- کتاب فہرست 180745
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1373 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3351طنز و مزاح601 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط724 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4783 تحقیق و تنقید6710افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4885
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
نفیس لکھنوی کا تعارف
تخلص : 'نفیس'
اصلی نام : میر خورشید علی
وفات : 03 Mar 1901 | لکھنؤ, اتر پردیش
رشتہ داروں : میر انیس (والد)
نام: میر خورشید علی
تخلص: نفیس
نسبت: میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزندنفیس لکھنوی اردو مرثیہ گوئی کی روایت کے ایک معتبر اور اہم نام ہیں۔ آپ کا اصل نام میر خورشید علی تھا اور تخلص نفیس اختیار کیا۔ آپ اردو کے عظیم مرثیہ گو شاعر میر ببر علی انیس کے سب سے بڑے فرزند تھے، جنہوں نے اپنے والد کے شعری ورثے کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنے منفرد انداز میں اس صنف میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔
ولادت و وفات
نفیس لکھنوی کی ولادت فیض آباد میں ہوئی۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے مختلف اور متضاد بیانات ملتے ہیں، اسی لیے ان کے سالِ ولادت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ ان کی ابتدائی تربیت و پرورش فیض آباد کے علمی و ادبی ماحول میں ہوئی۔
آپ کا انتقال 13 ذیقعد 1318 ہجری بمطابق 3 مارچ 1901 کو یرقان میں مبتلا رہنے کے بعد ہوا۔شعری سرمایہ اور ادبی خدمات
نفیس لکھنوی نے اپنی شاعری کے ذریعے مرثیہ گوئی کی روایت میں ایک خاص مقام بنایا۔ ان کے کلام میں فن کی نزاکت، جذبات کی شدت اور مرثیے کی روحانی فضا کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ ان کے مراثی کو نہ صرف مجالس میں پڑھا گیا بلکہ بعض اشعار کو بطور سوز بھی شامل کیا گیا، جس سے ان کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کے مرثیوں میں میر انیس کی فکری و فنی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر نفیس نے اپنے تجربے اور انداز سے اس روایت کو ایک نئی تازگی بھی عطا کی۔ ان کے بعض اشعار آج بھی مرثیہ خوانی کی محافل میں اپنی تاثیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ادبی اہمیت
نفیس لکھنوی کی حیثیت اردو مرثیہ گوئی میں ایک ایسے شاعر کی ہے جس نے خانوادۂ انیس کی روایت کو زندہ رکھا اور اسے اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کے کلام کے جواہر آج بھی مرثیہ خوانوں اور ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
