- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
نیاز فتح پوری کے مضامین
کلام مومن پر ایک طائرانہ نگاہ
اگر میرے سامنے اردو کے تمام شعراء متقدمین و متاخرین کا کلام رکھ کر (بہ استثنائے میرؔ) مجھ کو صرف ایک دیوان حاصل کرنے کی اجازت دی جائے تو میں بلا تامل کہہ دوں گا کہ مجھے کلیات مومن دے دو اور باقی سب اٹھا لے جاؤ۔ ایک سننے والے کے دل میں قدرتاً اس کے بعد
ادبیات اور اصول نقد
لٹریچر کا ترجمہ اردو میں عام طور پر ادب یا ادبیات کیا جاتا ہے جو اپنے اصلی مفہوم کے لحاظ سے بظاہر بے جوڑ سا معلوم ہوتا ہے لیکن غالباً اس سے بہتر ترجمہ ممکن نہیں، ہر چند اول اول عربی زبان میں ادب کا لغوی مفہوم وہی تھا جو انسان کے بلند شریفانہ خصائل کو
سید محمد میر سوز
(دہلی کا ایک شاعر جس کو دنیا نے بہت کم یاد رکھا) سوز کا ذکر تقریباً ہر تذکرہ میں نظر آتا ہے اور بجز آزاد کے کہ انہوں نے تو بیشک میر کے حوالہ سے انہیں پون شاعر مانا ہے، باقی تمام تذکرہ نویسوں نے اس کا ذکر اس احترام سے کیا ہے جو میرؔ، سوداؔ یا دردؔ
نظیر میری نظر میں
نظیر کے غیرمطبوعہ کلیات کی ورق گردانی کر رہا تھا اور سوچتا جاتا تھا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ نظیر کس قسم کا شاعر تھا تو میں کیا جواب دے سکتا ہوں۔ اس کی غزلیں پڑھئے تو فوراً میرؔو سوزؔ کی طرف خیال منتقل ہوتا ہے۔ پھر بھی وہ میرؔ و سوز سے بالکل علیحدہ
یوپی کے ایک نوجوان ہندو شاعر فراق گورکھپوری
ایک زمانہ تھا کہ میری زندگی کی تنہائیوں کا دلچسپ ترین مشغلہ صر ف شعر پڑھنا تھا، اس کے بعد شعر کہنے کا دور آیا اور کافی عرصہ تک مجھ پر مسلط رہا، لیکن ان دونوں زمانوں میں کوئی زمانہ اس احساس سے خالی نہ گزرا کہ اگر شاعر ی ہماری حیات دنیوی کو کامیاب بنانے
ظفر کی شاعری
کوئی غزل پر اپنی جو نازاں آگے تیری غزل کے ہو شعر سنا دے اس کو ظفر اک اس میں کا اک اس میں کا میری رائے میں یہ بہترین سر سری تنقید ہے جو ظفر نے خود اپنی شاعری کے متعلق کی ہے۔ اس میں کلام نہیں کہ ظفر کے جستہ جستہ اشعار اگر کسی کے ناز کو خجل نہیں کر
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
