- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1565 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1682 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب426 ترجمہ4207خواتین کی تحریریں5761-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد شمیم الزماں کا تعارف
لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں مگر شمیم الزماں آج بھی وقت کو تھام کر دوستوں کے انتظار میں ایک سرور آمیز سی لذت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بھی انتظار کی لذت کو اسی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نظموں اور غزلوں میں جو ایک بات قدرے مشترک ہے وہ ان کا بیانیہ ہے، جیسے وہ مخاطب سے محو گفتگو ہوں۔ ساحر اور فیض کی سی شعری ترکیبات کے استعمال سے وہ بہت مانوس نظر آتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کی نظمیں ہوں یا غزلیں، نغمگیت سے بھرپور نظر آتی ہے۔ شمیم ا لزماں کی پیدائش 1968میں صوبہ بہار کے مدھوبنی ضلع واقع برداہا گاؤں میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ دربھنگہ شہر کی درسگاہ اسلامی سے شروع ہوا۔ پھر کشن گنج کے انسان اسکول سے سکنڈری کرنے کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوئے اور ایم اے سیاسیات کے امتحانوں میں اپنی کلاس میں اول آنے کے ساتھ یونیورسٹی میڈل حاصل کیا۔ سخت جاں فشانی کے بعد باضابطہ طور پر ملازمت کا سلسلہ علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی کے دفتر رابطہ عامہ میں نائب افسر رابطہ عامہ کی حیثیت سے شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ محمد شیم الزماں کا ادبی اور شعری سفر باضابطہ 1988 میں شروع ہوا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی طالب علمی کے دوران انہوں نے کثرت سے نظمیں اور غزلیں کہیں۔ 1990میں ایم اے کی تعلیم امتیازی نمبروں سے مکمل کرنے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ان کی شعری سرگرمیاں قدرے کم ہو گئیں اور زندگی کی سختیوں سے نبرد آزما ہونا گویا ان کی ادبی مصروفیات کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ تاہم مشق سخن معمول نہ سہی، ایک حادثاتی شغف کے بطور اب بھی جاری ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
