- کتاب فہرست 179717
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط747
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6667افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5896-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ممتاز مفتی کا تعارف
ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کی سطح پر کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانے خاص طور پر گمبھیر نفسیاتی مسائل کو موضوع بناتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے ’علی پور کا ایلی ‘ کے نام سے ایک ضخیم ناول بھی لکھا ۔ اشاعت کے بعد اس کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں کیا گیا۔
ممتاز مفتی کی پیدائش گیارہ ستمبر ۱۹۰۵ کو بٹالہ ضلع گرداسپورمشرقی پنجاب میں ہوئی۔ امرتسر ، میانوالی،اور ڈیرہ غازی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر ۱۹۲۹ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اےاور۱۹۳۳ میں سنٹرل کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کیا۔ آل انڈیا ریڈیو اور ممبئی فلم انڈسٹری میں ملازم رہے۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان چلے گئے۔وہاں حکومت پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۵ کو انتقال ہوا۔
ممتاز مفتی کے افسانوی مجموعے ان کہی ، گہماگہمی،چپ، گڑیاگھر،روغنی پتلے، کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے انشائیے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے اور شوق سے پڑھے گئے ۔ ’غبارے ‘ کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔’ کیسے کیسے لوگ‘ اور ’پیاز کے چھلکے‘ کے نام سے خاکوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔عمر کے آخری برسوں میں ممتاز مفتی سفر حج پر گئے اور واپسی پر’لبیک‘ کے نام سے سفر حج کی رودار لکھی جو بے پناہ مقبول ہوئی اور ان کی کہانیوں کی طرح دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
