Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohsinul Mulk's Photo'

محسن الملک

1837 - 1907

علی گڑھ تحریک کے روحِ رواں، سرسید احمد خان کے جانشین اور اردو کے مایہ ناز انشا پرداز

علی گڑھ تحریک کے روحِ رواں، سرسید احمد خان کے جانشین اور اردو کے مایہ ناز انشا پرداز

محسن الملک کا تعارف

تخلص : 'محسن الملک'

اصلی نام : سید مہدی علی

پیدائش :اٹاوہ, اتر پردیش

وفات : 16 Oct 1907 | شملہ, ہماچل پردیش

شناخت: تحریکِ علی گڑھ کے روحِ رواں، سرسید احمد خان کے معتمدِ خاص اور جانشین، ریاست حیدرآباد کے سابق معتمدِ اعلیٰ اور اردو کے مایہ ناز انشا پرداز

محسن الملک 1837ء میں اٹاوہ میں پیدا ہوئے۔ یہیں ان کی ابتدائی تعلیم بھی ہوئی۔ ان کا اصلی نام سید مہدی علی تھا۔ محسن الملک کا خطاب پایا تو لوگ نام بھول گئے محسن الملک ہی کہنے لگے۔ میر ضامن علی کے صاحبزادے تھے۔ ان کا خاندان ساداتِ بارہہ سے تھا۔

شعبۂ کلکٹری میں ملازمت ہوگئی، پھر مسٹر ہیوم (کلکٹر) کے وسیلے سے ترقی کی۔ غدر کے بعد پیشکار بھی ہوئے اور سرشتہ دار بھی۔ 1861ء میں تحصیلدار بن گئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں انہوں نے اردو کی دو اہم کتابیں قلمبند کیں؛ ایک کا نام "قانون مال" اور دوسری "قانون فوجداری" ہے۔ عقائد سے متعلق ایک کتاب "آیات بینات" بھی قلمبند کی۔

1867ء میں مرزا پور میں ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ حیدر آباد کے سر سالار جنگ اول نے ان کی خدمات حاصل کیں اور تب ان کی تنخواہ بارہ سو (1200) روپے مقرر کی، پھر بڑھ کر پندرہ سو روپے (1500) ہو گئی۔ انہیں نواب منیر نواز جنگ کا بھی خطاب ملا۔ 1876ء میں ریونیو سیکریٹری ہوئے، پھر ترقی کرتے کرتے پولیٹیکل سیکریٹری ہو گئے۔ تب سہ ہزاری منصب پر فائز ہوئے اور تنخواہ تین ہزار روپے قرار پائی۔

انہوں نے معدنیات کے تعلق سے بھی کچھ معلومات حاصل کیں۔ اسی زمانے میں برطانیہ کے وزیر William Ewart Gladstone سے ان کے تعلقات قائم ہو گئے۔

اس وقت تک سر سید احمد خان کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔ ابتدا میں سر سید سے الگ تھلگ رہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے قریب آتے گئے۔ سر سید بھی ان کی صلاحیت اور عظمت کو خوب سمجھتے تھے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ موصوف نے اپنی بقیہ زندگی سر سید کے ساتھ ہی گزاری۔ 1898ء میں سید محمود علی کے انتقال کے بعد وہ علی گڑھ کالج کے سیکریٹری منتخب ہو گئے۔

نواب محسن الملک نے کالج کی اس وقت خدمت کی جب اس کی مالی مشکلات بہت بڑھ گئی تھیں۔ ایک لاکھ روپے کا غبن ہو چکا تھا اور کالج قرضوں سے ڈوب گیا تھا۔ نواب محسن الملک متحرک رہے اور چندے اکٹھے کیے۔ نتیجے میں اس کی حالت کچھ سدھری، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ساری مشکلیں حل ہو گئیں اور قرض بھی ادا ہو گیا۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ محسن الملک نے حیدر آباد کے زمانۂ قیام میں ریاست میں فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کی تجویز رکھی اور کامیاب بھی ہوئے۔ پھر ان کے وہ مضامین جو رسالہ تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے، اپنی سادگی، شگفتگی اور عالمانہ فکر کی وجہ سے عام مسلمانوں کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوئے۔

مولانا حالی کھلے دل سے اس کا اعتراف کرتے تھے کہ ان کی تحریروں سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا اور وہ جذبۂ عمل سے بھی سرشار ہوئے۔ شبلی نعمانی بھی ان کی تحریر کی خوبیوں کا اعتراف کرتے تھے۔ محسن الملک کے خطوط کا ایک مجموعہ "مجموعہ رسائل" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

وفات: 1907ء میں شملہ میں انتقال ہوا مگر انہیں علی گڑھ لاکر سرسید کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

Recitation

بولیے