- کتاب فہرست 177710
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1580 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6588افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5849-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4839
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمدی بیگم کا تعارف
محمدی بیگم مصنفہ اور ہندوستان میں خواتین کے پہلے اردو ہفت روزہ ‘تہذیب نسواں’ کی مدیر تھیں۔ عورتوں کی تعلیم اور بیداری کی اولین علم برداروں میں شامل ہیں۔
دہلی کے سید احمد شفیع کی صاحب زادی تھیں جو دہلی میں اکسٹرا اسٹیٹ کمشنرتھے۔ والدین روشن خیال تھے، انتہائی قدامت پسند دور میں بھی ذہین بیٹی کو تعلیم و تہذیب سے آراستہ کیا۔ محمدی بیگم نے ابتدا ہی سے نیک طبیعت،عمدہ عادات، اعلیٰ دماغ اور قوی حافظہ پایا تھا۔ نہایت کم عمری میں لکھنے پڑھنے، سینے پرونے اور کھانے پکانے میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان کی شادی 19 برس کی عمر میں مولوی سید ممتازعلی سے ہوئی۔ جو تعلیم نسواں کے زبردست حامی تھے۔لاہور میں انھوں نے رفاہ عام پریس اور دارالاشاعت پنچاب قائم کیا تھا۔ ان کو شمس العلما کا خطاب بھی ملا تھا۔ محمدی بیگم نے ان کی پہلی مرحومہ بیوی سے ہونے والے بچوں کو ماں کا حقیقی پیار، شفقت اور توجہ دی۔ گھر کا سارا انتظام اور ذمہ داری سنبھالی اور جب مولوی ممتاز علی نے عورتوں میں بیداری کی تحریک چلانے کا ارادہ کیا تو اس مشن میں بھی اپنے شوہر سے کسی طرح پیچھے نہ رہیں۔
مولوی ممتاز علی نے اپنی بیوی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئےعورتوں کے لیے لاہور سےاخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے محمدی بیگم کی ضرروی تعلیم کا بندوبست کیا۔ ان کے لیے کئی ٹیوٹررکھے گئے۔ ایک میم ان کو انگریزی سکھاتی تھی۔ ایک ہندو لیڈی انہیں ہندی پڑھاتی تھی۔ ایک لڑکا انہیں حساب سکھاتا تھا اور خود ممتازعلی انہیں ایک روز عربی اور ایک روز فارسی پڑھاتے تھے۔ یوں وہ عورتوں کے اخبار کی ادارت کے قابل ہوگئیں۔ 1898ء میں مولوی ممتاز علی نے محمدی بیگم کی ادارت میں تہذیب نسواں کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ محمدی بیگم لڑکیوں نے کی تعلیم و تربیت کے مقصد سے کئی کتابیں لکھیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے امیتاز علی تاج کے لئے ان کے بچپن میں تاج گیت (بچوں کی نظمیں) اور امتیاز پچیسی(کہانیاں) کے نام سے کتابیں لکھیں جو شائع ہو کر مقبول عام ہوئیں۔ ان کی دیگر تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
خانہ داری، آدابِ ملاقات، نعمت خانہ، رفیقِ عروس، خوابِ راحت، حیاتِ اشرف، سگھڑ بیٹی، شریف بیٹی، چندن ہار، آج کل، صفیہ بیگم، سچے موتی، انمول موتی، آرسی۔ تاج پھول وغیرہ۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
