- کتاب فہرست 180518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1584 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب970 تحریکات267 ناول4270 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4872
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مشفق خواجہ کا تعارف
نام خواجہ عبدالحی اور تخلص مشفق تھا۔۱۹؍دسمبر ۱۹۳۵ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۹۵۷ء میں بی اے(آنرز) اور ۱۹۵۸ء میں ایم اے (اردو) کراچی یونیورسٹی سے پاس کیے۔۱۹۵۷ء سے ۱۹۷۳ء تک انجمن میں علمی وادارتی شعبہ کے نگراں رہے۔ یہاں خواجہ صاحب نے بحیثیت مدیر ماہ نامہ’’قومی زبان‘‘ سہ ماہی’’اردو‘‘ اور ’’قاموس الکتب‘‘ خدمات انجام دیں۔ وہ شاعر کے علاوہ کالم نویس ، نقاد، اور ایک بلند پایہ محقق تھے۔ بقول خواجہ صاحب پاکستان کی کسی ایک لائبریری میں اتنے ریفرنس بک نہیں ہیں جتنی ان کے کتب خانے میں ہیں۔ خواجہ صاحب ہمیشہ تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے تھے۔ ان کی تصانیف وتالیفات کے نام یہ ہیں: تذکرہ’خوش معرکہ ریبا‘(جلد اول ودوم) از سعاد ت خاں ناصر، ترتیب وتدوین مشفق خواجہ، ’’غالب اور صفیر بلگرامی‘‘، ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘(۱۲۴۸ صفحات پر مشتمل)’’خامہ بگوش کے قلم سے ‘‘، ’’سخن در سخن‘‘ ، ’’سخن ہائے نا گفتنی‘‘، ’’سخن ہائے گسترانہ‘‘(ادبی کالموں کا انتخاب)، ’’ابیات‘‘(شعری مجموعہ)، ’’کلیات یگانہ‘‘(ترتیب وتدوین)۔ریڈیو پاکستان کے لیے مختلف موضوعات پر تقریباً ۵۰ فیچر لکھے۔ ان کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ۱۹۸۸ء میں ان کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۲۱؍فروری۲۰۰۵ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:307
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
