Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Naseem Anhonwi's Photo'

نسیم انہونوی

1904 - 1989 | لکھنؤ, انڈیا

مقبول ناول نگار اور 'نسیم بک ڈپو' لکھنؤ کے بانی

مقبول ناول نگار اور 'نسیم بک ڈپو' لکھنؤ کے بانی

نسیم انہونوی کا تعارف

تخلص : 'نسیم انہونوی'

اصلی نام : نسیم علی

پیدائش :رائے بریلی, اتر پردیش

وفات : 04 Mar 1989 | لکھنؤ, اتر پردیش

شناخت: مقبول ناول نگار، مدیر، بچوں کے ادیب اور 'نسیم بک ڈپو' لکھنؤ کے بانی

نسیم انہونوی اردو ادب اور اشاعتی دنیا کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت تھے، جنہوں نے نہ صرف خود ناول نگاری میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ ایک بڑے اشاعتی ادارے کے قیام کے ذریعے اردو ادب کی ترویج میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

نسیم انہونوی کی پیدائش 1904 میں رائے بریلی کے قصبے انہونا میں ہوئی۔ کم عمری میں ہی وہ اپنے والد حشمت علی کے ساتھ لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ ان کے والد ایک معمولی استاد تھے، اس لیے بچپن تنگدستی میں گزرا۔ باوجود اس کے، انہوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک پہنچے۔ انہوں نے ہمت، محنت اور عزم کے ذریعے اپنی راہ خود بنائی۔ انہیں رسائل و جرائد پڑھنے کا شوق تھا، جس نے ان کے اندر ادبی ذوق کو بیدار کیا اور وہ ناول نگاری کی طرف مائل ہوئے۔

ابتدا میں ان کی تحریریں مختلف رسائل میں شائع ہو کر مقبول ہونے لگیں۔ بعد ازاں وہ ماہنامہ 'انکشاف' سے وابستہ ہوئے اور کم عمری میں ہی اس کے مدیر مقرر ہو گئے۔ انہوں نے اپنی صلاحیت سے اس رسالے کو قلیل مدت میں مقبول بنا دیا۔

بعد میں علامہ نیاز فتحپوری کے مشورے پر انہوں نے خواتین کی اصلاح کے لیے ماہنامہ 'حریم' جاری کیا، جس کا اداریہ 'لمعات' ان کے فکری و اصلاحی نظریات کا عکاس تھا۔

انہوں نے 1928 میں لکھنؤ کے لاٹوش روڈ پر اپنا ذاتی ادارہ 'نسیم بک ڈپو' قائم کیا۔ یہ ادارہ محض ایک کتب خانہ نہیں بلکہ ایک ادبی اکادمی بن گیا۔ یہاں سے انہوں نے ایک ہزار سے زائد معیاری کتابیں شائع کیں، جن میں عالمی ادب کے شاہکار تراجم بھی شامل تھے۔

انہوں نے ماہنامہ 'سرپنچ' بھی جاری کیا، جو اردو کا پہلا فلمی رسالہ مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے 'کلیاں' کے نام سے ایک رسالہ نکالا، جس میں کہانیاں، مضامین اور تراجم شامل ہوتے تھے۔

نسیم انہونوی نے نہ صرف اپنی تخلیقات شائع کیں بلکہ بے شمار نئے لکھنے والوں کو متعارف کرایا۔ ان کے ادارے سے کئی نامور ادیب سامنے آئے، جن میں مظہر الحق علوی، مسرور جہاں، عطیہ پروین، اور عفت موہانی وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے مختلف زبانوں کے ناولوں کے اردو تراجم بھی شائع کیے، جس سے اردو ادب کو وسعت ملی۔ خود انہوں نے تقریباً 27 ناول تحریر کیے۔

قدرتی مناظر سے انہیں خاص لگاؤ تھا، خصوصاً نینی تال ان کا پسندیدہ مقام تھا، جہاں وہ اکثر گرمیوں میں قیام کرتے اور اپنے کئی ناول وہیں تحریر کرتے تھے، جن میں ناول "کہکشاں" خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

ان کی پہلی بیوی کا انتقال جلد ہو گیا تھا، جن سے ایک بیٹا شمیم انہونوی تھا، جو بعد میں رسالہ 'کلیاں' کے مدیر بھی رہے۔ دوسری شادی سے ان کی تین اولادیں ہوئیں۔

زندگی کے آخری دور میں وہ دمہ کے مرض میں مبتلا ہو گئے، لیکن آخری دنوں تک اپنے اشاعتی ادارے سے وابستہ رہے۔

1995ء نسیم بک ڈپو میں آگ لگنے سے قیمتی مسودات اور ذخیرہ ضائع ہو گیا، اور بالآخر 1998ء تک نسیم بک ڈپو اور اس سے وابستہ رسائل بند ہو گئے۔

وفات: نسیم انہونوی کا انتقال 4 مارچ 1989ء کو ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے