- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ملا عبدالرحمان جامی کا تعارف
تخلص : 'جامی'
اصلی نام : عبدالرحمان
پیدائش : 07 Nov 1414
وفات : 09 Nov 1492
شناخت: امام الفن، خاتم الشعراء، عالمِ دین، نامور صوفی شاعر، مؤرخ اور "نور الدین" و "الشیخ الرئیس" جیسے القابات سے معروف ہمہ جہت شخصیت
مولانا نور الدین عبد الرحمٰن جامی کی ولادت 23 شعبان 817ھ مطابق 7 نومبر 1414ء کو خراسان کے علاقے جام کے قصبہ خرجرد میں ہوئی، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے۔ ان کے والد احمد بن محمد دشتی ایک معزز علمی شخصیت تھے، جنہوں نے ابتدائی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کم سنی ہی میں وہ ہرات منتقل ہو گئے، جو اس دور میں علم و فن کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہی ماحول ان کی علمی نشوونما کا سبب بنا۔
عبدالرحمٰن جامی کا شمار اپنے عہد کے علمائے اسلام اور صوفیائے کرام کی صفِ اول میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلیمی سفر ہرات اور سمرقند کے مشہور مراکزِ علم سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے عربی، منطق، ہیئت اور فقہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ قاضی زادہ روم جیسے جید عالم نے اعتراف کیا کہ "سمرقند کی آبادی سے اب تک اس نوجوان کے پائے کا کوئی شخص آمو دریا پار کر کے ادھر نہیں آیا"۔ ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ تدریس کے دوران ہی قدیم کتب اور حواشی کی اصلاح فرما دیا کرتے تھے۔ سلوک و عرفان میں ان کا تعلق سعد الدین محمد کاشغری کے حلقۂ طریقت سے تھا، جہاں وہ بلند مقام پر فائز ہوئے۔ وہ درویش منش اور گوشہ نشین تھے، تاہم سلطان حسین مرزا اور سلطان محمد فاتح جیسی عظیم شخصیات ان کا بے حد احترام کرتی تھیں۔
عبدالرحمٰن جامی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ نظم و نثر کی 49 تصانیف پر محیط ہے۔ شاعری میں ان کا مجموعہ 'ہفت اورنگ' (جس میں یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں اور سلسلۃ الذہب شامل ہیں) فارسی ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ نثر میں انہوں نے تصوف، روحانیت اور تاریخ پر 11 اہم کتب تحریر کیں۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول اور معرفتِ الٰہی کا رنگ اس قدر نمایاں ہے کہ ان کو "خاتم الشعراء" (کلاسیکی فارسی شعراء میں آخری بڑا شاعر) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1472ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مختلف بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کے بعد ہرات کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ان کی پوری زندگی دینِ اسلام کی ترویج اور علم و ادب کی آبیاری میں گزری۔
وفات: 18 محرم الحرام 898ھ مطابق 1492ء کو ہرات (افغانستان) میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہیں۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Jami
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
