- کتاب فہرست 188897
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2091
ڈرامہ1036 تعلیم392 مضامين و خاكه1558 قصہ / داستان1787 صحت109 تاریخ3609طنز و مزاح759 صحافت220 زبان و ادب1981 خطوط824
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5062 سیاسی375 مذہبیات5056 تحقیق و تنقید7452افسانہ3035 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2301نصابی کتاب573 ترجمہ4623خواتین کی تحریریں6309-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1396
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5429
- مرثیہ406
- مثنوی899
- مسدس62
- نعت613
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
محسن الملک کا تعارف
سید مہدی علی نام تھا، محسن الملک کا خطاب پایا تو لوگ نام بھول گئے محسن الملک ہی کہنے لگے۔ اٹاوہ میں 1817ء میں پیداہوئے۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کر کے دس روپے ماہانہ پر کلکٹری میں ملازم ہوگئے۔ محنت اور دیانت سے کام کرنے کے صلے میں ترقی پاتے رہے۔ یہاں تک کہ تحصیلدار ہوگئے۔ ملازمت کے دوران قانون سے متعلق دو کتابیں لکھیں جنہیں انگریز حکام نے مفید قرار دیا اور وہ ڈپٹی کلکٹر بنا دیے گئے۔ کارکردگی کی شہرت حیدرآباد تک پہنچی اور انہیں بارہ سو روپئے ماہانہ پر مالیات کا انسپکٹر جنرل بنا کر بلا لیا گیا۔ ترقی کا سلسلہ جاری رہا اور وہ مالیات کے معتمد اعلیٰ مقرر ہوئے۔ تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر ہوئی۔ حسن خدمات کے اعتراف میں ریاست کی طرف سے محسن الدولہ، محسن الملک، منیر نواز جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔ حیدرآباد میں ان کی ایسی عزت تھی کہ بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے۔ 1893ء میں پنشن لے کر علی گڑھ چلے آئے اور باقی زندگی کالج کی خدمت میں گزاری۔ سرسید کے بعد محسن الملک ہی ان کے جانشین ہوئے۔ 1907ء میں شملہ میں انتقال ہوا مگر انہیں علی گڑھ لاکر سرسید کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
محسن الملک کو سر سید کا دست راست کہا جائے تو درست ہے۔ انہوں نے ہر قدم پر سرسید کے ساتھ تعاون کیا۔ اپنی زبان اور قلم سے سرسید کے افکار و خیالات کو پھیلانے میں مدد کی۔ ان کے مضامین تہذیب الاخلاق میں اکثر شائع ہوتے تھے۔ محسن الملک کی نثر بہت دلکش ہے۔ معلوم ہوتا ہے ایک ایک لفظ پر ان کی نظر رہتی ہے اور وہ بہت سوچ سمجھ کر ان کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس لیے وہ جو کچھ لکھتے ہیں اس کا ایک ایک لفظ دل میں اترتا جاتا ہے اور دل پر اثر کرتا ہے۔ ان کے خطوط جو مجموعے کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔ آج بھی بہت شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ علامہ شبلیؔ بھی محسن الملک کی دلکش تحریر پر فریفتہ تھے۔مأخذ : تاریخ ادب اردوموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2091
-
