- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مطرب بلیاوی کا تعارف
مطرب بلیاوی کا اصل نام نواب حسین ہے۔ ان کی ولادت 22 مارچ 1929ء کو پیر محمد صاحب کے گھر بلیا، یوپی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز فروری 1955 میں کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل، نظم اور قطعات کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے لیکن ان کا تخلیقی رجحان زیادہ تر شاعری کی طرف رہا۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ شاعری میں کوثر جائسی اور قیصر شمیم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دو شعری مجموعےشائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ ”شجرِ درد کے پھول“ 1988 میں شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ بنام ”کلامِ مطرب“ 2011 میں شائع ہوا جس کے مرتب ایم-نصر اللہ نصر ہیں۔ واضح ہو کہ مطرب بلیاوی صاحب کا انتقال 12 جولائی 2005ء کو شیب پور، ہاؤڑہ، مغربی بنگال میں ہوا تھا۔
ممتاز شاعر و ادیب، ناقد، مترجم اور صحافی جناب سالک لکھنوی کے مطابق ”جناب مطرب کی نجی زندگی میں جو وقار و شائستگی ہے ان کے کلام میں وہی شائستگی ملتی ہے اور ان کی زندگی کو جن محرومیوں سے سابقہ پڑا ہے وہ ان کے اشعار میں سوز و گداز بن کر نمایاں ہوگئی ہیں؎
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں آنسوؤں کی چھاؤں میں
دل کے آئینے پہ کتنے وقت کے پتھر لگے
یا پھر؎
یہ دیکھنا تھا کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
یہ غم نہیں کہ مجھ کو سنبھالا نہیں گیاموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
