Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

معین الدین عقیل

1946 | کراچی, پاکستان

ممتاز محقق اور نقاد

ممتاز محقق اور نقاد

معین الدین عقیل کا تعارف

تخلص : 'معین الدین عقیل'

اصلی نام : معین الدین عقیل

پیدائش : 25 Jun 1946 | حیدر آباد, تلنگانہ

LCCN :n84007525

شناخت: ممتاز محقق اور نقاد

معین الدین عقیل 25 جون 1946ء کو ادگیر (ریاستِ حیدرآباد، موجودہ مہاراشٹر) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے ہے، جس کی جڑیں ترکستان سے ملتی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1953ء میں ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوا۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ 1963ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول لانڈھی سے میٹرک، 1965ء میں اردو کالج سے انٹرمیڈیٹ، 1968ء میں جامعہ کراچی سے بی اے اور 1969ء میں ایم اے (اردو) فرسٹ پوزیشن کے ساتھ مکمل کیا، جس پر انہیں بابائے اردو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں 1975ء میں جامعہ کراچی سے ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کی نگرانی میں "تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 2003ء میں ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں جامعہ کراچی نے انہیں ڈی لٹ (D.Litt.) کی اعزازی سند عطا کی۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل کا شمار اردو کے ممتاز محققین اور نقادوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ اردو زبان و ادب کی تدریس، تحقیق، تدوین اور تنقید کے فروغ میں صرف کیا۔ جامعہ کراچی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، اورینٹل یونیورسٹی نیپلز (اٹلی)، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز، دائتو بنکا یونیورسٹی، اوساکا یونیورسٹی اور کیوتو یونیورسٹی سمیت پاکستان، اٹلی اور جاپان کی متعدد جامعات میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔ وہ جامعہ کراچی میں شعبۂ اردو کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ، نیز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبۂ اردو کے چیئرمین اور فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کے ڈین بھی رہے۔ اردو زبان و ادب کے عالمی فروغ کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری کی تقریباً 27 ہزار کتابیں جاپان کی کیوتو یونیورسٹی کو عطیہ کیں، جہاں یہ ذخیرہ "عقیل کلیکشن" کے نام سے محفوظ ہے۔

تحقیق، ادبی تاریخ، تحریکِ آزادی، دکن، اقبالیات، پاکستان اسٹڈیز، مخطوطات، کتابیات اور تدوینِ متون ان کے خصوصی میدان رہے ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں "تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ"، "تحریکِ پاکستان اور مولانا مودودی"، "دکن اور ایران"، "پاکستان میں اردو تحقیق: موضوعات اور معیار"، "پاکستانی غزل: تشکیلی دور کے رویے اور رجحانات"، "بیتی کہانی"، "رسمیاتِ مقالہ نگاری"، "مشرقِ تاباں"، "اردو تحقیق: صورتِ حال اور تقاضے"، "کلکتہ میں اردو کے نادر ذخائر"، "جنوبی ایشیا کی تاریخ نویسی"، "اقبال: حیات و فکر کے نئے گوشے"، "میر تقی میر کا غیر مطبوعہ دیوانِ ہفتم" اور "راست اقدام" شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد کلاسیکی متون کی تدوین، انتخاب اور شرح بھی کی، جو اردو تحقیق میں بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں بابائے اردو ایوارڈ (1969ء)، بیسٹ ٹیچر ایوارڈ (1984ء)، جاپان کا اعلیٰ سول اعزاز "آرڈر آف دی رائزنگ سن" (2013ء) اور ستارۂ امتیاز (2023ء) سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔

Recitation

بولیے