Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohsin Usmani Nadvi's Photo'

محسن عثمانی ندوی

1947 | حیدر آباد, انڈیا

عربی و اردو ادیب، ناقد اور مترجم

عربی و اردو ادیب، ناقد اور مترجم

محسن عثمانی ندوی کا تعارف

تخلص : 'محسن عثمانی ندوی'

اصلی نام : محسن عثمانی

پیدائش :گیا, بہار

LCCN :n89287661

شناخت: عربی و اردو ادیب، ناقد اور مترجم

محسن عثمانی ندوی 1947ء میں بہار کے شہر گیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عالمیت، دارالعلوم دیوبند سے فضیلت، پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

وہ اردو اور عربی زبان کے ادیب، ناقد، محقق اور صحافی ہیں۔ تدریسی زندگی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی اور انگلش اینڈ فارن لینگویجز یونیورسٹی، حیدرآباد میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر بھی رہے۔ اس کے علاوہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کے کسٹوڈین اور آل انڈیا ریڈیو کے مترجم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

محسن عثمانی ندوی کی تصانیف کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ ان کی اہم اردو کتابوں میں ’’مطالعۂ مذاہب‘‘، ’’حادثۂ کربلا اور اس کا پس منظر‘‘، ’’مطالعۂ شعر و ادب‘‘، ’’مطالعۂ تصنیفات مولانا سید ابو الحسن علی ندوی‘‘، ’’ہندوستان میں اشاعتِ اسلام‘‘، ’’اردو زبان کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں‘‘، ’’دنیا کو خوب دیکھا‘‘، ’’نقدِ شعر و ادب‘‘، ’’کتابوں کے درمیان‘‘ اور ’’مشاہیرِ علومِ اسلامیہ اور مفکرین و مصلحین‘‘ شامل ہیں۔ عربی زبان میں بھی ان کی کئی تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔

وہ مختلف علمی، ادبی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ رہے ہیں اور اردو و عربی زبان و ادب، اسلامیات اور تنقیدی مطالعات کے میدان میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے