- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ملا عبدالرحمان جامی کا تعارف
تخلص : 'جامی'
اصلی نام : عبدالرحمان
پیدائش : 07 Nov 1414
وفات : 09 Nov 1492
شناخت: امام الفن، خاتم الشعراء، عالمِ دین، نامور صوفی شاعر، مؤرخ اور "نور الدین" و "الشیخ الرئیس" جیسے القابات سے معروف ہمہ جہت شخصیت
مولانا نور الدین عبد الرحمٰن جامی کی ولادت 23 شعبان 817ھ مطابق 7 نومبر 1414ء کو خراسان کے علاقے جام کے قصبہ خرجرد میں ہوئی، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے۔ ان کے والد احمد بن محمد دشتی ایک معزز علمی شخصیت تھے، جنہوں نے ابتدائی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کم سنی ہی میں وہ ہرات منتقل ہو گئے، جو اس دور میں علم و فن کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہی ماحول ان کی علمی نشوونما کا سبب بنا۔
عبدالرحمٰن جامی کا شمار اپنے عہد کے علمائے اسلام اور صوفیائے کرام کی صفِ اول میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلیمی سفر ہرات اور سمرقند کے مشہور مراکزِ علم سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے عربی، منطق، ہیئت اور فقہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ قاضی زادہ روم جیسے جید عالم نے اعتراف کیا کہ "سمرقند کی آبادی سے اب تک اس نوجوان کے پائے کا کوئی شخص آمو دریا پار کر کے ادھر نہیں آیا"۔ ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ تدریس کے دوران ہی قدیم کتب اور حواشی کی اصلاح فرما دیا کرتے تھے۔ سلوک و عرفان میں ان کا تعلق سعد الدین محمد کاشغری کے حلقۂ طریقت سے تھا، جہاں وہ بلند مقام پر فائز ہوئے۔ وہ درویش منش اور گوشہ نشین تھے، تاہم سلطان حسین مرزا اور سلطان محمد فاتح جیسی عظیم شخصیات ان کا بے حد احترام کرتی تھیں۔
عبدالرحمٰن جامی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ نظم و نثر کی 49 تصانیف پر محیط ہے۔ شاعری میں ان کا مجموعہ 'ہفت اورنگ' (جس میں یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں اور سلسلۃ الذہب شامل ہیں) فارسی ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ نثر میں انہوں نے تصوف، روحانیت اور تاریخ پر 11 اہم کتب تحریر کیں۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول اور معرفتِ الٰہی کا رنگ اس قدر نمایاں ہے کہ ان کو "خاتم الشعراء" (کلاسیکی فارسی شعراء میں آخری بڑا شاعر) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1472ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مختلف بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کے بعد ہرات کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ان کی پوری زندگی دینِ اسلام کی ترویج اور علم و ادب کی آبیاری میں گزری۔
وفات: 18 محرم الحرام 898ھ مطابق 1492ء کو ہرات (افغانستان) میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہیں۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Jami
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
