- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عثمان شہید کا تعارف
ہندوستان کے ایک ممتاز اور معزز قانونی ماہر، مصنف، کالم نگار، خطیب اور سماجی مصلح تھے۔ انہیں اکثر "اپنے آپ میں ایک کہکشاں" کہا جاتا تھا، جو ان کی ہمہ گیر شخصیت اور سماج میں نمایاں خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔
ادبی و قانونی خدمات
تصانیف:
انہوں نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں شمشیر و سنان، تیر و تفنگ، سنگ و خشت اور قانونی مشورے شامل ہیں۔ ان کتابوں میں قانونی، سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کالم نگار:
وہ روزنامہ سیاست کے مستقل کالم نگار تھے، جہاں اپنے کالموں کے ذریعے قانونی اور سماجی و سیاسی مسائل پر عوامی شعور اجاگر کرتے رہے۔
ٹی وی پروگرامز:
انہوں نے سیاست ٹی وی کے پروگرام قانون کی آواز میں بھی حصہ لیا، جہاں وہ عوام کو سادہ الفاظ میں دیوانی اور فوجداری معاملات کی وضاحت کیا کرتے تھے۔
وکالت:
انہوں نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور متعدد قانونی کمیٹیوں و مشاورتی اداروں کے رکن رہے۔
عوامی قانونی شعور:
اپنی تحریروں اور خطابات کے ذریعے عوام کو قانونی مسائل پر رہنمائی دی، خصوصاً اپنے مشہور کالم قانونی مشورے کے ذریعے۔
انتقال
22 دسمبر 2024 کو 77 برس کی عمر میں ہوا۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد شاہدہ، کِنگز کالونی، حیدرآباد میں ادا کی گئی اور تدفین مناور الدولہ قبرستان، درگاہ حضرت برہان شاہ کے قریب عمل میں آئی۔
وراثت
ان کی قانونی بصیرت، ادبی گہرائی اور سماجی خدمات آج بھی لوگوں کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ ان کی یادگار تحریریں، تقاریر اور عوامی خدمت کے نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
