- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عزیر انجم کا تعارف
پیدائش : 16 May 1965 | مشرقی چمپارن, بہار
عزیر انجم کی ولادت 16 مئی 1965ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد سجاد حسین جب کہ والدہ محترمہ کا نام رقیبہ بیگم ہے۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ روزنامہ ”قومی تنظیم“، پٹنہ کے بیورو چیف بھی ہیں۔جہانِ ادب میں بحیثیت افسانہ نگار اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ پہلے افسانوی مجموعے کا نام ”آدمی کی بستی میں“ ہے جس کی اشاعت 2009 میں ہوئی تھی جب کہ دوسرے افسانوی مجموعے کا نام “انجام“ ہے جس کی اشاعت 2016 میں ہوئی تھی۔
مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر کوثر مظہری فرماتے ہیں کہ
”کہانی ہر انسان کے اندر پرورش پاتی ہے۔ لیکن اس کی پرورش و پرداخت ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ عزیر انجم میرے گہرے دوست ہیں اور سماجی سطح پر وہ بے حد فعال ہیں۔ واضح رہے کہ کہانی خلاء میں جنم نہیں لیتی بلکہ وہ اسی سماج اور سیاسی تناظر کی زائیدہ ہوتی ہے۔ عزیر انجم کے تجربے اور مشاہدے اپنے نجی ہیں۔ لہٰذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کہانیوں کے مجموعے ”انجام“ کی بات کی جائے یا اسے قبل شائع ہونے والے ”آدمی کی بستی میں“ کا ذکر ہو، ہر جگہ کم و بیش تمام کہانیوں میں دور کی کوڑی لانے کے بجائے انھوں نے آس پاس ہی پنپ رہی کہانیوں کو لفظی پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی سادہ بیانی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غیرضروری طور پر کہانیوں کو دور از کار تشبیہات و استعارات یا علامتوں سے گراں بار نہیں ہونے دیتے۔ آپ جب ان کی کہانیاں پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے کردار آپ کے لیے اجنبی نہیں اور اسلوبِ اظہار تو خیر سادہ ہے ہی جو کہ کہانی کو انتشار و زولیدگی سے بچا لیتا ہے۔“موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
