Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ozair Anjum's Photo'

معروف افسانہ نگار اور صحافی

معروف افسانہ نگار اور صحافی

عزیر انجم کا تعارف

پیدائش : 16 May 1965 | مشرقی چمپارن, بہار

عزیر انجم کی ولادت 16 مئی 1965ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد سجاد حسین جب کہ والدہ محترمہ کا نام رقیبہ بیگم ہے۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ روزنامہ ”قومی تنظیم“، پٹنہ کے بیورو چیف بھی ہیں۔جہانِ ادب میں بحیثیت افسانہ نگار اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ پہلے افسانوی مجموعے کا نام ”آدمی کی بستی میں“ ہے جس کی اشاعت 2009 میں ہوئی تھی جب کہ دوسرے افسانوی مجموعے کا نام “انجام“ ہے جس کی اشاعت 2016 میں ہوئی تھی۔
مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر کوثر مظہری فرماتے ہیں کہ
”کہانی ہر انسان کے اندر پرورش پاتی ہے۔ لیکن اس کی پرورش و پرداخت ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ عزیر انجم میرے گہرے دوست ہیں اور سماجی سطح پر وہ بے حد فعال ہیں۔ واضح رہے کہ کہانی خلاء میں جنم نہیں لیتی بلکہ وہ اسی سماج اور سیاسی تناظر کی زائیدہ ہوتی ہے۔ عزیر انجم کے تجربے اور مشاہدے اپنے نجی ہیں۔ لہٰذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کہانیوں کے مجموعے ”انجام“ کی بات کی جائے یا اسے قبل شائع ہونے والے ”آدمی کی بستی میں“ کا ذکر ہو، ہر جگہ کم و بیش تمام کہانیوں میں دور کی کوڑی لانے کے بجائے انھوں نے آس پاس ہی پنپ رہی کہانیوں کو لفظی پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی سادہ بیانی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غیرضروری طور پر کہانیوں کو دور از کار تشبیہات و استعارات یا علامتوں سے گراں بار نہیں ہونے دیتے۔ آپ جب ان کی کہانیاں پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے کردار آپ کے لیے اجنبی نہیں اور اسلوبِ اظہار تو خیر سادہ ہے ہی جو کہ کہانی کو انتشار و زولیدگی سے بچا لیتا ہے۔“

Recitation

بولیے