- کتاب فہرست 188785
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
ڈرامہ1031 تعلیم376 مضامين و خاكه1549 قصہ / داستان1765 صحت109 تاریخ3600طنز و مزاح754 صحافت216 زبان و ادب1991 خطوط820
طرز زندگی27 طب1042 تحریکات299 ناول5036 سیاسی374 مذہبیات4978 تحقیق و تنقید7405افسانہ3057 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل120 تصوف2284نصابی کتاب572 ترجمہ4596خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1499
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت66
- غزل1340
- ہائیکو12
- حمد54
- مزاحیہ37
- انتخاب1663
- کہہ مکرنی7
- کلیات718
- ماہیہ21
- مجموعہ5386
- مرثیہ403
- مثنوی889
- مسدس62
- نعت603
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ201
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا11
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
ناصر عباس نیر کے مضامین
اقبال اور ماڈرنزم کی بحث
ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ
دیباچہ
شاعری کا وجود لفظ پر منحصر ہے، لیکن سب شاعر لفظ کو وجود کا رتبہ نہیں دیتے، نہ دے پاتے ہیں، نہ یہ جان پاتے ہیں کہ لفظ محض ذریعہ ہے نہ آدمی کی خدمت پر مامور کوئی شے۔ اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے کہ لکھنے والا، لفظ کا کیا تصور کرتا ہے اور اس سے کس نوع کا
کیا کسی نظریے کو موت جیسے الفاظ دیے جا سکتے ہیں؟
اردو کے بعض نقادوں کی رائے ہے کہ مغرب میں تھیوری کا خاتمہ ہوگیا ہے، اور اردو میں تھیوری کی بحثیں بے وقت کی راگنی ہیں۔ وہ اپنی رائے کے حق میں اور باتوں کے علاوہ ٹیری ایگلٹن کی ۲۰۰۳ء میں شایع ہونے والی کتاب تھیوری کے بعد (After Theory) کا حوالہ بھی دیتے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
-
