- کتاب فہرست 179249
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مطرب بلیاوی کا تعارف
مطرب بلیاوی کا اصل نام نواب حسین ہے۔ ان کی ولادت 22 مارچ 1929ء کو پیر محمد صاحب کے گھر بلیا، یوپی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز فروری 1955 میں کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل، نظم اور قطعات کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے لیکن ان کا تخلیقی رجحان زیادہ تر شاعری کی طرف رہا۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ شاعری میں کوثر جائسی اور قیصر شمیم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دو شعری مجموعےشائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ ”شجرِ درد کے پھول“ 1988 میں شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ بنام ”کلامِ مطرب“ 2011 میں شائع ہوا جس کے مرتب ایم-نصر اللہ نصر ہیں۔ واضح ہو کہ مطرب بلیاوی صاحب کا انتقال 12 جولائی 2005ء کو شیب پور، ہاؤڑہ، مغربی بنگال میں ہوا تھا۔
ممتاز شاعر و ادیب، ناقد، مترجم اور صحافی جناب سالک لکھنوی کے مطابق ”جناب مطرب کی نجی زندگی میں جو وقار و شائستگی ہے ان کے کلام میں وہی شائستگی ملتی ہے اور ان کی زندگی کو جن محرومیوں سے سابقہ پڑا ہے وہ ان کے اشعار میں سوز و گداز بن کر نمایاں ہوگئی ہیں؎
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں آنسوؤں کی چھاؤں میں
دل کے آئینے پہ کتنے وقت کے پتھر لگے
یا پھر؎
یہ دیکھنا تھا کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
یہ غم نہیں کہ مجھ کو سنبھالا نہیں گیاموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
