- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6509افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عثمان شہید کا تعارف
ہندوستان کے ایک ممتاز اور معزز قانونی ماہر، مصنف، کالم نگار، خطیب اور سماجی مصلح تھے۔ انہیں اکثر "اپنے آپ میں ایک کہکشاں" کہا جاتا تھا، جو ان کی ہمہ گیر شخصیت اور سماج میں نمایاں خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔
ادبی و قانونی خدمات
تصانیف:
انہوں نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں شمشیر و سنان، تیر و تفنگ، سنگ و خشت اور قانونی مشورے شامل ہیں۔ ان کتابوں میں قانونی، سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کالم نگار:
وہ روزنامہ سیاست کے مستقل کالم نگار تھے، جہاں اپنے کالموں کے ذریعے قانونی اور سماجی و سیاسی مسائل پر عوامی شعور اجاگر کرتے رہے۔
ٹی وی پروگرامز:
انہوں نے سیاست ٹی وی کے پروگرام قانون کی آواز میں بھی حصہ لیا، جہاں وہ عوام کو سادہ الفاظ میں دیوانی اور فوجداری معاملات کی وضاحت کیا کرتے تھے۔
وکالت:
انہوں نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور متعدد قانونی کمیٹیوں و مشاورتی اداروں کے رکن رہے۔
عوامی قانونی شعور:
اپنی تحریروں اور خطابات کے ذریعے عوام کو قانونی مسائل پر رہنمائی دی، خصوصاً اپنے مشہور کالم قانونی مشورے کے ذریعے۔
انتقال
22 دسمبر 2024 کو 77 برس کی عمر میں ہوا۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد شاہدہ، کِنگز کالونی، حیدرآباد میں ادا کی گئی اور تدفین مناور الدولہ قبرستان، درگاہ حضرت برہان شاہ کے قریب عمل میں آئی۔
وراثت
ان کی قانونی بصیرت، ادبی گہرائی اور سماجی خدمات آج بھی لوگوں کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ ان کی یادگار تحریریں، تقاریر اور عوامی خدمت کے نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
