- کتاب فہرست 180887
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
ڈرامہ924 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1665 صحت108 تاریخ3355طنز و مزاح604 صحافت202 زبان و ادب1143
خطوط725 طرز زندگی30 طب980 تحریکات270 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4794 تحقیق و تنقید6720افسانہ2673 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2019نصابی کتاب442 ترجمہ4200-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1272
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1584
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1216
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام35
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
محمد الدین فوق کا تعارف
شناخت: ممتاز کشمیری مورخ، صحافی، سوانح نگار، شاعر اور کشمیر میں حقوق کی توانا آواز
محمد دین فوق 25 فروری 1877ء کو سیالکوٹ کے قریب واقع گاؤں کوٹلی ہرنرائن کے ایک مسلم ڈار راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد دین ڈار تھا، مگر وہ بعد میں محمد دین فوق کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے پردادا حسن ڈار مہاراجا رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب آئے تھے۔
فوق نے ابتدائی تعلیم موضع گھڑتل، جامکے، گوجرانوالہ اور لاہور سے حاصل کی، مگر وہ مڈل سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ 1894ء میں کچھ عرصہ پٹوار کا کام سیکھا اور جموں و فیصل آباد میں گزارا۔
ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 31 جنوری 1896ء کو لاہور کے مشہور 'پیسہ اخبار' سے ہوا۔ وہاں چار سال اخبار نویسی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد 1901ء میں انہوں نے اپنا ہفت روزہ اخبار ’’پنجہ فولاد‘‘ جاری کیا جو 1906ء تک شائع ہوتا رہا۔ انہوں نے خواجہ کمال الدین کے ساتھ مل کر کشمیری برادری کی اصلاح کے لیے ماہنامہ ’’مخزن‘‘ اور 1906ء میں تاریخی ’’کشمیری میگزین‘‘ (جو بعد میں ہفت روزہ ہو گیا) جاری کیا، جس نے 1934ء تک کشمیریوں کی علمی، سیاسی اور سماجی اصلاح کا کام کیا۔ انہوں نے تصوف کی خدمت اور سجادہ نشینوں کی اصلاح کے لیے رسالہ ’’طریقت‘‘ اور ماہنامہ ’’نظام‘‘ بھی جاری کیے۔
وہ کشمیری صحافت کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں اور کشمیر کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ بیگار کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور کشمیری عوام میں شعور بیدار کرنے میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔
محمد دین فوق کو بطور مؤرخ غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کشمیر کی تاریخ، تہذیب، معاشرت اور شخصیات پر وقیع تحقیقی کام کیا۔ ان کی اہم تاریخی تصانیف میں تاریخِ کشمیر، تاریخِ اقوامِ کشمیر، مشاہیرِ کشمیر، خواتینِ کشمیر، کشمیر کی رانیاں، شبابِ کشمیر، تاریخِ بڈشاہی، تاریخِ اقوامِ پونچھ، راہنمائے کشمیر اور مآثرِ لاہور شامل ہیں۔
تاریخ کے علاوہ انہوں نے تذکرہ نگاری، سوانح نویسی اور صحافت کی تاریخ پر بھی اہم کام کیا۔ اخبار نویسوں کے حالات، تذکرۂ علما و مشائخ، یادِ رفتگان اور تذکرۃ الصالحین ان کی نمایاں کتب ہیں۔ شعری میدان میں ان کا مجموعۂ کلام 'نغمہ و گلزار' کے نام سے شائع ہوا۔
وفات: محمد دین فوق کا انتقال 14 ستمبر 1945ء کو لاہور میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Din_Fauq
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1997
-
