- کتاب فہرست 177178
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4299 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2683 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4851
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
نسیم انہونوی کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، مدیر، بچوں کے ادیب اور 'نسیم بک ڈپو' لکھنؤ کے بانی
نسیم انہونوی اردو ادب اور اشاعتی دنیا کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت تھے، جنہوں نے نہ صرف خود ناول نگاری میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ ایک بڑے اشاعتی ادارے کے قیام کے ذریعے اردو ادب کی ترویج میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
نسیم انہونوی کی پیدائش 1904 میں رائے بریلی کے قصبے انہونا میں ہوئی۔ کم عمری میں ہی وہ اپنے والد حشمت علی کے ساتھ لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ ان کے والد ایک معمولی استاد تھے، اس لیے بچپن تنگدستی میں گزرا۔ باوجود اس کے، انہوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک پہنچے۔ انہوں نے ہمت، محنت اور عزم کے ذریعے اپنی راہ خود بنائی۔ انہیں رسائل و جرائد پڑھنے کا شوق تھا، جس نے ان کے اندر ادبی ذوق کو بیدار کیا اور وہ ناول نگاری کی طرف مائل ہوئے۔
ابتدا میں ان کی تحریریں مختلف رسائل میں شائع ہو کر مقبول ہونے لگیں۔ بعد ازاں وہ ماہنامہ 'انکشاف' سے وابستہ ہوئے اور کم عمری میں ہی اس کے مدیر مقرر ہو گئے۔ انہوں نے اپنی صلاحیت سے اس رسالے کو قلیل مدت میں مقبول بنا دیا۔
بعد میں علامہ نیاز فتحپوری کے مشورے پر انہوں نے خواتین کی اصلاح کے لیے ماہنامہ 'حریم' جاری کیا، جس کا اداریہ 'لمعات' ان کے فکری و اصلاحی نظریات کا عکاس تھا۔
انہوں نے 1928 میں لکھنؤ کے لاٹوش روڈ پر اپنا ذاتی ادارہ 'نسیم بک ڈپو' قائم کیا۔ یہ ادارہ محض ایک کتب خانہ نہیں بلکہ ایک ادبی اکادمی بن گیا۔ یہاں سے انہوں نے ایک ہزار سے زائد معیاری کتابیں شائع کیں، جن میں عالمی ادب کے شاہکار تراجم بھی شامل تھے۔
انہوں نے ماہنامہ 'سرپنچ' بھی جاری کیا، جو اردو کا پہلا فلمی رسالہ مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے 'کلیاں' کے نام سے ایک رسالہ نکالا، جس میں کہانیاں، مضامین اور تراجم شامل ہوتے تھے۔
نسیم انہونوی نے نہ صرف اپنی تخلیقات شائع کیں بلکہ بے شمار نئے لکھنے والوں کو متعارف کرایا۔ ان کے ادارے سے کئی نامور ادیب سامنے آئے، جن میں مظہر الحق علوی، مسرور جہاں، عطیہ پروین، اور عفت موہانی وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے مختلف زبانوں کے ناولوں کے اردو تراجم بھی شائع کیے، جس سے اردو ادب کو وسعت ملی۔ خود انہوں نے تقریباً 27 ناول تحریر کیے۔
قدرتی مناظر سے انہیں خاص لگاؤ تھا، خصوصاً نینی تال ان کا پسندیدہ مقام تھا، جہاں وہ اکثر گرمیوں میں قیام کرتے اور اپنے کئی ناول وہیں تحریر کرتے تھے، جن میں ناول "کہکشاں" خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
ان کی پہلی بیوی کا انتقال جلد ہو گیا تھا، جن سے ایک بیٹا شمیم انہونوی تھا، جو بعد میں رسالہ 'کلیاں' کے مدیر بھی رہے۔ دوسری شادی سے ان کی تین اولادیں ہوئیں۔
زندگی کے آخری دور میں وہ دمہ کے مرض میں مبتلا ہو گئے، لیکن آخری دنوں تک اپنے اشاعتی ادارے سے وابستہ رہے۔
1995ء نسیم بک ڈپو میں آگ لگنے سے قیمتی مسودات اور ذخیرہ ضائع ہو گیا، اور بالآخر 1998ء تک نسیم بک ڈپو اور اس سے وابستہ رسائل بند ہو گئے۔
وفات: نسیم انہونوی کا انتقال 4 مارچ 1989ء کو ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
-
