- کتاب فہرست 178107
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6590افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5862-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
منور تابش سنبھلی کا تعارف
ڈاکٹر منوّر تابشؔ سنبھلی کا شمار اردو کے ممتاز ادیبوں، نقادوں اور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ 25؍ اکتوبر 1970ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر محمد عمر ہے۔ ان کا تعلق سنبھل کے علاقے چمن سراۓ سے ہے۔
تعلیم کے میدان میں انہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ درس و تدریس کو بطور پیشہ اختیار کیا اور صحافت و مصوری جیسے تخلیقی مشاغل میں بھی سرگرم رہے۔
ان کی تصانیف میں "تنقیدیں اور تبصرے"، "بچوں کی دنیا"، "ابر احسنی کے کلام کا عروضی و فنی جائزہ"، "نگاہ سے دل تک"، "معیار و میزان" اور "سلطان محمد خاں کلیم کی شاعری کا اجمالی جائزہ" شامل ہیں۔ ان کے کلام اور تحریریں ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی جانب سے ایوارڈ اور سند سے نوازا گیا، بہار اردو اکادمی نے اختر اورینوی ایوارڈ دیا، جبکہ لکھنؤ اردو اکادمی نے بھی انہیں اعزاز سے سرفراز کیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
