- کتاب فہرست 182592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3288طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط745
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ناصر عباس نیر کے مضامین
اقبال اور ماڈرنزم کی بحث
ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ
دیباچہ
شاعری کا وجود لفظ پر منحصر ہے، لیکن سب شاعر لفظ کو وجود کا رتبہ نہیں دیتے، نہ دے پاتے ہیں، نہ یہ جان پاتے ہیں کہ لفظ محض ذریعہ ہے نہ آدمی کی خدمت پر مامور کوئی شے۔ اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے کہ لکھنے والا، لفظ کا کیا تصور کرتا ہے اور اس سے کس نوع کا
کیا کسی نظریے کو موت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟
اردو کے بعض نقادوں کی رائے ہے کہ مغرب میں تھیوری کا خاتمہ ہوگیا ہے، اور اردو میں تھیوری کی بحثیں بے وقت کی راگنی ہیں۔ وہ اپنی رائے کے حق میں اور باتوں کے علاوہ ٹیری ایگلٹن کی ۲۰۰۳ء میں شایع ہونے والی کتاب تھیوری کے بعد (After Theory) کا حوالہ بھی دیتے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
