- کتاب فہرست 178284
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
منشی محمد ذکاء اللہ کا تعارف
شناخت: مورخ، مترجم، مضمون نگار، نقاد، ریاضی داں اور اردو نثر کے جدید اسلوب کے معمار
مولوی ذکاء اللہ دہلوی اردو ادب کے ان نامور نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں اردو نثر کو قدیم، پر تکلف اور مسجع و مقفیٰ انداز سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم اسلوب عطا کیا۔ وہ دورِ جدید کی اردو نثر کے معماروں میں ایک اہم اور مؤثر نام ہیں۔
مولوی ذکاء اللہ 20 اپریل 1832ء کو دہلی کے کوچہ بلاقی بیگم میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ علمی محلہ تھا جہاں شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور سرسید احمد خاں جیسی عظیم شخصیات نے آنکھ کھولی۔ ان کے آباء و اجداد کا تعلق غزنی سے تھا اور خاندان علمی و دینی روایت کا حامل تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا، جہاں ان کی ذہانت اور علمی استعداد نے جلد ہی انھیں ممتاز طلبہ میں شامل کر دیا۔ وہ ماسٹر رام چندر اور شیخ امام بخش صہبائی جیسے اساتذہ کے خاص شاگرد رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دہلی کالج میں ریاضی کے معلم مقرر ہوئے اور بعد ازاں آگرہ، مدراس، بلند شہر اور مرادآباد میں مختلف تدریسی مناصب پر فائز رہے۔ آخرکار میور سینٹرل کالج، الہ آباد میں پروفیسر مقرر ہوئے اور 1887ء میں سبکدوش ہوئے۔
مولوی ذکاء اللہ نے اپنی عمر کا بڑا حصہ تصنیف و تالیف میں صرف کیا۔ جدید تحقیق کے مطابق انھوں نے 157 کتابیں تحریر کیں، جن میں تاریخ، ریاضی، سائنس، اخلاقیات، ادب اور سوانح کے موضوعات شامل ہیں۔
وہ ایک اعلیٰ پایے کے تبصرہ نگار بھی تھے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں پر انھوں نے سائنٹفک اور معروضی انداز میں تبصرے لکھے۔ خاص طور پر مسدس مد و جزرِ اسلام پر ان کا تبصرہ ان کی تنقیدی بصیرت کا روشن نمونہ ہے۔
اردو انشائیہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک الگ شناخت قائم کی۔ ان کے انشائیے معلومات، تمثیل، تشبیہ اور خیالی استعارات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انشائیہ “آگ” میں ان کا اسلوب دلکشی اور فکری گہرائی کا بہترین نمونہ ہے۔
مولوی ذکاء اللہ ایک ممتاز ریاضی داں بھی تھے۔ انھوں نے نہ صرف درسی بلکہ غیر درسی ریاضی کی متعدد کتابیں تصنیف کیں اور انگریزی کی اہم ریاضیاتی کتب کو اردو میں منتقل کیا، تاکہ طلبہ رٹنے کے بجائے سمجھ کر علم حاصل کر سکیں۔ ان کی اس علمی خدمت کو لارڈ نارتھ بروک سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم نے سراہا۔
وہ علی گڑھ تحریک کے سرگرم معاون تھے اور مدرسۃ العلوم (علی گڑھ کالج) سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ وہ اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے زبردست حامی تھے اور مغربی علوم کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے عمر بھر کوشاں رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مادری زبان ہی قومی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
مولوی ذکاء اللہ سچے وطن پرست تھے۔ ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور مستقبل سے انھیں بے پناہ محبت تھی۔ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ قوم کی اخلاقی و فکری اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کا نظریۂ ادب افادی اور اخلاقی تھا، جس کی جھلک ان کے مضامین کے مجموعوں تہذیب الاخلاق، مکارم الاخلاق اور محاسن الاخلاق میں نمایاں ہے۔
وفات: مولوی ذکاء اللہ کا انتقال 4 ذیقعد 1328ھ / 7 نومبر 1910ء بروز پیر دہلی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Zakaullah_Dehlvi
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
