- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
منور تابش سنبھلی کا تعارف
ڈاکٹر منوّر تابشؔ سنبھلی کا شمار اردو کے ممتاز ادیبوں، نقادوں اور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ 25؍ اکتوبر 1970ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر محمد عمر ہے۔ ان کا تعلق سنبھل کے علاقے چمن سراۓ سے ہے۔
تعلیم کے میدان میں انہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ درس و تدریس کو بطور پیشہ اختیار کیا اور صحافت و مصوری جیسے تخلیقی مشاغل میں بھی سرگرم رہے۔
ان کی تصانیف میں "تنقیدیں اور تبصرے"، "بچوں کی دنیا"، "ابر احسنی کے کلام کا عروضی و فنی جائزہ"، "نگاہ سے دل تک"، "معیار و میزان" اور "سلطان محمد خاں کلیم کی شاعری کا اجمالی جائزہ" شامل ہیں۔ ان کے کلام اور تحریریں ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی جانب سے ایوارڈ اور سند سے نوازا گیا، بہار اردو اکادمی نے اختر اورینوی ایوارڈ دیا، جبکہ لکھنؤ اردو اکادمی نے بھی انہیں اعزاز سے سرفراز کیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
