- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عزیر انجم کا تعارف
پیدائش : 16 May 1965 | مشرقی چمپارن, بہار
عزیر انجم کی ولادت 16 مئی 1965ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد سجاد حسین جب کہ والدہ محترمہ کا نام رقیبہ بیگم ہے۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ روزنامہ ”قومی تنظیم“، پٹنہ کے بیورو چیف بھی ہیں۔جہانِ ادب میں بحیثیت افسانہ نگار اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ پہلے افسانوی مجموعے کا نام ”آدمی کی بستی میں“ ہے جس کی اشاعت 2009 میں ہوئی تھی جب کہ دوسرے افسانوی مجموعے کا نام “انجام“ ہے جس کی اشاعت 2016 میں ہوئی تھی۔
مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر کوثر مظہری فرماتے ہیں کہ
”کہانی ہر انسان کے اندر پرورش پاتی ہے۔ لیکن اس کی پرورش و پرداخت ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ عزیر انجم میرے گہرے دوست ہیں اور سماجی سطح پر وہ بے حد فعال ہیں۔ واضح رہے کہ کہانی خلاء میں جنم نہیں لیتی بلکہ وہ اسی سماج اور سیاسی تناظر کی زائیدہ ہوتی ہے۔ عزیر انجم کے تجربے اور مشاہدے اپنے نجی ہیں۔ لہٰذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کہانیوں کے مجموعے ”انجام“ کی بات کی جائے یا اسے قبل شائع ہونے والے ”آدمی کی بستی میں“ کا ذکر ہو، ہر جگہ کم و بیش تمام کہانیوں میں دور کی کوڑی لانے کے بجائے انھوں نے آس پاس ہی پنپ رہی کہانیوں کو لفظی پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی سادہ بیانی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غیرضروری طور پر کہانیوں کو دور از کار تشبیہات و استعارات یا علامتوں سے گراں بار نہیں ہونے دیتے۔ آپ جب ان کی کہانیاں پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے کردار آپ کے لیے اجنبی نہیں اور اسلوبِ اظہار تو خیر سادہ ہے ہی جو کہ کہانی کو انتشار و زولیدگی سے بچا لیتا ہے۔“موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
