- کتاب فہرست 182641
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1712 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4331 سیاسی355 مذہبیات4773 تحقیق و تنقید6628افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2041نصابی کتاب450 ترجمہ4261خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1286
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت587
- نظم1213
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مطرب بلیاوی کا تعارف
مطرب بلیاوی کا اصل نام نواب حسین ہے۔ ان کی ولادت 22 مارچ 1929ء کو پیر محمد صاحب کے گھر بلیا، یوپی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز فروری 1955 میں کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل، نظم اور قطعات کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے لیکن ان کا تخلیقی رجحان زیادہ تر شاعری کی طرف رہا۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ شاعری میں کوثر جائسی اور قیصر شمیم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دو شعری مجموعےشائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ ”شجرِ درد کے پھول“ 1988 میں شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ بنام ”کلامِ مطرب“ 2011 میں شائع ہوا جس کے مرتب ایم-نصر اللہ نصر ہیں۔ واضح ہو کہ مطرب بلیاوی صاحب کا انتقال 12 جولائی 2005ء کو شیب پور، ہاؤڑہ، مغربی بنگال میں ہوا تھا۔
ممتاز شاعر و ادیب، ناقد، مترجم اور صحافی جناب سالک لکھنوی کے مطابق ”جناب مطرب کی نجی زندگی میں جو وقار و شائستگی ہے ان کے کلام میں وہی شائستگی ملتی ہے اور ان کی زندگی کو جن محرومیوں سے سابقہ پڑا ہے وہ ان کے اشعار میں سوز و گداز بن کر نمایاں ہوگئی ہیں؎
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں آنسوؤں کی چھاؤں میں
دل کے آئینے پہ کتنے وقت کے پتھر لگے
یا پھر؎
یہ دیکھنا تھا کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
یہ غم نہیں کہ مجھ کو سنبھالا نہیں گیاموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
-
