ طور پر ملازمت کا سلسلہ علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی کے دفتر رابطہ عامہ میں نائب افسر رابطہ عامہ کی حیثیت سے شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ محمد شیم الزماں کا ادبی اور شعری سفر باضابطہ 1988 میں شروع ہوا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی طالب علمی کے دوران انہوں نے کثرت سے نظمیں اور غزلیں کہیں۔ 1990میں ایم اے کی تعلیم امتیازی نمبروں سے مکمل کرنے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ان کی شعری سرگرمیاں قدرے کم ہو گئیں اور زندگی کی سختیوں سے نبرد آزما ہونا گویا ان کی ادبی مصروفیات کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ تاہم مشق سخن معمول نہ سہی، ایک حادثاتی شغف کے بطور اب بھی جاری ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
