- کتاب فہرست 180518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد الدین فوق کا تعارف
شناخت: ممتاز کشمیری مورخ، صحافی، سوانح نگار، شاعر اور کشمیر میں حقوق کی توانا آواز
محمد دین فوق 25 فروری 1877ء کو سیالکوٹ کے قریب واقع گاؤں کوٹلی ہرنرائن کے ایک مسلم ڈار راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد دین ڈار تھا، مگر وہ بعد میں محمد دین فوق کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے پردادا حسن ڈار مہاراجا رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب آئے تھے۔
فوق نے ابتدائی تعلیم موضع گھڑتل، جامکے، گوجرانوالہ اور لاہور سے حاصل کی، مگر وہ مڈل سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ 1894ء میں کچھ عرصہ پٹوار کا کام سیکھا اور جموں و فیصل آباد میں گزارا۔
ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 31 جنوری 1896ء کو لاہور کے مشہور 'پیسہ اخبار' سے ہوا۔ وہاں چار سال اخبار نویسی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد 1901ء میں انہوں نے اپنا ہفت روزہ اخبار ’’پنجہ فولاد‘‘ جاری کیا جو 1906ء تک شائع ہوتا رہا۔ انہوں نے خواجہ کمال الدین کے ساتھ مل کر کشمیری برادری کی اصلاح کے لیے ماہنامہ ’’مخزن‘‘ اور 1906ء میں تاریخی ’’کشمیری میگزین‘‘ (جو بعد میں ہفت روزہ ہو گیا) جاری کیا، جس نے 1934ء تک کشمیریوں کی علمی، سیاسی اور سماجی اصلاح کا کام کیا۔ انہوں نے تصوف کی خدمت اور سجادہ نشینوں کی اصلاح کے لیے رسالہ ’’طریقت‘‘ اور ماہنامہ ’’نظام‘‘ بھی جاری کیے۔
وہ کشمیری صحافت کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں اور کشمیر کے سماجی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ بیگار کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور کشمیری عوام میں شعور بیدار کرنے میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔
محمد دین فوق کو بطور مؤرخ غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کشمیر کی تاریخ، تہذیب، معاشرت اور شخصیات پر وقیع تحقیقی کام کیا۔ ان کی اہم تاریخی تصانیف میں تاریخِ کشمیر، تاریخِ اقوامِ کشمیر، مشاہیرِ کشمیر، خواتینِ کشمیر، کشمیر کی رانیاں، شبابِ کشمیر، تاریخِ بڈشاہی، تاریخِ اقوامِ پونچھ، راہنمائے کشمیر اور مآثرِ لاہور شامل ہیں۔
تاریخ کے علاوہ انہوں نے تذکرہ نگاری، سوانح نویسی اور صحافت کی تاریخ پر بھی اہم کام کیا۔ اخبار نویسوں کے حالات، تذکرۂ علما و مشائخ، یادِ رفتگان اور تذکرۃ الصالحین ان کی نمایاں کتب ہیں۔ شعری میدان میں ان کا مجموعۂ کلام 'نغمہ و گلزار' کے نام سے شائع ہوا۔
وفات: محمد دین فوق کا انتقال 14 ستمبر 1945ء کو لاہور میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Din_Fauq
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
