Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mumtaz Mufti's Photo'

ممتاز مفتی

1905 - 1995 | اسلام آباد, پاکستان

معروف فکشن نگار، انسانی نفسیات کے منفرد ترجمان اور ’علی پور کا ایلی' کے خالق

معروف فکشن نگار، انسانی نفسیات کے منفرد ترجمان اور ’علی پور کا ایلی' کے خالق

ممتاز مفتی کا تعارف

تخلص : 'ممتاز مفتی'

اصلی نام : ممتاز حسین

پیدائش : 11 Sep 1905 | بٹالہ, پنجاب

وفات : 27 Oct 1995 | اسلام آباد, پاکستان

شناخت: ممتاز افسانہ نگار، خاکہ نگار، سفرنامہ نویس اور انسانی نفسیات کے منفرد ترجمان

ممتاز مفتی (اصل نام ممتاز حسین) 11 ستمبر 1905ء کو بٹالہ ضلع گورداسپور (بھارتی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا جو مغلیہ دور میں مفتی اور قاضی کے عہدوں پر فائز رہا۔ ان کے والد مفتی محمد حسین تھے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ میٹرک ڈیرہ غازی خان سے، ایف اے امرتسر سے اور 1929ء میں اسلامیہ کالج، لاہور سے فلسفہ اور معاشیات میں گریجویشن کیا۔ ادبی سفر کا آغاز افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ سے ہوا جو رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور میں شائع ہوا۔ اسی کے بعد وہ ’’ممتاز مفتی‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔

ممتاز مفتی ابتدا میں ایک آزاد خیال، لبرل اور مذہبی روایات سے فاصلے پر رہنے والے دانشور کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور انسانی نفسیات کے مطالعے سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اشفاق احمد کے مطابق تقسیمِ ہند سے پہلے وہ یورپی اور خصوصاً غیر معروف سویڈش ادیبوں کے ادب کے دلدادہ تھے۔ ابتدا میں تقسیمِ ہند کے بھی مخالف رہے۔ کہا جاتا ہے کہ قدرت اللہ شہاب سے قربت نے ان کی فکر اور شخصیت پر گہرا اثر ڈالا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی ادبی انفرادیت اور فکری یگانگت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

ممتاز مفتی نے افسانہ، ناول، خاکہ نگاری، سفرنامہ اور خودنوشت سمیت متعدد اصناف میں اہم کام کیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’ان کہی‘‘، ’’گہماگہمی‘‘، ’’چپ‘‘، ’’روغنی پتلے‘‘ اور ’’سمے کا بندھن‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ اردو ادب میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ’’علی پور کا ایلی‘‘ کو اردو ادب کی اہم ترین خودنوشت فکشن تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ذات، سماج، جنس، نفسیات اور روحانی کشمکش کو بے حد بے باکی اور فنکاری سے پیش کیا۔ ’’الکھ نگری‘‘ میں ان کی روحانی جستجو، داخلی تبدیلی اور فکری ارتقا نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔

سفرنامہ نگاری میں بھی ممتاز مفتی نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ’’ہندیاترا‘‘ اور ’’لبیک‘‘ جیسے سفرناموں میں محض سفر کی روداد نہیں بلکہ تہذیبی، روحانی اور نفسیاتی مشاہدات کی گہرائی ملتی ہے۔ خصوصاً ’’لبیک‘‘ کو اردو کا ایک منفرد روحانی سفرنامہ سمجھا جاتا ہے۔ خاکہ نگاری میں ’’اوکھے لوگ‘‘، ’’پیاز کے چھلکے‘‘ اور ’’تلاش‘‘ جیسی کتابوں نے انہیں غیر معمولی شہرت عطا کی۔ انہوں نے جن شخصیات پر قلم اٹھایا انہیں محض معلوماتی انداز میں نہیں بلکہ ان کے باطن، نفسیات اور شخصیت کے انوکھے پہلوؤں کے ساتھ پیش کیا۔ ممتاز مفتی نے خاکہ نگاری کو ایک نیا اسلوب، نئی زبان اور نئی معنویت عطا کی۔

ممتاز مفتی کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی بے ساختگی، نفسیاتی سچائی اور داخلی کرب کی شدت ہے۔ وہ انسانی شخصیت کے ان گوشوں کو سامنے لاتے ہیں جن پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کے یہاں جنس، روحانیت، خوف، خواہش، گناہ، ندامت اور انسانی کمزوریوں کا بیان نہایت بے باکی مگر فنی وقار کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کو کسی بناوٹ یا تصنع کے بغیر بیان کرتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریریں قاری پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔

وفات: 27 اکتوبر 1995ء کو اسلام آباد میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے