- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ممتاز مفتی کا تعارف
تخلص : 'ممتاز مفتی'
اصلی نام : ممتاز حسین
پیدائش : 11 Sep 1905 | بٹالہ, پنجاب
وفات : 27 Oct 1995 | اسلام آباد, پاکستان
شناخت: ممتاز افسانہ نگار، خاکہ نگار، سفرنامہ نویس اور انسانی نفسیات کے منفرد ترجمان
ممتاز مفتی (اصل نام ممتاز حسین) 11 ستمبر 1905ء کو بٹالہ ضلع گورداسپور (بھارتی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا جو مغلیہ دور میں مفتی اور قاضی کے عہدوں پر فائز رہا۔ ان کے والد مفتی محمد حسین تھے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ میٹرک ڈیرہ غازی خان سے، ایف اے امرتسر سے اور 1929ء میں اسلامیہ کالج، لاہور سے فلسفہ اور معاشیات میں گریجویشن کیا۔ ادبی سفر کا آغاز افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ سے ہوا جو رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور میں شائع ہوا۔ اسی کے بعد وہ ’’ممتاز مفتی‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔
ممتاز مفتی ابتدا میں ایک آزاد خیال، لبرل اور مذہبی روایات سے فاصلے پر رہنے والے دانشور کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور انسانی نفسیات کے مطالعے سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اشفاق احمد کے مطابق تقسیمِ ہند سے پہلے وہ یورپی اور خصوصاً غیر معروف سویڈش ادیبوں کے ادب کے دلدادہ تھے۔ ابتدا میں تقسیمِ ہند کے بھی مخالف رہے۔ کہا جاتا ہے کہ قدرت اللہ شہاب سے قربت نے ان کی فکر اور شخصیت پر گہرا اثر ڈالا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی ادبی انفرادیت اور فکری یگانگت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
ممتاز مفتی نے افسانہ، ناول، خاکہ نگاری، سفرنامہ اور خودنوشت سمیت متعدد اصناف میں اہم کام کیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’ان کہی‘‘، ’’گہماگہمی‘‘، ’’چپ‘‘، ’’روغنی پتلے‘‘ اور ’’سمے کا بندھن‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ اردو ادب میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ’’علی پور کا ایلی‘‘ کو اردو ادب کی اہم ترین خودنوشت فکشن تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ذات، سماج، جنس، نفسیات اور روحانی کشمکش کو بے حد بے باکی اور فنکاری سے پیش کیا۔ ’’الکھ نگری‘‘ میں ان کی روحانی جستجو، داخلی تبدیلی اور فکری ارتقا نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
سفرنامہ نگاری میں بھی ممتاز مفتی نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ’’ہندیاترا‘‘ اور ’’لبیک‘‘ جیسے سفرناموں میں محض سفر کی روداد نہیں بلکہ تہذیبی، روحانی اور نفسیاتی مشاہدات کی گہرائی ملتی ہے۔ خصوصاً ’’لبیک‘‘ کو اردو کا ایک منفرد روحانی سفرنامہ سمجھا جاتا ہے۔ خاکہ نگاری میں ’’اوکھے لوگ‘‘، ’’پیاز کے چھلکے‘‘ اور ’’تلاش‘‘ جیسی کتابوں نے انہیں غیر معمولی شہرت عطا کی۔ انہوں نے جن شخصیات پر قلم اٹھایا انہیں محض معلوماتی انداز میں نہیں بلکہ ان کے باطن، نفسیات اور شخصیت کے انوکھے پہلوؤں کے ساتھ پیش کیا۔ ممتاز مفتی نے خاکہ نگاری کو ایک نیا اسلوب، نئی زبان اور نئی معنویت عطا کی۔
ممتاز مفتی کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی بے ساختگی، نفسیاتی سچائی اور داخلی کرب کی شدت ہے۔ وہ انسانی شخصیت کے ان گوشوں کو سامنے لاتے ہیں جن پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کے یہاں جنس، روحانیت، خوف، خواہش، گناہ، ندامت اور انسانی کمزوریوں کا بیان نہایت بے باکی مگر فنی وقار کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کو کسی بناوٹ یا تصنع کے بغیر بیان کرتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریریں قاری پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
وفات: 27 اکتوبر 1995ء کو اسلام آباد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Mumtaz_Mufti
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
