- کتاب فہرست 179280
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت203 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6658افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2066نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
ملا رموزی کا تعارف
LCCN :no99036852
ملاّ رموزی گلابی اردو کے موجد کی حیثیت سے ہمارے ادب میں پہچانے جاتے ہیں۔ خود ان کے الفاظ میں گلابی اردو کا مطلب یہ ہے کہ جملے میں الفاظ کی ترتیب کو بدل دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ پہلے فعل پھر فاعل اور مفعول۔ اس طرح عربی سے اردو ترجمے کا انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ بے شک یہ لطف دیتا ہے لیکن ذرا دیر بعد قاری اکتا جاتا ہے۔
ملا رموزی کا اصل نام صدیق ارشاد تھا۔ بھوپال میں 1896ء میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کا آبائی وطن نہیں تھا۔ ان کے والد اور چچا کابل (افغانستان) سے آکر بھوپال میں رہنے لگے۔ دونوں عالم تھے اس لیے اعلیٰ ملازمتوں سے نوازے گئے۔ صدیق ارشاد اردو، فارسی، عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کانپور کے مدرسۂ الٰہیات میں داخل ہوئے۔ اسی زمانے میں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔ ان کے مضامین معیاری رسالوں میں شائع ہوئے۔ اب انہوں نے اپنا قلمی نام ملا رموزی رکھ لیا اور دنیائے ادب میں اسی نام سے مشہور ہوئے۔
ملک میں تحریک آزادی نے زور پکڑا تو ملاّ رموزی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ سیاسی مسائل پر اچھی نظر تھی۔ حکومت کے خلاف مزاحیہ انداز میں مضامین لکھنے لگے جنہیں پسند کیا گیا۔ کئی رسالوں نے انہیں مدیر بنانے پر فخر کیا۔ اس کے بعد وحیدیہ ٹیکنیکل اسکول میں مدرس ہوگئے۔ 1952ء میں وفات پائی۔
ملاّ رموزی نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر و مقرر بھی تھے۔ انتظامی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، علم و ادب کے فروغ کے لئے انہوں نے کئی انجمنیں قائم کیں لیکن ان کی اصل شہرت گلابی اردو پر ہے جس کے وہ خود ہی موجد ہیں۔ ان کی یہ نرالے رنگ کی کتاب ’’گلابی اردو‘‘ کے نام سے 1921ء میں شائع ہوئی۔ اسے قبول عام نصیب ہوا لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ قبول عام دیرپا نہیں وقتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیاست کو اپنا مستقل موضوع قرار دیا اور سادہ و سلیس زبان اختیار کی۔ طنزومزاح سے طبیعت کو فطری مناسبت تھی۔ اس لیے سادگی میں بھی ظرافت کا ہلکا ہلکا رنگ برقرار رہا اسے پسند کیا گیا۔
خود تحریر فرماتے ہیں کہ میرے مضامین کی کوئی اہمیت ہے تو صرف اس لیے کہ ’’میں حقیقت کا دامن نہیں چھوڑتا‘‘ حکومت کے مظالم ، سماجی ناانصافی اور معاشرتی معائب انہیں مجبور کرتے ہیں کہ جو کچھ لکھیں ظرافت کی آڑ میں لکھیں۔ نتیجہ یہ کہ دلچسپی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔مأخذ : تاریخ ادب اردواتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no99036852
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
