- کتاب فہرست 179635
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2064نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ملا عبدالرحمان جامی کا تعارف
مولانا نور الدین عبد الرحمن نقشبندی جامی صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں 1414ء کو پیدا ہوئے،اسی نسبت سے انہیں جامی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے والد نظام الدین احمد بن شمس الدین ہرات چلے گئے تھے مگر ان کا اصل وطن"دشت" (اصفہان کا ایک شہر) تھا، اس لئے انہوں نے پہلے دشتی تخلص اختیار کیا۔ دوران تعلیم جب ان کو تصوف کی طرف توجہ ہوئی توسعید الدین محمد کاشغری کی صحبت میں بیٹھے۔ حضرت جامی کو نقشبندی سلسلے کے معروف بزرگ خواجہ عبیداللہ احرار سے گہری عقیدت تھی ۔انہیں سے تعلیم باطنی اور سلوک کی تکمیل کی اور خواجہ کی خانقاہ میں جاروب کش ہوئے۔ اوائل عمر ہی میں آپ اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند کا سفر کیا جہاں علم و ادب کی تحصیل کی اور دینی علوم، ادب اور تاریخ میں کمال پایا۔ تصوف کا درس سعدالدین محمد کاشغری سے لیا اور مسند ارشاد تک رسائی ملی۔ حج کے لئے بھی گئے اور دمشق سے ہوتے ہوئے تبریز گئے اور پھر ہرات پہنچے۔ جامی ایک صوفی صافی اور اپنے دور کے جید عالم تھے۔ آپ کا نام صوفیانہ شاعری اور نعت پاک میں بہت بلند ہے۔ جامی حضرت محمد مصطفیٰ کے بڑے عاشق زار تھے۔ تقریباً 16 مرتبہ انہیں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ ان کی مشہور تصانیف مثنوی یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں، فاتحۃالشباب، واسطۃالعقد، خاتمۃ الحیات، شرح ملا جامی، شیخ سعدی کی گلستاں کے جواب میں ایک نثری کتاب بہارستان ہے۔ اس کے علاوہ سلسلتہ الذھب اور خرد نامہ سکندری ان کی بہت مشہور کتابیں ہیں۔ اخیر عمر میں یہ مجذوب ہو گئے تھے اور لوگوں سے بولنا ترک کر دیا تھا۔ اسی حالت میں 1492ء میں ہرات میں ان کا انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
