- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4202خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محسن الملک کا تعارف
شناخت: تحریکِ علی گڑھ کے روحِ رواں، سرسید احمد خان کے معتمدِ خاص اور جانشین، ریاست حیدرآباد کے سابق معتمدِ اعلیٰ اور اردو کے مایہ ناز انشا پرداز
محسن الملک 1837ء میں اٹاوہ میں پیدا ہوئے۔ یہیں ان کی ابتدائی تعلیم بھی ہوئی۔ ان کا اصلی نام سید مہدی علی تھا۔ محسن الملک کا خطاب پایا تو لوگ نام بھول گئے محسن الملک ہی کہنے لگے۔ میر ضامن علی کے صاحبزادے تھے۔ ان کا خاندان ساداتِ بارہہ سے تھا۔
شعبۂ کلکٹری میں ملازمت ہوگئی، پھر مسٹر ہیوم (کلکٹر) کے وسیلے سے ترقی کی۔ غدر کے بعد پیشکار بھی ہوئے اور سرشتہ دار بھی۔ 1861ء میں تحصیلدار بن گئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں انہوں نے اردو کی دو اہم کتابیں قلمبند کیں؛ ایک کا نام "قانون مال" اور دوسری "قانون فوجداری" ہے۔ عقائد سے متعلق ایک کتاب "آیات بینات" بھی قلمبند کی۔
1867ء میں مرزا پور میں ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ حیدر آباد کے سر سالار جنگ اول نے ان کی خدمات حاصل کیں اور تب ان کی تنخواہ بارہ سو (1200) روپے مقرر کی، پھر بڑھ کر پندرہ سو روپے (1500) ہو گئی۔ انہیں نواب منیر نواز جنگ کا بھی خطاب ملا۔ 1876ء میں ریونیو سیکریٹری ہوئے، پھر ترقی کرتے کرتے پولیٹیکل سیکریٹری ہو گئے۔ تب سہ ہزاری منصب پر فائز ہوئے اور تنخواہ تین ہزار روپے قرار پائی۔
انہوں نے معدنیات کے تعلق سے بھی کچھ معلومات حاصل کیں۔ اسی زمانے میں برطانیہ کے وزیر William Ewart Gladstone سے ان کے تعلقات قائم ہو گئے۔
اس وقت تک سر سید احمد خان کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔ ابتدا میں سر سید سے الگ تھلگ رہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے قریب آتے گئے۔ سر سید بھی ان کی صلاحیت اور عظمت کو خوب سمجھتے تھے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ موصوف نے اپنی بقیہ زندگی سر سید کے ساتھ ہی گزاری۔ 1898ء میں سید محمود علی کے انتقال کے بعد وہ علی گڑھ کالج کے سیکریٹری منتخب ہو گئے۔
نواب محسن الملک نے کالج کی اس وقت خدمت کی جب اس کی مالی مشکلات بہت بڑھ گئی تھیں۔ ایک لاکھ روپے کا غبن ہو چکا تھا اور کالج قرضوں سے ڈوب گیا تھا۔ نواب محسن الملک متحرک رہے اور چندے اکٹھے کیے۔ نتیجے میں اس کی حالت کچھ سدھری، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ساری مشکلیں حل ہو گئیں اور قرض بھی ادا ہو گیا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ محسن الملک نے حیدر آباد کے زمانۂ قیام میں ریاست میں فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کی تجویز رکھی اور کامیاب بھی ہوئے۔ پھر ان کے وہ مضامین جو رسالہ تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے، اپنی سادگی، شگفتگی اور عالمانہ فکر کی وجہ سے عام مسلمانوں کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوئے۔
مولانا حالی کھلے دل سے اس کا اعتراف کرتے تھے کہ ان کی تحریروں سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا اور وہ جذبۂ عمل سے بھی سرشار ہوئے۔ شبلی نعمانی بھی ان کی تحریر کی خوبیوں کا اعتراف کرتے تھے۔ محسن الملک کے خطوط کا ایک مجموعہ "مجموعہ رسائل" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
وفات: 1907ء میں شملہ میں انتقال ہوا مگر انہیں علی گڑھ لاکر سرسید کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mohsin-ul-Mulk
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
