- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6509افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ناصر عباس نیر کے مضامین
اقبال اور ماڈرنزم کی بحث
ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ
دیباچہ
شاعری کا وجود لفظ پر منحصر ہے، لیکن سب شاعر لفظ کو وجود کا رتبہ نہیں دیتے، نہ دے پاتے ہیں، نہ یہ جان پاتے ہیں کہ لفظ محض ذریعہ ہے نہ آدمی کی خدمت پر مامور کوئی شے۔ اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے کہ لکھنے والا، لفظ کا کیا تصور کرتا ہے اور اس سے کس نوع کا
کیا کسی نظریے کو موت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟
اردو کے بعض نقادوں کی رائے ہے کہ مغرب میں تھیوری کا خاتمہ ہوگیا ہے، اور اردو میں تھیوری کی بحثیں بے وقت کی راگنی ہیں۔ وہ اپنی رائے کے حق میں اور باتوں کے علاوہ ٹیری ایگلٹن کی ۲۰۰۳ء میں شایع ہونے والی کتاب تھیوری کے بعد (After Theory) کا حوالہ بھی دیتے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
