- کتاب فہرست 178836
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3277طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
منور تابش سنبھلی کا تعارف
ڈاکٹر منوّر تابشؔ سنبھلی کا شمار اردو کے ممتاز ادیبوں، نقادوں اور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ 25؍ اکتوبر 1970ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر محمد عمر ہے۔ ان کا تعلق سنبھل کے علاقے چمن سراۓ سے ہے۔
تعلیم کے میدان میں انہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ درس و تدریس کو بطور پیشہ اختیار کیا اور صحافت و مصوری جیسے تخلیقی مشاغل میں بھی سرگرم رہے۔
ان کی تصانیف میں "تنقیدیں اور تبصرے"، "بچوں کی دنیا"، "ابر احسنی کے کلام کا عروضی و فنی جائزہ"، "نگاہ سے دل تک"، "معیار و میزان" اور "سلطان محمد خاں کلیم کی شاعری کا اجمالی جائزہ" شامل ہیں۔ ان کے کلام اور تحریریں ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی جانب سے ایوارڈ اور سند سے نوازا گیا، بہار اردو اکادمی نے اختر اورینوی ایوارڈ دیا، جبکہ لکھنؤ اردو اکادمی نے بھی انہیں اعزاز سے سرفراز کیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
