- کتاب فہرست 179775
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6668افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5898-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محمدی بیگم کا تعارف
محمدی بیگم مصنفہ اور ہندوستان میں خواتین کے پہلے اردو ہفت روزہ ‘تہذیب نسواں’ کی مدیر تھیں۔ عورتوں کی تعلیم اور بیداری کی اولین علم برداروں میں شامل ہیں۔
دہلی کے سید احمد شفیع کی صاحب زادی تھیں جو دہلی میں اکسٹرا اسٹیٹ کمشنرتھے۔ والدین روشن خیال تھے، انتہائی قدامت پسند دور میں بھی ذہین بیٹی کو تعلیم و تہذیب سے آراستہ کیا۔ محمدی بیگم نے ابتدا ہی سے نیک طبیعت،عمدہ عادات، اعلیٰ دماغ اور قوی حافظہ پایا تھا۔ نہایت کم عمری میں لکھنے پڑھنے، سینے پرونے اور کھانے پکانے میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان کی شادی 19 برس کی عمر میں مولوی سید ممتازعلی سے ہوئی۔ جو تعلیم نسواں کے زبردست حامی تھے۔لاہور میں انھوں نے رفاہ عام پریس اور دارالاشاعت پنچاب قائم کیا تھا۔ ان کو شمس العلما کا خطاب بھی ملا تھا۔ محمدی بیگم نے ان کی پہلی مرحومہ بیوی سے ہونے والے بچوں کو ماں کا حقیقی پیار، شفقت اور توجہ دی۔ گھر کا سارا انتظام اور ذمہ داری سنبھالی اور جب مولوی ممتاز علی نے عورتوں میں بیداری کی تحریک چلانے کا ارادہ کیا تو اس مشن میں بھی اپنے شوہر سے کسی طرح پیچھے نہ رہیں۔
مولوی ممتاز علی نے اپنی بیوی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئےعورتوں کے لیے لاہور سےاخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے محمدی بیگم کی ضرروی تعلیم کا بندوبست کیا۔ ان کے لیے کئی ٹیوٹررکھے گئے۔ ایک میم ان کو انگریزی سکھاتی تھی۔ ایک ہندو لیڈی انہیں ہندی پڑھاتی تھی۔ ایک لڑکا انہیں حساب سکھاتا تھا اور خود ممتازعلی انہیں ایک روز عربی اور ایک روز فارسی پڑھاتے تھے۔ یوں وہ عورتوں کے اخبار کی ادارت کے قابل ہوگئیں۔ 1898ء میں مولوی ممتاز علی نے محمدی بیگم کی ادارت میں تہذیب نسواں کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ محمدی بیگم لڑکیوں نے کی تعلیم و تربیت کے مقصد سے کئی کتابیں لکھیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے امیتاز علی تاج کے لئے ان کے بچپن میں تاج گیت (بچوں کی نظمیں) اور امتیاز پچیسی(کہانیاں) کے نام سے کتابیں لکھیں جو شائع ہو کر مقبول عام ہوئیں۔ ان کی دیگر تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
خانہ داری، آدابِ ملاقات، نعمت خانہ، رفیقِ عروس، خوابِ راحت، حیاتِ اشرف، سگھڑ بیٹی، شریف بیٹی، چندن ہار، آج کل، صفیہ بیگم، سچے موتی، انمول موتی، آرسی۔ تاج پھول وغیرہ۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
