- کتاب فہرست 180580
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عزیر انجم کا تعارف
پیدائش : 16 May 1965 | مشرقی چمپارن, بہار
عزیر انجم کی ولادت 16 مئی 1965ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد سجاد حسین جب کہ والدہ محترمہ کا نام رقیبہ بیگم ہے۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ روزنامہ ”قومی تنظیم“، پٹنہ کے بیورو چیف بھی ہیں۔جہانِ ادب میں بحیثیت افسانہ نگار اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ پہلے افسانوی مجموعے کا نام ”آدمی کی بستی میں“ ہے جس کی اشاعت 2009 میں ہوئی تھی جب کہ دوسرے افسانوی مجموعے کا نام “انجام“ ہے جس کی اشاعت 2016 میں ہوئی تھی۔
مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر کوثر مظہری فرماتے ہیں کہ
”کہانی ہر انسان کے اندر پرورش پاتی ہے۔ لیکن اس کی پرورش و پرداخت ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ عزیر انجم میرے گہرے دوست ہیں اور سماجی سطح پر وہ بے حد فعال ہیں۔ واضح رہے کہ کہانی خلاء میں جنم نہیں لیتی بلکہ وہ اسی سماج اور سیاسی تناظر کی زائیدہ ہوتی ہے۔ عزیر انجم کے تجربے اور مشاہدے اپنے نجی ہیں۔ لہٰذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کہانیوں کے مجموعے ”انجام“ کی بات کی جائے یا اسے قبل شائع ہونے والے ”آدمی کی بستی میں“ کا ذکر ہو، ہر جگہ کم و بیش تمام کہانیوں میں دور کی کوڑی لانے کے بجائے انھوں نے آس پاس ہی پنپ رہی کہانیوں کو لفظی پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی سادہ بیانی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غیرضروری طور پر کہانیوں کو دور از کار تشبیہات و استعارات یا علامتوں سے گراں بار نہیں ہونے دیتے۔ آپ جب ان کی کہانیاں پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے کردار آپ کے لیے اجنبی نہیں اور اسلوبِ اظہار تو خیر سادہ ہے ہی جو کہ کہانی کو انتشار و زولیدگی سے بچا لیتا ہے۔“موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
