- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ملا رموزی کا تعارف
LCCN :no99036852
ملاّ رموزی گلابی اردو کے موجد کی حیثیت سے ہمارے ادب میں پہچانے جاتے ہیں۔ خود ان کے الفاظ میں گلابی اردو کا مطلب یہ ہے کہ جملے میں الفاظ کی ترتیب کو بدل دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ پہلے فعل پھر فاعل اور مفعول۔ اس طرح عربی سے اردو ترجمے کا انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ بے شک یہ لطف دیتا ہے لیکن ذرا دیر بعد قاری اکتا جاتا ہے۔
ملا رموزی کا اصل نام صدیق ارشاد تھا۔ بھوپال میں 1896ء میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کا آبائی وطن نہیں تھا۔ ان کے والد اور چچا کابل (افغانستان) سے آکر بھوپال میں رہنے لگے۔ دونوں عالم تھے اس لیے اعلیٰ ملازمتوں سے نوازے گئے۔ صدیق ارشاد اردو، فارسی، عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کانپور کے مدرسۂ الٰہیات میں داخل ہوئے۔ اسی زمانے میں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔ ان کے مضامین معیاری رسالوں میں شائع ہوئے۔ اب انہوں نے اپنا قلمی نام ملا رموزی رکھ لیا اور دنیائے ادب میں اسی نام سے مشہور ہوئے۔
ملک میں تحریک آزادی نے زور پکڑا تو ملاّ رموزی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ سیاسی مسائل پر اچھی نظر تھی۔ حکومت کے خلاف مزاحیہ انداز میں مضامین لکھنے لگے جنہیں پسند کیا گیا۔ کئی رسالوں نے انہیں مدیر بنانے پر فخر کیا۔ اس کے بعد وحیدیہ ٹیکنیکل اسکول میں مدرس ہوگئے۔ 1952ء میں وفات پائی۔
ملاّ رموزی نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر و مقرر بھی تھے۔ انتظامی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، علم و ادب کے فروغ کے لئے انہوں نے کئی انجمنیں قائم کیں لیکن ان کی اصل شہرت گلابی اردو پر ہے جس کے وہ خود ہی موجد ہیں۔ ان کی یہ نرالے رنگ کی کتاب ’’گلابی اردو‘‘ کے نام سے 1921ء میں شائع ہوئی۔ اسے قبول عام نصیب ہوا لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ قبول عام دیرپا نہیں وقتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیاست کو اپنا مستقل موضوع قرار دیا اور سادہ و سلیس زبان اختیار کی۔ طنزومزاح سے طبیعت کو فطری مناسبت تھی۔ اس لیے سادگی میں بھی ظرافت کا ہلکا ہلکا رنگ برقرار رہا اسے پسند کیا گیا۔
خود تحریر فرماتے ہیں کہ میرے مضامین کی کوئی اہمیت ہے تو صرف اس لیے کہ ’’میں حقیقت کا دامن نہیں چھوڑتا‘‘ حکومت کے مظالم ، سماجی ناانصافی اور معاشرتی معائب انہیں مجبور کرتے ہیں کہ جو کچھ لکھیں ظرافت کی آڑ میں لکھیں۔ نتیجہ یہ کہ دلچسپی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔مأخذ : تاریخ ادب اردواتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no99036852
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
