- کتاب فہرست 180360
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
نفیس لکھنوی کا تعارف
تخلص : 'نفیس'
اصلی نام : میر خورشید علی
وفات : 03 Mar 1901 | لکھنؤ, اتر پردیش
رشتہ داروں : میر انیس (والد)
نام: میر خورشید علی
تخلص: نفیس
نسبت: میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزندنفیس لکھنوی اردو مرثیہ گوئی کی روایت کے ایک معتبر اور اہم نام ہیں۔ آپ کا اصل نام میر خورشید علی تھا اور تخلص نفیس اختیار کیا۔ آپ اردو کے عظیم مرثیہ گو شاعر میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزند تھے، جنہوں نے اپنے والد کے شعری ورثے کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنے منفرد انداز میں اس صنف میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔
ولادت و وفات
نفیس لکھنوی کی ولادت فیض آباد میں ہوئی۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے مختلف اور متضاد بیانات ملتے ہیں، اسی لیے ان کے سالِ ولادت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ ان کی ابتدائی تربیت و پرورش فیض آباد کے علمی و ادبی ماحول میں ہوئی۔
آپ کا انتقال 13 ذیقعد 1318 ہجری بمطابق 3 مارچ 1901 کو یرقان میں مبتلا رہنے کے بعد ہوا۔شعری سرمایہ اور ادبی خدمات
نفیس لکھنوی نے اپنی شاعری کے ذریعے مرثیہ گوئی کی روایت میں ایک خاص مقام بنایا۔ ان کے کلام میں فن کی نزاکت، جذبات کی شدت اور مرثیے کی روحانی فضا کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ ان کے مراثی کو نہ صرف مجالس میں پڑھا گیا بلکہ بعض اشعار کو بطور سوز بھی شامل کیا گیا، جس سے ان کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کے مرثیوں میں میر انیس کی فکری و فنی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر نفیس نے اپنے تجربے اور انداز سے اس روایت کو ایک نئی تازگی بھی عطا کی۔ ان کے بعض اشعار آج بھی مرثیہ خوانی کی محافل میں اپنی تاثیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ادبی اہمیت
نفیس لکھنوی کی حیثیت اردو مرثیہ گوئی میں ایک ایسے شاعر کی ہے جس نے خانوادۂ انیس کی روایت کو زندہ رکھا اور اسے اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کے کلام کے جواہر آج بھی مرثیہ خوانوں اور ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
