- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ناصر عباس نیر کے مضامین
اقبال اور ماڈرنزم کی بحث
ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ
دیباچہ
شاعری کا وجود لفظ پر منحصر ہے، لیکن سب شاعر لفظ کو وجود کا رتبہ نہیں دیتے، نہ دے پاتے ہیں، نہ یہ جان پاتے ہیں کہ لفظ محض ذریعہ ہے نہ آدمی کی خدمت پر مامور کوئی شے۔ اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے کہ لکھنے والا، لفظ کا کیا تصور کرتا ہے اور اس سے کس نوع کا
کیا کسی نظریے کو موت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟
اردو کے بعض نقادوں کی رائے ہے کہ مغرب میں تھیوری کا خاتمہ ہوگیا ہے، اور اردو میں تھیوری کی بحثیں بے وقت کی راگنی ہیں۔ وہ اپنی رائے کے حق میں اور باتوں کے علاوہ ٹیری ایگلٹن کی ۲۰۰۳ء میں شایع ہونے والی کتاب تھیوری کے بعد (After Theory) کا حوالہ بھی دیتے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
