- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
نجمہ نکہت کے افسانے
دو ٹکے کی
زندگی کا سارا حسن کچے رنگ کی طرح چھوٹتا جا رہا تھا اور آندھی کے بیچ جلتے جلتے بھڑک اٹھنے والے چراغ کی طرح نداؔ کے دل میں بھی بار بار کوئی شعلہ سا لپکتا اور وہ بیٹھے بیٹھے سر اٹھا کے کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگتی مگر نیچے سڑک پر چلتے راہگیر سفید
پتھر اور کونپل
اس نے ہتھیلی کی پشت سے پلکوں پر جلتے ہوئے آنسووں کے قطرے پونچھ دیئے اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ نیلے آسمان پر دور تک پھیلے ہوئے بادلوں کے غبار پر نظر جم گئی۔ پھر دیکھا تو دور تک میدان ہی میدان پڑا تھا۔ مٹیالا، مٹیالا اور کہیں کہیں ہلکا سبزہ زمین پر
شبنم اور انگارے
اس نے کروٹ بدل کے چادر منہ پر کھینچ لی۔ سورج کی کرنیں کھڑکی کے اندر آ کے پھیل گئی تھیں اور وہ ان کی گری محسوس کر رہی تھی لیکن بستر چھوڑ کے اٹھنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ جوڑ جوڑ میں درد ہو رہا تھا اور ایک انجانی کسک دل کو اداس
پھر وہی صبح، پھر وہی شام
جلتی ہوئی موم بتیاں مکان میں عجیب سی پر اسرار روشنی بکھیر رہی تھیں اور وہ پلنگ پر چپ چاپ پڑی ٹالسٹائی کو پڑھتے ہیں بار بار چونک جاتی۔ معمولی سی چیز کو بھی کس قدر حسن کارانہ انداز بیان کی ضرورت ہے۔ فانوس میں جلتی ہوئی موم بتیاں ہوا کے جھونکوں سے جھلملانے
دور دیس سے
جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔ اللہ جانے کیسے ڈراؤنے خواب ہوتے ہیں کہ منی گھبرا کے نیند میں مجھے ٹٹولنے لگتی ہے۔ میرے اوندھے سیدھے
اسی رہگذر پر
پاوشان نے شونا کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا اور مسکرا کے بولا ’’اس آسمان کو دیکھو شونا کس قدر نیلا ہے اور بادلوں پر شفق کا ہلکا سرخ رنگ چڑھ گیا ہے اور کہیں کہیں سفید چمکیلی جھلک وہ دیکھو۔ ادھر مغربی پہاڑی پر وہ۔ وہ۔‘‘ شونا نے اپنی بھدری نیم وا آنکھوں سے
آخری حویلی
ہائے یہ حویلی نہ ہوئی، پورے نو مہینے کا پیٹ ہو گیا جس کا بوجھ عورت کو سنبھالنا دوبھر ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ کمبخت حویلی بھی صمصام الدولہ کا بوجھ بنی پڑی تھی۔ ایک دو، نہ پورے پچاس کمرے تھے۔ مرّمت کروانا تو ایک طرف ،قلعی پھر دانا بھی بس کی بات نہ تھی جگہ
سیب کا درخت
درختوں، بیلوں اور پھولوں میں گھر ی ہوئی ڈیوڑھی کسی بوڑھی کمزور عورت کی طرح جھک آئی تھی۔ چھت کی بڑی بڑی مضبوط نائیں دیمک چاٹ رہی تھی۔ بارش نے زرد رنگ ڈالا تھا اور باہر ڈیوڑھی کی دیواروں پر کائی اگ آئی تھی۔ نواب میاں کی یہ ڈیوڑھی اپنے اندر بڑی کشش رکھتی
کھنڈر
اللہ جانے آپ نے وہ ڈیوڑھی دیکھی بھی ہے یا نہیں جہاں سے چوڑیوں والوں کی چھکا چھک روشنی پھینکتی ہوئی دوکانوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ وہیں راستے سے ذرا ہٹ کر صداقت نواز جنگ کی سفید دیواروں اور منقش ستونوں سے گھری ہوئی عظیم الشان ڈیوڑھی، لاتعداد، دروازوں
ایئرکنڈیشنڈ
سرمئی بادلوں نے ایک حسین شام کو تخلیق کیا تھا۔ حامد روڈ پر گہما گہمی، ریل پیل، حسن، دلفریبی، چمک دمک قہقہے اور سرگو شیاں بہہ رہی تھیں۔ مگر وہ ایئرکنڈیشنڈ ‘‘رانی ایمپوریم’‘ میں کاؤنٹر پر کھڑی بند دروازوں کے شیشوں سے باہر دیکھ رہی تھی۔سامنے ‘‘میکس فیکٹر،‘’
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
