- کتاب فہرست 179742
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6671افسانہ2702 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2057نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4860
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
نفیس لکھنوی کا تعارف
تخلص : 'نفیس'
اصلی نام : میر خورشید علی
وفات : 03 Mar 1901 | لکھنؤ, اتر پردیش
رشتہ داروں : میر انیس (والد)
نام: میر خورشید علی
تخلص: نفیس
نسبت: میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزندنفیس لکھنوی اردو مرثیہ گوئی کی روایت کے ایک معتبر اور اہم نام ہیں۔ آپ کا اصل نام میر خورشید علی تھا اور تخلص نفیس اختیار کیا۔ آپ اردو کے عظیم مرثیہ گو شاعر میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزند تھے، جنہوں نے اپنے والد کے شعری ورثے کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنے منفرد انداز میں اس صنف میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔
ولادت و وفات
نفیس لکھنوی کی ولادت فیض آباد میں ہوئی۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے مختلف اور متضاد بیانات ملتے ہیں، اسی لیے ان کے سالِ ولادت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ ان کی ابتدائی تربیت و پرورش فیض آباد کے علمی و ادبی ماحول میں ہوئی۔
آپ کا انتقال 13 ذیقعد 1318 ہجری بمطابق 3 مارچ 1901 کو یرقان میں مبتلا رہنے کے بعد ہوا۔شعری سرمایہ اور ادبی خدمات
نفیس لکھنوی نے اپنی شاعری کے ذریعے مرثیہ گوئی کی روایت میں ایک خاص مقام بنایا۔ ان کے کلام میں فن کی نزاکت، جذبات کی شدت اور مرثیے کی روحانی فضا کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ ان کے مراثی کو نہ صرف مجالس میں پڑھا گیا بلکہ بعض اشعار کو بطور سوز بھی شامل کیا گیا، جس سے ان کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کے مرثیوں میں میر انیس کی فکری و فنی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر نفیس نے اپنے تجربے اور انداز سے اس روایت کو ایک نئی تازگی بھی عطا کی۔ ان کے بعض اشعار آج بھی مرثیہ خوانی کی محافل میں اپنی تاثیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ادبی اہمیت
نفیس لکھنوی کی حیثیت اردو مرثیہ گوئی میں ایک ایسے شاعر کی ہے جس نے خانوادۂ انیس کی روایت کو زندہ رکھا اور اسے اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کے کلام کے جواہر آج بھی مرثیہ خوانوں اور ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
