- کتاب فہرست 188668
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1988
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1599 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط745
طرز زندگی27 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6666افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2053نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5901-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
عثمان شہید کا تعارف
ہندوستان کے ایک ممتاز اور معزز قانونی ماہر، مصنف، کالم نگار، خطیب اور سماجی مصلح تھے۔ انہیں اکثر "اپنے آپ میں ایک کہکشاں" کہا جاتا تھا، جو ان کی ہمہ گیر شخصیت اور سماج میں نمایاں خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔
ادبی و قانونی خدمات
تصانیف:
انہوں نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں شمشیر و سنان، تیر و تفنگ، سنگ و خشت اور قانونی مشورے شامل ہیں۔ ان کتابوں میں قانونی، سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کالم نگار:
وہ روزنامہ سیاست کے مستقل کالم نگار تھے، جہاں اپنے کالموں کے ذریعے قانونی اور سماجی و سیاسی مسائل پر عوامی شعور اجاگر کرتے رہے۔
ٹی وی پروگرامز:
انہوں نے سیاست ٹی وی کے پروگرام قانون کی آواز میں بھی حصہ لیا، جہاں وہ عوام کو سادہ الفاظ میں دیوانی اور فوجداری معاملات کی وضاحت کیا کرتے تھے۔
وکالت:
انہوں نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور متعدد قانونی کمیٹیوں و مشاورتی اداروں کے رکن رہے۔
عوامی قانونی شعور:
اپنی تحریروں اور خطابات کے ذریعے عوام کو قانونی مسائل پر رہنمائی دی، خصوصاً اپنے مشہور کالم قانونی مشورے کے ذریعے۔
انتقال
22 دسمبر 2024 کو 77 برس کی عمر میں ہوا۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد شاہدہ، کِنگز کالونی، حیدرآباد میں ادا کی گئی اور تدفین مناور الدولہ قبرستان، درگاہ حضرت برہان شاہ کے قریب عمل میں آئی۔
وراثت
ان کی قانونی بصیرت، ادبی گہرائی اور سماجی خدمات آج بھی لوگوں کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ ان کی یادگار تحریریں، تقاریر اور عوامی خدمت کے نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1988
-
