- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3274طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1688 خطوط731
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6499افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب428 ترجمہ4210خواتین کی تحریریں5764-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1252
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1580
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
نرمل ورما کے افسانے
ایک دن کا مہمان
اس نے اپنا سوٹ کیس دروازے کے آگے رکھ دیا۔ گھنٹی کا بٹن دبایا اور انتظار کرنے لگا۔ مکان میں خاموشی تھی۔ کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ ایک لمحے کے لیے اسے گمان ہوا کہ شاید گھر میں کوئی نہیں ہے اور وہ خالی مکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس نے رومال نکال کر پسینہ پونچھا،
دھوپ کا ایک ٹکڑا
اس کہانی میں بیتے ہوئے وقت اور یادوں کے بیچ کے خلا کو عمدہ پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک شادی شدہ عورت جب ایک رات اپنے شوہر کے اس رد عمل کو محسوس نہیں کرتی جس کی وہ طالب ہے تو وہ اسے چھوڑ کر باہر چلی آتی ہے۔ اور پھر ایک پارک میں صبح سے شام تک بیٹھنا اس کے معمول میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ پارک میں اس جگہ بیٹھتی ہے جہاں سے گرجا گھر صاف نظر آتا ہے، یہ وہی گرجا گھر ہے جہاں پندرہ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔
آدمی اور لڑکی
اس نے دکان کا دروازہ کھولا تو گھنٹی کی آواز ہوئی۔ ٹن۔۔۔جب وہ اندر آیا اور خود کار دروازہ بند ہو گیا تو گھنٹی پھر بجی۔ اس مرتبہ دوبار۔ ٹن۔ ٹن۔۔۔ اس بار آواز کافی دیر تک گونجتی رہی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کوئی اندر آیا ہے۔ دکان میں کوئی نہیں
لندن کی ایک رات
میں دوسری بار وہاں گیا تھا۔ پہلی بار دیر سے پہنچا تھا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی سارا کام تقسیم ہو چکا تھا۔ میں مایوس سا گیٹ کے باہر کھڑا تھا۔ سوچ رہا تھا شاید آخری لمحے انھیں کسی آدمی کی ضرورت پڑ جائے اور وہ مجھے بلا لیں۔ دیر تک گھڑگھڑاتی مشینوں کے اندر
صبح کی سیر
اس کہانی میں انسان کے خالی پن، ماضی کی یادوں اور رشتوں کی معنویت کو بیان کیا گیا ہے۔ نہال چند ایک ریٹائرڈ کرنل ہیں جن کا بیٹا بیرون ملک رہتا ہے۔ بیوی کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ ایک نوکر کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ صبح کی سیر کے لیے نکلتے ہیں تو رات تک واپس آتے ہیں اور دن بھر جنگل میں یہاں وہاں گزارتے ہیں۔ ایک دن جنگل میں انہیں ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی رسی نظر آتی ہے، ان کا تصور و تخیل انہیں اس رسی کے سہارے ماضی میں لے جاتا ہے اور پھر وہ اسی رسی سے جھولتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
دوسری دنیا
کئی برس پہلے میں ایک ایسی لڑکی کو جانتا تھا جو دن بھر پارک میں کھیلا کرتی تھی۔ اس پارک میں بہت سے پیڑ تھے جن میں سے بہت کم کو میں پہچانتا تھا۔ سارا دن لائبریری میں رہنے کے بعد شام کو جب میں لوٹتا تو وہ پیڑوں کے بیچ بیٹھی دکھائی دیتی۔ بہت دنوں تک ہم ایک
زندگی یہاں اور وہاں
دو کرداروں کی مدد سے اس کہانی میں دکھ اور سکھ کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا کردار کہتا ہے کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس پر انگلی رکھ کر کہا جا سکے کہ یہ سکھ ہے، یہ تشفی ہے۔ ایک جگہ کہتا ہے کہ دکھ میں کوئی ڈر نہیں ہوتا لیکن ہم جسے سکھ کہتے ہیں وہ ہمیشہ خطروں سے بھرا رہتا ہے۔ کرداروں کی ناسٹیلجائی کیفیت کہانی کو معنوی طور پر اور دبیز بناتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
-
